ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

انشاءاللہ جموں کشمیرمیں صدرریاست اوروزیراعظم کےعہدوں کوبحال کریں گے: عمرعبداللہ

نیشنل کانفرنس کے نائب صدرنےکہا کہ جموں وکشمیرکی خصوصی پوزیشن کومزید نقصان پہنچانے کی کسی کواجازت نہیں دی جائے گی۔

  • Share this:
انشاءاللہ جموں کشمیرمیں صدرریاست اوروزیراعظم کےعہدوں کوبحال کریں گے: عمرعبداللہ
عمر عبداللہ: فائل فوٹو۔

بانڈی پورہ: نیشنل کانفرنس کے نائب صدرعمرعبداللہ نے کہا کہ جموں وکشمیرکی خصوصی پوزیشن کومزید نقصان پہنچانے کی کسی کواجازت نہیں دی جائے گی، ہم چھینے گئے تمام مراعات کو واپس لانے کے لئے جدوجہد کریں گے اورانشاءاللہ صدرِریاست اوروزیراعظم کےعہدوں کوبحال کریں گے۔

عمرعبداللہ نےایک انتخابی جلسے کوخطاب کرتے ہوئےکہا کہ پارلیمانی انتخابات کوئی معمولی الیکشن نہیں کیونکہ بقول ان کے'آج ہماری خصوصی پوزیشن پرطرح طرح کے حملے ہورہے ہیں، آج ہماری انفرادیت کے خلاف طرح طرح کی سازشیں رچائی جارہی ہیں اوربڑی بڑی طاقتیں ہماری پہچان کومٹانے کے لئے نکلے ہیں، یہی وجہ ہے کہ موجودہ الیکشن کومعمولی سمجھنا بہت بڑی غلطی ہوگی'۔ جلسے سے پارٹی جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، صوبائی صدرناصراسلم وانی اورسینئرلیڈرمیاں الطاف نےبھی خطاب کیا۔


نیشنل کانفرنس کے نائب صدرنےاپنے خطاب میں کہا کہ 'بی جے پی کے صدرامت شاہ کہتےہیں کہ 2020 میں دفعہ 35اے کوہٹانےکا کام کریں گے جبکہ اس سے پہلے وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے دفعہ 35 اے اوردفعہ 370 کوختم کرنےکی دھمکی دی ہے، ان لوگوں کوذہن نشین کرلینا چاہئے کہ جموں وکشمیرباقی ریاستوں کی طرح نہیں ہے، ہم نے الحاق سے پہلےشرائط رکھیں، ہم مفت میں نہیں آئے ہیں، ہم نے اپنی پہنچان کوبنائے رکھنےکےلئے آئین میں کچھ چیزیں درج کروائیں۔


انہوں نےکہا کہ ہم نےشرط رکھی کہ ہماری پہچان اپنی ہوگی، ہمارا آئین اپنا ہوگا، ہمارا جھنڈا اپنا ہوگا، اپنا صدرریاست اوراپنا وزیراعظم بھی ہوگا، آپ ہمارا مقابلہ دیگرریاستوں کے ساتھ نہیں کرسکتے، آپ 70سال کے بعد الحاق کوغلط نہیں کہہ سکتے، اگرآپ مشروط الحاق کی شرائط کو کاٹنے کی بات کرتے ہوتوپھرآپ کوالحاق پربھی دوبارہ بات کرنی ہوگی۔ ہم آپ کو خصوصی پوزیشن کومزید نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیں گے بلکہ ہم چھینےگئے تمام مراعات کوواپس لانےکےلئے جدوجہد کریں گےاورانشاءاللہ صدرِریاست اوروزیراعظم کو بھی واپس لائیں گے'۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ بی جے پی اورآرایس ایس کے بقول ان کے'مقامی آلہ کاروں' سےعوام کوہوشیارکرتےہوئے این سی نائب صدرنےکہا کہ اُن جماعتوں اورلیڈروں پربھروسہ نہیں کیا جانا چاہئے، جنہوں نے گذشتہ برسوں کے دوران بھی خصوصی پوزیشن کو نقصان پہنچانے میں بھاجپا کا ساتھ دیا، پھر چاہئے وہ قلم دوات والے ہوں یا کوئی اور۔ یاد کیجئے گذشتہ2015 کے بعد بی جے پی کے ساتھ مل کران لوگوں نے کس طرح سے ریاست کی خصوصی پوزیشن کوزک پہنچائی، پھرچاہئے وہ جی ایس ٹی کا اطلاق ہو، سرفیسی ایکٹ ہو، فوڈ سیکورٹی قانون ہو، یا دیگرمرکزی قوانین جنہیں ریاست پر لاگو کیا گیا۔
First published: Apr 01, 2019 10:53 PM IST