ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

نيٹ میں اردو کوشامل کرنے سے متعلق عرضی پر مرکز اورمیڈیکل کونسل آف انڈیا کو نوٹس

جسٹس کورین جوزف اور جسٹس آر بھانومتی کی بنچ نے اسٹوڈنٹ اسلامک آرگنائزیشن کی جانب سے دائر پٹیشن کی سماعت کے دوران مرکزی حکومت اور ایم سی اے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جوابی حلف نامہ دائر کرنے کی ہدایت دی

  • UNI
  • Last Updated: Mar 03, 2017 05:39 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
نيٹ میں اردو کوشامل کرنے سے متعلق عرضی پر مرکز اورمیڈیکل کونسل آف انڈیا کو نوٹس
سپریم کورٹ میں آسام سرکار اور مرکزی سرکار کے وکلاء اس کی جامع تعریف کرنے اور تشفی بخش جواب دینے میں ناکام رہے: فائل فوٹو۔

نئی دہلی : سپریم کورٹ نے نیشنل الیجبلیٹی کم انٹرنس ٹیسٹ (نيٹ میڈیکل) کے امتحان کے لئے شامل ہونے والی سرکاری زبانوں میں اردو کو بھی شامل کرنے سے متعلق درخواست پر آج مرکزی حکومت اور میڈیکل کونسل آف انڈیا (ایم سی اے) سے جواب طلب کیا ہے۔ جسٹس کورین جوزف اور جسٹس آر بھانومتی کی بنچ نے اسٹوڈنٹ اسلامک آرگنائزیشن (ایس آئی او) کی جانب سے دائر پٹیشن کی سماعت کے دوران مرکزی حکومت اور ایم سی اے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جوابی حلف نامہ دائر کرنے کی ہدایت دی۔

عدالت نے ڈینٹل کونسل آف انڈیا (ڈی سی آئی) اورسنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (سی بی ایس ای) کو بھی نوٹس جاری کیا نیز معاملے کی اگلی سماعت کے لئے 10 مارچ کی تاریخ مقرر کی۔ اس سے قبل ایم سی اے نے دلیل دی تھی کہ نيٹ میں اردو زبان کو شامل کرنے کے سلسلے میں اسے کوئی اعتراض نہیں ہے، بشرطیکہ متعلقہ ریاست اس کے لئے اس درخواست دیں۔

اس پرایس آئی او کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مہاراشٹر اور تلنگانہ کی حکومتوں نے نيٹ کے امتحان کے لئے سرکاری زبانوں میں اردو کو بھی شامل کرنے کی درخواست پہلے ہی ایم سی آئی کو دی ہے۔ سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق، نيٹ کا امتحان دس زبانوں میں منعقد کئے جائیں گے، جن میں ہندی اور انگریزی کے علاوہ بنگالی، گجراتی، مراٹھی، تامل، تیلگو، اڑيا اور كنڑ شامل ہیں۔

First published: Mar 03, 2017 04:42 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading