உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بہار میں پانی کے اندر سے ایک مسجد برآمد، علاقہ کے مسلمانوں میں خوشی اور تجسس کے جذبات

    تصویر مسلم مرر

    تصویر مسلم مرر

    مسجد کے پانی کے اندر سے ابھرنے کے بعد مقامی لوگوں میں تجسس پیدا ہوا ہے اور بہت سے نوجوان اس جگہ کو دیکھتے ہی وہاں پر جمع ہو رہے ہیں۔ مسجد کے قریب حوض بھی بنا ہوا ہے۔ وہ یہاں ایک مسجد دیکھ کر کافی حیران ہوئے۔ بہت سے نوجوان کیچڑ سے گزرتے ہوئے مسجد کے اطراف جمع ہوے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Bihar Sharif, India
    • Share this:
      بہار کے ضلع نوادہ میں خشک سالی کا اثر ایک مسجد کے ابھرنے کے بعد ظاہر ہوا ہے جو پھولواریہ ڈیم (Phulwaria Dam) کے پانی میں ڈوبی ہوئی تھی اور اب تین دہائیوں تک زیر آب رہنے کے بعد اوپر نظر آرہی ہے۔ جو کہ صحیح سلامت ہے۔ پرانے زمانے کے لوگ اس مسجد کا نام نوری مسجد (Noori Masjid) کے نام سے یاد کرتے ہیں جو کہ 1985 میں پھلواریہ ڈیم کی تعمیر کے بعد زیر آب آگئی تھی۔

      مسجد کے پانی کے اندر سے ابھرنے کے بعد مقامی لوگوں میں تجسس پیدا ہوا ہے اور بہت سے نوجوان اس جگہ کو دیکھتے ہی وہاں پر جمع ہو رہے ہیں۔ مسجد کے قریب حوض بھی بنا ہوا ہے۔ وہ یہاں ایک مسجد دیکھ کر کافی حیران ہوئے۔ بہت سے نوجوان کیچڑ سے گزرتے ہوئے مسجد کے اطراف جمع ہوے۔ بہت سے ایسے بھی تھے جو مسجد کے اندر داخل ہوئے لیکن یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ اس کی عمارت مکمل طور پر برقرار ہیں۔ یہ مسجد کا سب سے دلکش حصہ ہے۔ کئی دہائیوں تک زیر آب رہنے کے بعد بھی ڈھانچے کو کوئی معمولی نقصان نہیں پہنچا۔

      پہلے جب پانی کی سطح کم ہو جاتی تھی تو مسجد کے گنبد کا ایک حصہ نظر آتا تھا اور لوگ پہچان نہیں پاتے تھے کہ یہ سب کیا ہے۔ اب جب وہ مسجد کو کھلے میں دیکھتے ہیں، تو ان کو سکون ملتا ہے۔ اب وہ آسانی سے چل کر مسجد کو دیکھ سکتے ہیں اور اس عمارت کے فن تعمیر کا مزہ لے سکتے ہیں۔ مسجد کی زمین سے بالائی گنبد تک اونچائی تقریباً 30 فٹ ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:

      کرناٹک میں کم عمر کی شادی کا رواج، لڑکیوں میں تعلیم کے فقدان کا سبب، نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی رپورٹ جاری


      اس زیر آب مسجد کا پس منظر یہ ہے کہ یہ 1979 میں پھلواریہ ڈیم کی تعمیر پر کام شروع ہونے سے پہلے موجود تھی۔ اس جگہ پر بڑی آبادی رہتی تھی جنہیں ڈیم کی تعمیر کے لیے انھیں بے دخل کیا گیا تھا۔ پورا علاقہ حکومت نے حاصل کر لیا اور وہاں رہنے والے لوگوں کو نوادہ ضلع کے راجولی بلاک کے ہردیہ گاؤں میں منتقل کر دیا گیا۔ پھولواریہ ڈیم کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد بھی مسجد کو اچھوت چھوڑ دیا گیا۔ ڈیم کے پانی کے ذخائر کی وجہ سے مسجد زیر آب آگئی۔ اب مسجد دوبارہ عوام کی نظروں میں آ گئی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں: 

      مقامی مساجد میں جمعہ کی نماز ادا کریں، حیدرآباد میں علماء اور تنظمیوں کے ذمہ داران کی اپیل


      بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ مسجد 20ویں صدی کے اوائل میں تعمیر کی گئی تھی اور اب یہ 120 سال پرانی ہوچکی ہے۔ مسجد کے گنبد کے فن تعمیر کو دیکھ کر ایسا نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے جو کہ بعد کے مغلوں کے زمانے میں بنائے گئے گنبدوں کی شکل و صورت میں بہت زیادہ مشابہت رکھتا ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: