உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    خواتین کو مزید با اختیار بنانے کی ضرورت

    دہلی : خواتین آج بھی پسماندہ کیوں ہے ، کیوں ملک کی بیٹیوں پر آج بھی ظلم ہوتے ہیں ، ماں ، بیٹی اور بہو کے طور پر اپنی ذمہ داری نبھانے والی خاتون کو اس کے حقوق کے لئے کس طرح بیدار کیا جائے

    دہلی : خواتین آج بھی پسماندہ کیوں ہے ، کیوں ملک کی بیٹیوں پر آج بھی ظلم ہوتے ہیں ، ماں ، بیٹی اور بہو کے طور پر اپنی ذمہ داری نبھانے والی خاتون کو اس کے حقوق کے لئے کس طرح بیدار کیا جائے

    دہلی : خواتین آج بھی پسماندہ کیوں ہے ، کیوں ملک کی بیٹیوں پر آج بھی ظلم ہوتے ہیں ، ماں ، بیٹی اور بہو کے طور پر اپنی ذمہ داری نبھانے والی خاتون کو اس کے حقوق کے لئے کس طرح بیدار کیا جائے

    • ETV
    • Last Updated :
    • Share this:
      دہلی : خواتین آج بھی پسماندہ کیوں ہے ، کیوں ملک کی بیٹیوں پر آج بھی ظلم ہوتے ہیں ، ماں ، بیٹی اور بہو کے طور پر اپنی ذمہ داری نبھانے والی خاتون کو اس کے حقوق کے لئے کس طرح بیدار کیا جائے، ان تمام مسائل پر بحث کے لئے دہلی کے اشوکا ہوٹل میں کئی بڑی ہستیاں یکجا ہوئیں ۔ دہلی کی سابق وزیر اعلی شیلا دکشت، فلم ساز مہیش بھٹ ، کانگریسی لیڈر پرمود تیواری، جے ڈی یو لیڈر کے سی تياگی، میڈیا اور ریڈیو سے وابستہ کئی بڑے ناموں کےساتھ ساتھ غیر ملکی شخصیات بھی اس پروگرام میں شامل ہوئیں ۔
      پاور فاؤنڈیشن كنكليو 2016 میں خواتین کو با اختیار بنانے پر بات چیت کرتے ہوئے سب نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ پروگرام کی آرگنائزر اور قومی خواتین کمیشن کی سابق ممبر ثمینہ شفیق نے کہا کہ ابھی بھی معاشرے میں ایسے لوگ موجود ہیں ، جو خواتین کو برابری کا درجہ نہیں دیتے ہیں ۔ اسی وجہ سے وہ خواتین کے حقوق کی جنگ لڑ رہی ہے۔
      کانگریس اور جےڈی یو رہنماؤں نے خواتین کو پارلیمنٹ میں 33 فیصد ریزرویشن کی بات پرزور دیا۔ مقررین نے کہا کہ آزادی کے 68 سال بعد بھی خواتین کو اپنے حقوق کی جنگ لڑنی پڑ رہی ہے۔ ان کو بااختیار بنانے کے لئے سنجیدگی سے کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ کیونکہ ایک خاتون کا مضبوط ہونا ہی پورے کنبہ کو آگے بڑھاتا ہے۔
      First published: