உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کوئی اور نہیں ہم خود اردو کے دشمن ہیں: پروفیسر ارتضی کریم

    این سی پی یو ایل کے ڈائریکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم: فائل فوٹو

    این سی پی یو ایل کے ڈائریکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم: فائل فوٹو

    نئی دہلی۔ اردو اداروں اوراردو شعبوں کی بدحالی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائرکٹر پروفیسر ارتضی کریم نے کہا کہ کوئی اور نہیں ہم خود اردو کے دشمن ہیں۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی۔ اردو اداروں اوراردو شعبوں کی بدحالی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائرکٹر پروفیسر ارتضی کریم نے کہا کہ کوئی اور نہیں ہم خود اردو کے دشمن ہیں۔ یہ بات انہوں نے کل قومی اردو کونسل کی سہ رو زہ عالمی کانفرنس کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ کانفرنس کا موضوع ’اردو زبان وثقافت اور موجودہ عالمی مسائل‘ تھا۔


      انہوں نے اردو شعبوں کی زبوں حالی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر شعبہ کے اساتذہ اپنے مطالعہ میں اضافہ کریں تو نہ صرف اردو مالا مال ہوسکتی ہے بلکہ اس سے اساتذہ کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صورت حال یہ ہوگئی ہے کہ متعدد شعبہ اردو کے شعبہ ہائے میں تبدیل ہوگئے ہیں اوراساتذہ کی عادت ہوگئی ہے کہ وہ مطالعہ کے سواتمام کام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اپنے ملک اور مٹی سے اردو زبان کی جو گہری وابستگی ہے وہ جگ ظاہر ہے۔ ہمارے ادیبوں نے تہذیبی معاشرتی اقدار کی بقا کے تحفظ کے لیے جو کوششیں کی ہیں وہ قابل قدر ہیں اور اردو لسانی علاقائی یا مذہبی بنیاد پر نہیں بلکہ تہذیبی بنیاد پر پوری دنیا میں اپنا وقار اور اعتبار قائم کیے ہوئے ہے اور اس زبان میں پوری دنیا کے مسائل کا حل موجود ہے۔


      سنٹرل کشمیر یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹرمعراج میر نے کہا کہ اگر ہم اردو کے تئیں بیدار نہیں ہوئے تو اس کا وجود مٹ جائے گا کیوں کہ بعض اردو دشمن طاقتیں اردو کو دوسری زبان میں ضم کرنے پر آمادہ نظر آ رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں اس کا بھی جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ ہم اردو سے دور ہوگئے ہیں یا اردو ہم سے دور ہوگئی ہے۔ انہوں نے بھی بعض یونیورسٹیوں کے شعبہ اردو کی عدم فعالیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بعض شعبہ اردو کی کارکردگی قابل اطمینان بخش نہیں ہے اور وہ اردو کا اعلی معیار قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

      First published: