ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اردو میں دوسری زبانوں کے گوہرِ نایاب لانے کی ضرورت: ارتضیٰ کریم

نئی دہلی۔ قومی اردو کونسل کا مقصد یہ نہیں ہے کہ صرف میرو غالب اور داغ پر کتابیں لائی جائیں بلکہ دوسرے علوم و فنون میں جو جواہرات ہیں انہیں اردو زبان میں ترجمہ کرایا جائے تاکہ قارئین اردو زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرسکیں۔

  • UNI
  • Last Updated: Feb 04, 2016 07:41 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
اردو میں دوسری زبانوں کے گوہرِ نایاب لانے کی ضرورت: ارتضیٰ کریم
نئی دہلی۔ قومی اردو کونسل کا مقصد یہ نہیں ہے کہ صرف میرو غالب اور داغ پر کتابیں لائی جائیں بلکہ دوسرے علوم و فنون میں جو جواہرات ہیں انہیں اردو زبان میں ترجمہ کرایا جائے تاکہ قارئین اردو زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرسکیں۔

نئی دہلی۔  قومی اردو کونسل کا مقصد یہ نہیں ہے کہ صرف میرو غالب اور داغ پر کتابیں لائی جائیں بلکہ دوسرے علوم و فنون میں جو جواہرات ہیں انہیں اردو زبان میں ترجمہ کرایا جائے تاکہ قارئین اردو زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرسکیں۔ اس توضیح کے ساتھ کونسل کے ڈائرکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم نے سوشل سائنس پینل میٹنگ میں آج کہا کہ کونسل یہ بھی چاہتی ہے کہ ایسے علمی موضوعات جس کا اردو میں فقدان ہے اسے اوریجنل یا تراجم کے ذریعے اردو میں لایا جائے ۔ اس پروگرام کا انعقاد قومی اردو کونسل کے صدر دفتر (جسولہ) میں کیا گیاتھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ابن خلدون کی 14جلدوں پر مشتمل عربی زبان میں جو کتاب ہے اس کا اردو میں ابھی تک ترجمہ نہیں کیا جا سکا ہے۔ کونسل کی پہل پر اس کی پہلی جلد شائع ہو چکی ہے جب کہ دوسری اور تیسری جلد زیر غور ہے۔


محترمہ سیدہ سیدین حمید نے اس موقع پر کونسل کے اقدامات کی تعریف کی اور امید ظاہر کی کہ معینہ مدت میں ’تاریخ ابن خلدون‘ کی تمام جلدوں کے تراجم کرا لیے جائیں گے۔ پروفیسر رضوان قیصر نے کہا کہ تاریخ ابن خلدون کے انگریزی میں تراجم موجود ہیں ۔اردو میں اس کا مکمل ترجمہ ہو جائے تو اردو والوں کے لیے یہ گوہر نایاب ہوگا۔ اردو زبان میں علمی موضوعات پر ایسی کتابوں کی کمی محسوس کی جاتی ہے۔ کونسل اس سمت میں جو اقدامات اٹھانے جا رہی ہے وہ قابل ستائش ہے۔


مسٹرنریش ندیم نے کہا کہ اردو میں لکھنے والوں کی اکثریت جہاں ادب اور تنقید تک محدود ہے وہیں سائنس ، سوشل سائنس، میڈیا اور جدیدعلوم و فنون جیسے موضوعات پر بھی ترجیحی طور پر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم دوسری زبانوں کے مد مقابل کھڑے ہوپائیں ۔

First published: Feb 04, 2016 07:02 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading