உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    موجودہ عہد میں صرف تعلیم کی ہی نہیں بلکہ معیاری تعلیم کی ضرورت: ندیم اختر

    اگر ہندوستان کی سب سے بڑی اقلیت کے قائدین نے حکومتوں کی سرزنش کرنے کے بجائے اپنی ذمہداریوں کو سمجھا ہوتا اپنا محاسبہ کیا ہوتا تو صورت حال مختلف ہوتی۔ افسوسناک پہلو یہی ہے کہ کام کرنے کے بجائے تنقید کی گئی جس کا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے۔

    اگر ہندوستان کی سب سے بڑی اقلیت کے قائدین نے حکومتوں کی سرزنش کرنے کے بجائے اپنی ذمہداریوں کو سمجھا ہوتا اپنا محاسبہ کیا ہوتا تو صورت حال مختلف ہوتی۔ افسوسناک پہلو یہی ہے کہ کام کرنے کے بجائے تنقید کی گئی جس کا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے۔

    اگر ہندوستان کی سب سے بڑی اقلیت کے قائدین نے حکومتوں کی سرزنش کرنے کے بجائے اپنی ذمہداریوں کو سمجھا ہوتا اپنا محاسبہ کیا ہوتا تو صورت حال مختلف ہوتی۔ افسوسناک پہلو یہی ہے کہ کام کرنے کے بجائے تنقید کی گئی جس کا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے۔

    • Share this:
    لکھنئو جب جب ہمارے ملک میں اقلیتوں کی پسماندگی زبوں حالی اور ہمہ جہت زوال کی بات کی جاتی ہے تو اس کے پس منظر سے بہت سے اسباب ابھر کر سامنے آتے ہیں اقلیتی طبقے سے تعلق رکھنے والے دانشور یہ اعتراف کرتے ہیں کے اس زبوں حالی کے کئی اہم سبب ہیں لیکن جب ہم ماہرین تعلیم اور اہم دانش گاہوں سے تعلق رکھنے والے دانشوروں اور صاحب نظر لوگوں سے بات کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے اگر صحیح وقت پر تعلیم کا چراغ ہر گھر میں جلا دیا گیا ہوتا تو آج کا منظر نامہ تاریک نہیں بلکہ نہایت روشن ہوتا۔ معروف دانشور اور انٹگرل یونیورسٹی کے پرو چانسلر ڈاکٹر سید ندیم اختر کہتے ہیں کہ ہماری قوم و ملت کے بیشتر لوگوں کا المیہ یہ ہے کہ وہ اپنی ذمہداریاں قبول کرنے کے بجائے اپنے مسائل کے لئے یا تو حکومتوں یا دوسرے اداروں اور لوگوں کو ذمہدار ٹھہرا کر اپنا دامن جھاڑ لیتے ہیں جبکہ سچائی یہ ہے کہ بیشتر مسائل کے لئے اقلیتی طبقے کے لوگ بالخصوص ملک کی سب سے بڑی اقلیت کے لوگ خود ذمہ دار ہیں  ڈاکٹر سید ندیم اختر کے مطابق موجودہ عہد میں صرف تعلیم کی ہی نہیں بلکہ معیاری تعلیم کی ضرورت ہے۔

    خاص طور سے وہ معیاری تعلیم جو نئ نسل کی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر انہیں بہترین روزگار اور روشن مستقبل دے سکے۔ سرکاری اور نیم سرکاری اداروں، محکموں اور اعلیٰ عہدوں پر فائز ارباب قیادت پر تنقید کرنے کے بجائے پہلے خود اپنا محاسبہ کرنا چاہئے کہ ہم نے نئی نسل کے لئے کیا کیا ؟ اپنے سماج اپنے دیش کے لیے کیا کیا؟ کیا واقعی اقلیتی طبقے کی جانب سے تعلیم اور دیگر محاذوں پر سنجیدہ کوششیں کی گئی ہیں ؟ سید ندیم اختر کے ذریعے اٹھائے گئے سوال تلخ ضرور ہیں لیکن حقیقت اور سچائی پر مبنی ہیں۔ ایسے لوگ جو بدلتے ہوئے وقت اور تعلیمی تقاضوں کو اچھی طرح سمجھ کر کوئی حکمت عملی وضع کرکے بہتر کام کرنے کے لئے ہمہ وقت کوشاں رہتے ہیں۔ ان میں ایک نام انٹیگرل یونیورسٹی کے رجسٹرار پروفیسر محمد حارث صدیقی کا بھی ہے۔

    حارث صدیقی مانتے ہیں کہ گزرتے وقت کے ساتھ زندگی کے ہر شعبے میں تبدیلیاں آئی ہیں نئے نئے پیمانے اور معیار قائم ہورہے ہیں لہٰذا اگر وقت کے تقاضوں کو نہ سمجھا گیا تو آنے والے وقت میں حالات مزید خراب ہوجائیں گے وہ یہ بھی اعتراف کرتے ہیں کہ ہمارے ملک و معاشرے میں پروفیسر سید وسیم اختر جیسے جذبے رکھنے اور قربانیاں دینے والے لوگوں کی ضرورت ہے جنہوں نے ملک و ملت کی بے لوث خدمت کے لیے اپنی زندگی کو ایک تعلیمی مشن میں تبدیل کردیا، بنیادی بات یہی ہے کہ لوگوں کو احساس کمتری سے باہر نکل کر خود اعتمادی کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ تیرگی سے باہر نکلنے کے لئے اپنے چراغ خود جلانے ہوں گے نئے سورج خود اُگانے ہوں گے تب کہیں منظر نامہ روشن ہوسکے گا۔

    نہ صرف Monkeypox اور کورونا، بچوں پر منڈرا رہا ہے Encephalitisو Tomato Fever کا خطرہ

    سپریم کورٹ نے کاروباریوں کو دی بڑی راحت، GST میں پھنسے پیسے ملیں گے واپس

    سید ندیم اختر کے مطابق اگر وقت اور حالات کو سمجھ کر مناسب تدبیریں کر لی گئیں تو منزل دور نہیں بصورت دیگر کفِ افسوس ملنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچے گا ، ہم تو یہی چاہتے ہیں لوگ منفی رویوں کو چھوڑ کر خود آگے آئیں اور مثبت رجحان کے ساتھ پیش قدمی کریں ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: