اپنا ضلع منتخب کریں۔

    موہن بھاگوت نے دیا بڑا بیان، پسماندہ طبقات کی ترقی کیلئے پہلے ہماری ذہنیت میں تبدیلی ضروری

    موہن بھاگوت فائل فوٹو

    موہن بھاگوت فائل فوٹو

    آر ایس ایس کے سربراہ نے مزید کہا کہ سماجی مساوات ہندوستانی روایت کا حصہ ہیں، لیکن اسے بھلا دیا گیا اور اس کے نقصان دہ نتائج نکل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پچھلی نسلوں نے غلطیاں کیں اور ہندوستان بھی اس سے مستثنیٰ نہیں تھا۔ ان غلطیوں کو قبول کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہئے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Mumbai | Jammu | Delhi | Ahmadabad | Hyderabad
    • Share this:
      راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) کے سربراہ موہن بھاگوت (Mohan Bhagwat) نے اتوار کو کہا کہ محض قوانین وضع کرنے سے پسماندہ طبقوں کی مدد نہیں ہوگی اور ان کی ترقی کے لیے دل و دماغ میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ ان کا یہ ریمارکس ان دنوں سامنے آیا جب انہوں نے ورن اور جاتی (ذات) کے تصورات کو ختم کرنے پر زور دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ہر وہ چیز جو امتیازی سلوک کا باعث بنتی ہے اسے ہمیشہ کے لیے ختم کردینا چاہیے‘۔

      مہارشی والمیکی کے یوم پیدائش کے موقع پر کانپور کے نانا راؤ پارک میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھاگوت نے کہا کہ ملک میں آئین کو ترتیب دیتے وقت ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے ریمارک کیا تھا کہ پسماندہ سمجھے جانے والوں کو اب اس طرح سمجھا جائے گا کہ وہ برابر ہیں۔ قانون کے مطابق ان کو بھی برابری ملنی چاہیے۔

      انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ سب کچھ قانون کے قیام سے نہیں ہوگا، دل اور دماغ بدلنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قانون نے سیاسی اور معاشی آزادی فراہم کی ہے۔ یہ پوچھتے ہوئے کہ والمیکی برادری کی تعریف کیوں نہیں کی گئی؟ انہوں نے کہا کہ اگر بھگوان رام مہارشی والمیکی نہ ہوتے، تو ہم ان کے بارے میں نہیں جان پاتے۔ نارد جی نے انہیں مہاکاوی رامائن لکھنے کی ترغیب دی۔

      موہن بھاگوت نے کہا کہ والمیکی جینتی ہر اس شخص کے لیے اہم ہے جو انسان بننا چاہتا ہے، لوگ مہارشی والمیکی سے ہمدردی، لگن اور فرض سیکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کمیونٹی کے ممبران سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ سنگھ کے شاکھوں میں شامل ہوں۔ انہوں نے کہا کہ سنگھ والمیکی برادری کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے، ہم اپنی بہترین صلاحیتوں کے ساتھ آپ کے ساتھ ہیں، ہمارے کارکنان کسی بھی مسئلے میں مدد کے لیے موجود ہیں۔

      جمعہ کو ایک کتاب کے رسم اجرا کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے بھاگوت نے ذات پات کے نظام کو نکالنے پر زور دیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ ورن اور جاتی (ذات) کے تصورات کو بھلا دینا چاہیے۔ آج اگر کوئی اس کے بارے میں پوچھے تو سماج کے مفاد میں سوچنے والے ہر شخص کو بتانا چاہیے کہ ورن اور جاتی (ذات) کا نظام ایک قدیم تصور ہے۔ اسے بھلا دینا چاہیے۔

      آر ایس ایس کے سربراہ نے مزید کہا کہ سماجی مساوات ہندوستانی روایت کا حصہ ہیں، لیکن اسے بھلا دیا گیا اور اس کے نقصان دہ نتائج نکل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پچھلی نسلوں نے غلطیاں کیں اور ہندوستان بھی اس سے مستثنیٰ نہیں تھا۔ ان غلطیوں کو قبول کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہئے۔

      یہ بھی پڑھیں: 


      بھاگوت نے کہا کہ اگر آپ کو لگتا ہے کہ ہمارے باپ دادا نے غلطیاں کی ہیں تو اس کا اعتراف کرنا چاہیے، لیکن اکثر ایسا نہیں ہوگا، جب کہ ہر کسی کے آباؤ اجداد نے غلطیاں کی ہیں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: