உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اردو زبان کے آفاقی کردار کو روشناس کرانے کے لئے قومی اردو کونسل کی عالمی کانفرنس

    قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائریکٹر پروفیسر ارتضی کریم: فائل فوٹو۔

    قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائریکٹر پروفیسر ارتضی کریم: فائل فوٹو۔

    قومی کونسل برائے فروغ زبان اردو نے اردو زبان و ادب کے اسی آفاقی اور عالمی کردار کو روشناس کرانے کیلئے کل سے یہاں تین روزہ عالمی کانفرنس کا انعقاد کیا ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی۔ اس استدلال کے ساتھ کہ موجودہ عالمی مسائل کے حوالے سے اردو زبان کا کردار بہت فعال اور مثبت رہا ہے اور اس نے عالمی مسائل کی تفہیم و تعبیر میں، انسانی اقدار پر مبنی ایک نیا زاویہ بھی اختیار کیا ہے، قومی کونسل برائے فروغ زبان اردو نے اردو زبان و ادب کے اسی آفاقی اور عالمی کردار کو روشناس کرانے کیلئے کل سے یہاں تین روزہ عالمی کانفرنس کا انعقاد کیا ہے۔ کانفرنس کی تفصیلات سے میڈیا کوآگاہ کراتے ہوئے کونسل کے ڈائریکٹر پروفیسر ارتضی کریم نے آج بتایا کہ’اردو زبان و ثقافت اور موجودہ عالمی مسائل‘ کے مرکزی موضوع پر منعقد اس پانچویں عالمی کانفرنس میں گلوبلائزیشن کے اس دورمیں مختلف سطحوں پر جو عالمی مسائل ہیں ان کے حوالے سے گفتگو کی جائے گی اور یہ واضح کیا جائے گا کہ اردو زبان نے کسی بھی عالمی مسئلے سے گریز نہیں کیا ہے اور تمام تر عالمی مسائل اس کے احساس و ادراک کا حصہ رہے ہیں۔


       ارتضی کریم نے بتایا کہ کانفرنس کا افتتاح انسانی وسائل کے فروغ کے وزیر مملکت ڈاکٹر ستیہ پال سنگھ کریں گے جب کہ اقلیتی امور کے مرکزی وزیر مختار عباس نقوی تقریب کی صدارت کریں گے۔ اس موقع پر کونسل کے سابق ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد حمید اللہ بھٹ کلیدی خطبہ دیں گے ۔ افتتاحی اجلاس سے خطاب کرنے والوں میں شیام جاجو، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد ، پروفیسر بیگ احساس اور رئیس خان پٹھان وغیرہ شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس کانفرنس میں ہندوستان کے علاوہ امریکہ، کناڈا، بنگلہ دیش، ماریشس ، ترکی ، دوحہ ،ا زبکستان ، قطر سے اردو زبان و ادب کے فروغ سے وابستہ اہم شخصیات شرکت کریں گی۔


      قومی کونسل برائے فروغ اردو کے ڈائریکٹر نے تاہم ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اس کانفرنس میں پاکستان سے کوئی شرکت نہیں کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور کناڈا میں رہنے کے باوجود پاکستانی نزاد ہونے کی وجہ سے بعض افراد کو ویزا ملنے میں دشواری ہوتی ہے جس کی وجہ سے اس عالمی کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی نہیں ہوسکے گی۔انہوں نے تاہم امید ظاہر کی کہ یہ صورت حال جلد ہی بدلے گی۔ ارتضی کریم نے اردو زبان کے فروغ و اشاعت میں موجودہ حکومت کی طرف سے مکمل تعاون کا ذکر کرتے ہوئے کہا ’’ اس وقت این سی پی یو ایل کو جتنا بجٹ مل رہا ہے اتنا پاکستان میں بھی اردو کے کسی ادارہ کو نہیں ملتا ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ ملک اور یہ حکومت اس زبان کی مکمل سرپرستی کر رہی ہے۔‘‘

      First published: