உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    نیٹ ورک 18 کا نوٹ بندی پر سروے ، عوام فیصلہ کے ساتھ ، مگر نفاذ کی تیاریوں پر اٹھایا سوال

    demo pic

    demo pic

    ایک ماہ سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی ہر طرف لوگ بینکوں اور اےٹيم پر قطاروں میں کھڑے نظر آرہے ہیں۔ فیصلے کے بعد حکومت اور اپوزیشن بھی آمنے سامنے ہے

    • Pradesh18
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی : 8 نومبر کی رات آٹھ بجے وزیر اعظم مودی کے ذریعہ نوٹ بندی کے اعلان کے بعد سے ہی ملک میں افراتفری سی مچی ہوئی ہے۔ ایک ماہ سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی ہر طرف لوگ بینکوں اور اےٹيم پر قطاروں میں کھڑے نظر آرہے ہیں۔ فیصلے کے بعد حکومت اور اپوزیشن بھی آمنے سامنے ہے۔
      نیٹ ورک 18 نے نوٹ بندي کو لے کر آن لائن سروے کرایا ، جس میں عوام کا موڈ کو جاننے کی کوشش کی گئی ۔ اپوزیشن بھلے ہی حکومت کی منشا پر سوالات کھڑے کر رہا ہو، لیکن ملک کے عوام مودی حکومت کے اس فیصلے کے ساتھ ہیں ۔ مگر ساتھ ہی ساتھ فیصلہ کے نفاذ میں خامیوں اور اس کے طریقہ پر سوالات بھی کھڑے کئے ۔
      نیٹ ورک 18 نے لوگوں سے جب یہ جاننے کی کوشش کی کہ مودی حکومت کا نوٹ بندي کا فیصلہ صحیح ہے یا غلط؟ تو جواب میں تقریبا 74 فیصد لوگوں نے اسے صحیح قرار دیا جبکہ 26 فیصد لوگوں نے اسے ایک غلط فیصلہ بتایا ۔
      سروے میں پوچھے گئے سوالات میں نوٹ بندي کو نافذ کرنے کے طریقوں پر بھی لوگوں کی رائے جاننے کی کوشش کی گئی۔ 35 فیصد لوگوں نے کہا کہ نوٹ بندي کا فیصلہ درست ہے اور حکومت نے اسے صحیح طریقے سے نافذ بھی کیا ہے۔ جبکہ 39 فیصد لوگوں نے کہا کہ نوٹ بندي کا فیصلہ تو صحیح ہے، لیکن اس کو لے کر کی گئی تیاریوں میں خامیاں ہیں اور اسے صحیح طریقہ سے نافذ نہیں کیا گیا۔ وہیں 26 فیصد لوگوں نے کہا کہ یہ ایک غلط فیصلہ ہے ، جسے غلط طریقے سے نافذ کیا گیا۔
      نیٹ ورک 18 نے آن لائن سروے میں لوگوں سے یہ بھی پوچھا کہ نوٹ بندي کو ایک ماہ گزر گیا ہے، کیا آپ کو لگتا ہے کہ اس کا مثبت اثر ہو رہا ہے؟ اس سوال پر 4 ہزار 680 لوگوں نے اپنی رائے دی۔ 55 فیصد لوگوں کا کہنا تھا کہ نوٹ بندي کا اثر ہو رہا ہے تو وہیں 45 فیصد لوگوں کا خیال تھا کہ نہیں، اس کا کوئی مثبت اثر ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔
      سروے کے دوران جب لوگوں سے یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ نوٹ بندي کی وجہ سے عوام کو جو پریشانیاں پیش آ رہی ہیں ، اس کیلئے کون ذمہ دار ہے، اس پر 5 ہزار 330 لوگوں نے اپنی رائے کا اظہار کیا ۔ زیادہ تر لوگوں نے نوٹ بندي سے ہو رہی پریشانی کے لئے بینکاری نظام کو ذمہ دار بتایا۔
      پچاس فیصد لوگوں کا کہنا تھا کہ بینکاری نظام کی وجہ سے کرنسی تبدیل کرنے یا پیسے نکالنے میں دقتیں پیش آ رہی ہیں جبکہ 6 فیصد لوگوں نےاس کیلئے ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کو ذمہ دار قرار دیا ۔ وہیں 43 فیصد لوگوں کی رائے میں حکومت اس کے لئے ذمہ دار ہے۔
      نیٹ ورک 18 نے لوگوں سے سروے کے دوران لوگوں سے یہ بھی جاننے کی کوشش کی کہ آپ نوٹ بندي کی حمایت شروع سے ہی کرتے آ رہے ہیں؟ اگر ہاں، تو کیا آپ آج بھی اس کی حمایت میں ہیں؟۔ اس سوال کے جواب میں 8 ہزار 198 لوگوں نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔ 100 میں سے 62 لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ نوٹ بندي کی شروع سے ہی حمایت کرتے آ رہے ہیں اور آج بھی کر رہے ہیں۔ وہیں 38 فیصد لوگوں کا کہنا تھا کہ ان کی رائے تبدیل ہوئی ہے اور وہ اب اس کی حمایت نہیں کر رہے ہیں۔
      First published: