ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

سال 2014 میں کشمیر میں ملک سے بغاوت کا ایک بھی معاملہ نہيں آیا پیش ، جھارکھنڈ سر فہرست

نئی دہلی : جواہر لال نہرو یونیورسٹی طلبہ یونین (جے این یو ایس یو)کے صدر کنہیا کمار کے خلاف تعزیرات ہند کی جس دفعہ 124 (اے) کے تحت ملک سے بغاوت کا معاملہ درج کیا گیا ہے اس کے تحت سال 2014 میں جموں و کشمیر میں ایک بھی مقدمہ درج نہیں کیا گیا جبکہ نکسل متاثر ہ ریاست جھارکھنڈ اس معاملے میں سرفہرست رہی۔

  • UNI
  • Last Updated: Feb 21, 2016 06:44 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
سال 2014 میں کشمیر میں ملک سے بغاوت کا ایک بھی معاملہ نہيں آیا پیش ، جھارکھنڈ سر فہرست
نئی دہلی : جواہر لال نہرو یونیورسٹی طلبہ یونین (جے این یو ایس یو)کے صدر کنہیا کمار کے خلاف تعزیرات ہند کی جس دفعہ 124 (اے) کے تحت ملک سے بغاوت کا معاملہ درج کیا گیا ہے اس کے تحت سال 2014 میں جموں و کشمیر میں ایک بھی مقدمہ درج نہیں کیا گیا جبکہ نکسل متاثر ہ ریاست جھارکھنڈ اس معاملے میں سرفہرست رہی۔

نئی دہلی : جواہر لال نہرو یونیورسٹی طلبہ یونین (جے این یو ایس یو)کے صدر کنہیا کمار کے خلاف تعزیرات ہند کی جس دفعہ 124 (اے) کے تحت ملک سے بغاوت کا معاملہ درج کیا گیا ہے اس کے تحت سال 2014 میں جموں و کشمیر میں ایک بھی مقدمہ درج نہیں کیا گیا جبکہ نکسل متاثر ہ ریاست جھارکھنڈ اس معاملے میں سرفہرست رہی۔


قومی جرائم ریکارڈ بیورو کی جانب سے جاری کی جانے والی اعداد و شمار کے مطابق 2014 میں ملک مخالف جرائم کے سب سے زیادہ 47 مقدمات دفعہ 124 (اے) کے تحت ہی درج کئے گئے تھے۔ جرائم بیورو نے ملک مخالف جرائم کے تحت درج شدہ مقدمات کی اعداد و شمار گزشتہ سال پہلی بار جاری کیا تھا۔


یہ بے حد حیرانی کی بات ہے کہ دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ ریاست جموں و کشمیر میں جہاں آئے دن پاکستان کی حمایت میں ملک مخالف نعرے لگتے رہتے ہیں اور حکومت کے خلاف مظاہرے ہوتے ہیں، وہاں غداری کا ایک بھی مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔


جھارکھنڈ میں اس دوران غداری کے سب سے زیادہ 18 معاملے درج ہوئے جبکہ ماؤنوازوں کے تشدد سے سب سے زیادہ متاثر ہ ریاست چھتیس گڑھ میں اس نوعیت کا صرف ایک ہی معاملہ درج کیا گیا۔ ریکارڈ کے مطابق 2014 میں بہار میں ملک کے خلاف جرائم کے 20 کیس درج ہوئے ، لیکن ان میں سے صرف 16 معاملات کو غداری کا معاملہ بتایا گیا ہے۔ یہ سارے معاملے مشتبہ ماؤنوازوں کے خلاف ہی درج کئے گئے تھے۔


جرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق شمال مشرقی ریاستوں میں ملک کے خلاف جرائم کے 100 مقدمات درج ہوئے تھے جن میں سے سب سے زیادہ 56 معاملے آسام میں درج ہوئے لیکن ان میں سے دفعہ 124 (اے) کے تحت غداری کا مقدمہ صرف ایک ہی بنا جبکہ میگھالیہ میں درج 32 مقدمات میں سے غداری کا ایک بھی کیس نہیں بن سکا ۔ قومی دارالحکومت دہلی ایسے معاملات سے مکمل طور پر پاک رہا ہے۔ تاہم کیرالہ میں درج ایسے سات مقدمات میں سے صرف پانچ غداری کے زمرے میں شمار کئے گئے۔


کنہیا کمار جیسے کسی طالب علم لیڈر کے خلاف غداری کا مقدمہ پہلی بار درج نہیں ہوا ہے، اس سے پہلے بھی ایسا ہوتا رہا ہے ۔ سال 1984 میں سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد ایک شخص کی جانب سے خالصتان زندہ باد کے نعرے لگانے پر اس کے خلاف پولس نے بغاوت کا مقدمہ درج کیا تھا لیکن بعد میں سپریم کورٹ نے اسے بری کر دیا تھا۔


سال 2012 کے ستمبر میں پولس نے ممبئی میں ایک کارٹونسٹ اسیم ترویدی کو ہندوستانی آئین اور قومی نشان کا کارٹون بنا کر مذاق اڑانے کے جرم میں غداری کے الزام ​​میں گرفتار کر لیا گيا تھا لیکن ان کی گرفتاری کی کافی مخالفت ہونے پر انہیں بعد میں رہا کر دیا گیا تھا۔


مارچ 2014 میں ٹیلی ویژن پر ایشیا کپ کرکٹ کا فائنل میچ دیکھتے وقت پاکستان کی حمایت میں نعرے لگانے کے لئے میرٹھ کے وویکانند سبھارتي یونیورسٹی کے 67 کشمیری طالب علموں کے خلاف بھی غداری کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ لیکن سیاسی ہنگامہ کھڑا ہونے پر اسے واپس لے لیا گیا تھا۔ اسی طرح تریواننت پورم میں فلسفہ کی تعلیم حاصل کرنے والے ایک طالب علم سلمان زلمان پر قومی ترانہ کے احترام میں کھڑا نہیں ہونے پر بغاوت کا مقدمہ بنا دیا گیا تھا۔ 


کنہیاکمار سے پہلے غداری کے الزامات کے تحت گرفتاری کا تازہ معاملہ گجرات میں پٹیل ریزرویشن کی قیادت کرنے والے طالب علم لیڈر ہاردک پٹیل کا ہے۔ گجرات پولس نے ہاردک پٹیل کو اکتوبر 2015 میں غداری کے کیس میں ہی پکڑا تھا۔ دفعہ 124 (اے) جس کے تحت غداری کا الزام طے کیا جاتا ہے ہمیشہ ہی تنازعات میں رہی ہے۔


کنہیا کمار کے معاملے کے بعد اس دفعہ کے ساتھ ایک اور تنازعہ جڑ گیا ہے کہ تعزیرات ہند میں یہ دفعہ الگ وجود کی حیثیت نہیں رکھتی بلکہ ملک مخالف جرائم کے لئے مقرر ہ مختلف دفعات کا ہی ایک حصہ ہے۔ یہ دفعات کو 121 سے لے کر 124 (اے) کے طور پر مذکور ہیں۔

First published: Feb 21, 2016 06:44 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading