ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

نئی کابینہ میں ہوں گے ریکارڈ ایس سی ، ایس ٹی ، او بی سی لیڈر، زیادہ خواتین کو ملے گی انٹری : ذرائع

سی این این نیوز 18 کو اعلی سطحی ذرائع کے حوالے سے ملی جانکاری کے مطابق کابینہ میں درج فہرست ذات ، درج فہرست قبائل اور دیگر پسماندہ طبقات کی ریکارڈ نمائندگی ہوگی ۔ ساتھ ہی خواتین کی تعداد بھی بڑھ سکتی ہے ۔

  • Share this:
نئی کابینہ میں ہوں گے ریکارڈ ایس سی ، ایس ٹی ، او بی سی لیڈر، زیادہ خواتین کو ملے گی انٹری : ذرائع
نئی کابینہ میں ہوں گے ریکارڈ ایس سی ، ایس ٹی ، او بی سی لیڈر، زیادہ خواتین کو ملے گی انٹری : ذرائع

نئی دہلی : مرکزی کابینہ میں توسیع پر اس وقت سبھی کی نگاہیں مرکوز ہیں ۔ سیاسی پنڈٹوں سے لے کر لیڈروں تک میں تجسس ہے کہ کس کو کابینہ میں جگہ ملے گی ۔ اس درمیان سی این این نیوز 18 کو اعلی سطحی ذرائع کے حوالے سے ملی جانکاری کے مطابق کابینہ میں درج فہرست ذات ، درج فہرست قبائل اور دیگر پسماندہ طبقات کی ریکارڈ نمائندگی ہوگی ۔ ساتھ ہی خواتین کی تعداد بھی بڑھ سکتی ہے ۔


ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ میں او بی سی طبقہ کے تقریبا 24 وزرا ہوں گے ۔ سرکار کا منصوبہ یہ ہے کہ سبھی کمیونٹی کی نمائندگی کابینہ میں رکھی جائے ۔ علاوہ ازیں خواتین کی نمائندگی کو بڑھانے پر بھی غور و خوض جاری ہے ۔ مانا جارہا ہے کہ نئی کابینہ میں اراکین کی اوسط عمر آزاد ہندوستان کی تاریخ میں سب سے کم ہوسکتی ہے ۔ یعنی یہ ایک نوجوان کابینہ ہوگی ۔ ان لوگوں کو کابینہ میں نمائندگی دی جائے گی جنہیں ریاست یا مرکز میں انتظامی تجربہ رہا ہو ۔


اس سے پہلے آج شام کو وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ بی جے پی صدر جے پی نڈا کی میٹنگ منسوخ کردی گئی تھی ۔ اس میٹنگ میں وزیر داخلہ امت شاہ ، وزیر دفاع راجناتھ سنگھ ، وزیر خزانہ نرملا سیتارمن ، پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری بی ایس سنتوش کے شامل ہونے کی بھی خبریں تھیں ۔


خبر ہے کہ کابینہ میں شامل کئے جانے والے لیڈروں کو دہلی بلایا جارہا ہے ۔ دہلی پہنچنے والے لیڈروں میں گزشتہ سال کانگریس سے بی جے پی میں شامل ہوئے جیوترادتیہ سندھیا ، آسام کے سابق وزیر اعلی سربانند سونووال ، مہاراشٹر کے سینئر لیڈر نارائن رانے شامل ہیں ۔ اسی کے ساتھ اپنا دل کی انو پریہ پٹیل کو بھی راجدھانی بلایا گیا ہے۔ بتادیں کہ کچھ دن پہلے پٹیل نے وزیر داخلہ سے ملاقات بھی کی تھی ۔

پھیر بدل میں اترپردیش پر خاص توجہ دی جاسکتی ہے ، کیونکہ اگلے سال کے آغاز میں وہاں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اور سیاسی طور پر یہ ملک کی سب سے اہم ریاست مانی جاتی ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jul 06, 2021 11:52 PM IST