உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    زبان کا کوئی مذہب نہیں ہوتا: قومی اردوکونسل کی چھٹی عالمی اردوکانفرنس کی اختتامی تقریب میں پروفیسراخترالواسع کا اظہارخیال

    فائل فوٹو

    فائل فوٹو

    قومی اردوکونسل کے ڈائرکٹرڈاکٹرشیخ عقیل احمد نےعالمی اردوکانفرنس کے تمام شرکا اوراسٹاف کا شکریہ ادا کیا۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی: قومی اردوکونسل کی چھٹی عالمی اردوکانفرنس کے اختتامی اجلاس میں مولانا آزاد یونیورسٹی جودھپورکے صدرپروفیسراخترالواسع نے آج کہا کہ زبانیں مکالمے کیلئے ہوتی ہیں، مجاولے کے لئے نہیں ۔ زبان کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ہے۔ مذہب کو زبانوں کی ضرورت ہوتی اس لئے اردو کو اسلام یا کسی بھی مذہب سے نہیں جوڑا جائے۔ اردو کے قاری آج مدارس کی بدولت موجود ہیں اوراگررابطے کی زبان ہے تو وہ ممبئی کی فلم اورتفریحی صنعت کی دین ہے۔
      انہوں نےعالمی اردوکانفرنس کوایک نہایت کامیاب کانفرنس قراردیتے ہوئے کہا کہ یہاں موجود ہرشخص شیخ عقیل کا قتل بن کر جارہا ہے۔ اس اجلاس میں اردو کے حقیقی مسائل اور ا ن کے حل پرگفتگو کی گئی۔ انہوں نے تین روزہ عالمی اردو کانفرنس کی قرارداد بھی پیش کی۔

      اس سے قبل چھٹی عالمی اردو کانفرنس کے تیسرے دن کا پہلا اجلاس ’ذرائع ابلاغ اور اردو‘ کے موضوع پر منعقد ہوا جس کی صدارت اے جے کے ماس کمیونی کیشن، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق ڈائرکٹرپروفیسرافتخاراحمد نے کی۔ اس سیشن میں مرزا عبدالباقی بیگ، صابر گودڑ، پروفیسر مرنال چٹرجی، عبدالسمیع اور پروفیسرغیا ث الرحمان سید نے مقالے پڑھے۔ جلسہ کی صدارت کرتے ہوئے پروفیسر افتخاراحمد نے مقالوں پراظہارخیال کیا اور ذرائع ابلاغ میں اردوکی اہمیت پرروشنی ڈالی۔ پروفیسرمرنال چٹرجی نے اپنے مقالے میں کہا کہ اردومذہبی زبان ہرگزنہیں ہے۔ اس سیشن کی نظامت روزنامہ ’انقلاب ‘ کے بیورو چیف ڈاکٹرممتازعالم رضوی نے کی۔
      کانفرنس کا ساتواں اجلاس آئین اور دوسرے قوانین میں اردو کا مقام کے موضوع پر ہوا جس کی صدارت جسٹس سہیل اعجاز صدیقی نے کی۔ اس میں پروفیسر شبیر احمد، ڈاکٹر محسن بھٹ، پروفیسر نزہت پروین، مسٹر واجہ عبدالمنتقم نے مقالے پڑھے۔ صدارتی خطاب پیش کرتے ہوئے جسٹس سہیل اعجاز صدیقی نے کہاکہ زبانوں کا کوئی ملک نہیں ہوتا۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو بنیادی حقوق فراہم کرنے کی کوشش کرے ۔ انہوں نے بتایا کہ ہندستان کےآئین میں اردوزبان کواختیارکرنے کا بنیادی حق دیا گیا ہے۔ انہوں نے آرٹیکل 29اور30کا حوالہ دیتے ہوئے مادری زبان اوربنیادی تعلیم سے متعلق تفصیلی گفتگوکی اور بتایا کہ آئین ہمیں ہماری زبان میں بنیادی تعلیم حاصل کرنے کا حق دیتا ہے۔ اس سیشن کی نظامت کے فرائض معروف صحافی اورنیوز18 اردو کے ایڈیٹرتحسین منورنے بحسن و خوبی انجام دیئے۔
      اختتامی جلسہ کی صدارت پروفیسر اخترالواسع نے کی۔ اس سیشن میں قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے عالمی اردو کانفرنس کے تمام شرکا کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہاں بے حد حقیقی مقالے پڑھے گئےاورملک کی مختلف یونیورسٹوں سے تقریباََ 60 ریسرچ اسکالروں نے بھی شرکت کی۔ انہوں نے مقالے بھی لکھے۔ ہم ان تمام مقالوں کو کانفرنس کے مقالوں پرمبنی کتاب میں شامل کریں گے۔ انہوں نے تمام حاضرین اورقومی اردو کونسل کے تمام اسٹاف کا بھی شکریہ ادا کیا۔ سہ روزہ کانفرنس میں دہلی کی مختلف یونیورسٹیوں کے اساتذہ و طلبا کے ساتھ ساتھ اردو کے شیدائیوں کی بڑی تعداد بھی موجود رہی۔
      First published: