உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کسانوں کی تحریک کے پیچھے 'انتشار پسندوں' کو بے نقاب کرنے کی ضرورت، ملک کو ہو رہا ہے بڑا نقصان: بی جے پی

    بھارتیہ جنتا پارٹی نے جمعے کو کہا کہ ان مظاہرین کے پیچھے کے انتشار پسندوں کو بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ وہ ملک کو بڑا نقصان پہنچا رہے ہیں

    بھارتیہ جنتا پارٹی نے جمعے کو کہا کہ ان مظاہرین کے پیچھے کے انتشار پسندوں کو بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ وہ ملک کو بڑا نقصان پہنچا رہے ہیں

    بھارتیہ جنتا پارٹی نے جمعے کو کہا کہ ان مظاہرین کے پیچھے کے انتشار پسندوں کو بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ وہ ملک کو بڑا نقصان پہنچا رہے ہیں

    • Share this:
      دہلی ۔ ہریانہ سرحد پر کسانوں کے آندولن والی جگہ کے پاس  کنڈلی میں ایک شخص کا بھیڑ کے ذریعے پیٹ پیٹ کر قتل کیے جانے پر کسان لیڈران کو نشانے پر لیتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی نے جمعے کو کہا کہ ان مظاہرین کے پیچھے کے انتشار پسندوں کو بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ وہ ملک کو بڑا نقصان پہنچا رہے ہیں۔

      واضح ہو کہ ہریانہ کے سونی پت ضلع میں جمعے کو ایک شخص کی لاش بیری کیڈ سے لٹکی پائی گئی جس کے ہاتھ بھی کاٹ گئے تھے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ایک ویڈیو میں نظر آرہا ہے کہ کچھ نہنگ زمین پر خون میں لت پت پڑے شخص کے پاس کھڑے ہیں اور اس کا کٹا ہوا ہاتھ بھی وہی پڑا ہے۔

      کسان لیڈر راکیش تیکٹ اور سیاسی کارکن یوگیندر یاد پر نشانہ سادھا دتے ہوئے بی جے پی کے آئی ٹی سیل کے سربراہ امیت مالویہ نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ اگر ٹکیت نے لکھیم پور میں ہجوم کے ذریعے قتل کو جائز نہیں ٹھہرایا ہوتا ، جب یادو ان کی بغل میں خاموش بیٹھے تھے تو ن کنڈلی بارڈر پر شخص کا قتل نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ  ان مظاہروں کے پیچھے اچھے انتشار پسندوں کو بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے۔

      واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے بی جے پی کے ترجمان گور بھاٹیا نے کہا کہ یہ ایک ایک دردناک و بھیانک قتل ہے اور یہ کسانوں کا کام نہیں ہے جو دوسرے شہریوں کے لیے اپنی جان دے دیں گے۔

      ترنگے کی توہین کرنے والے کسان نہیں۔۔

      بھاٹیا نے ملزموں کے خلاف سخت کارروائی کی مانگ کرتے ہوئے کہا یہ پیشہ ور اور مظاہرین کو کسان بتا کر کر ملک کا بڑا نقصان کر رہے ہیں۔ جنہوں نے  بے قصور شخص کی جان لی ہے۔ خواتین ریپ کیا ہے ترنگے کی توہین کی ہے۔ یا پھر  عمل کے ردعمل کے طور پر  شہریوں کے قتل کو جائز ٹھہرایا ہے، انہیں کسان جا سکتا ہے۔

      پولیس کے مطابق مہلوک لکبھیر سنگھ ایک مزدور بتایا جاتا ہے جو پنجاب کے ترن تارن کا رہائشی تھا اور اس کی عمر تقریبا  35 سال ہے۔ کسانوں کا احتجاجی مقام سنگھو دہلی ہریانہ سرحد کے قریب واقع ہے۔ کسان گزشتہ 10 ماہ سے مرکز کے زراعت کے قوانین کے خلاف  مظاہرہ کر رہے ہیں۔

      Published by:Sana Naeem
      First published: