ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

نئی نسل اور سیاسی بحران۔ اقلیتی مسائل کے آئینے میں

کورونا کے منفی اثرات نے جہاں ایک طرف ملک کی معاشی حالت کو تباہ کیا وہیں مذہبی بنیادوں پر کی جانے والی سیاست نے لوگوں کو مذہبی خانوں میں تقسیم کرکے نہ صرف سماج میں انتشار پیدا کیا بلکہ ملک کی صدیوں پرانی روایتوں اور تہذیبی اقدار کو بھی مجروح و داغدار کیا۔۔

  • Share this:
نئی نسل اور سیاسی بحران۔ اقلیتی مسائل کے آئینے میں
کورونا کے منفی اثرات نے جہاں ایک طرف ملک کی معاشی حالت کو تباہ کیا وہیں مذہبی بنیادوں پر کی جانے والی سیاست نے لوگوں کو مذہبی خانوں میں تقسیم کرکے نہ صرف سماج میں انتشار پیدا کیا بلکہ ملک کی صدیوں پرانی روایتوں اور تہذیبی اقدار کو بھی مجروح و داغدار کیا۔۔

لکھنئو۔ موجودہ عہد کو انتشار و افسردگی سیاست و منافرت اور غربت و جہالت کے عہد سے تعبیر کیا جارہاہے۔۔ گزشتہ ایک سال کے دوران ملک جن مسائل سے دوچار رہا لوگوں کو جن دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا اس کی کوئی دوسری نظیر تاریخِ حیاتِ انسانی میں نہیں۔ کورونا کے منفی اثرات نے جہاں ایک طرف ملک کی معاشی حالت کو تباہ کیا وہیں مذہبی بنیادوں پر کی جانے والی سیاست نے لوگوں کو مذہبی خانوں میں تقسیم کرکے نہ صرف سماج میں انتشار پیدا کیا بلکہ ملک کی صدیوں پرانی روایتوں اور تہذیبی اقدار کو بھی مجروح و داغدار کیا۔ ملک کی نئی نسل کے سامنے فی الوقت جو مسائل ہیں ان سے صرفِ نظر ممکن نہیں ۔ با الخصوص اتر پردیش کی اقلیتوں کے سامنے جو مسائل ہیں وہ پورے ملک کے عوام کی بنسبت زیادہ پیچیدہ نظر آتے ہیں۔


اگر بات دلت اور مسلم سماج کے لوگوں اور دیگر پسماندہ طبقات کی کریں تو اس حقیقت کا اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ موجودہ اقتدار میں سب سے زیادہ استحصال مسلم طبقے کا ہوا ہے اور یہ استحصال کئی سطحوں پر کئی محاذوں پر ہوا نتیجہ سامنے ہے کہ آج مسلمانوں کی حالت دلتوں سے بھی بد تر ہوچکی ہے اور صورت حال کے باوجود بھی حالات کی تبدیلی کے آثار نمایاں نہیں۔ مختلف ملی سماجی سیاسی اور تعلیمی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے اقلیتی طبقے کے نوجوان جن خیالات کا اظہار کر رہے ہیں جو مطالبات پیش کررہے ہیں ان کو سمجھ کر ان کے سنجیدہ حل کی ضرورت ہے۔ مسلم مت داتا جاگروک سنگھ کے صدر شعیب ایڈوکیٹ اور سکرٹری افضل حسین کہتے ہیں کہ ذہنوں کے ساتھ ساتھ ہمارے لئے وطن ِ عزیز کی زمینیں بھی تنگ کی جارہی ہیں ہمارے آئینی دستوری اور جمہوری حقوق صلب کئے جارہے ہیں اور یہ سب ایک منصوبہ بند ساز ش کے تحت کیا جارہاہے۔ صحافی و دانشور اطہر کاظمی کہتے ہیں کہ ملک کی جمہوری قدریں پامال ہورہی ہیں افسوس ناک بات یہ ہے کہ اس کو پامال کرنے والے لوگ سر سبز و شاداب ہورہے ہیں ہر سطح پر تعصب اور فرقہ پرستی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے بے گناہوں کو قتل کیا جاتا ہے اور پھر جرم و سزا کے مرتکب بھی مظلوم ہی قرار دئے جاتے ہیں۔


معروف وکیل شعیب صدیقی کے مطابق یہ عہد اس لیے بھی بدترین تصور کیا جارہاہے کہ اس دور میں عدلیہ پر ہی سوالیہ نشان لگنے لگے ہیں جب صحافیوں کے قضمیر وقلم بک جائیں اور پولس ظالموں کے ساتھ کھڑی نظر آئے تو عدل و انصاف کی امید کیسے لگائی جا سکتی ہے۔لیکن ان حالات کے باوجود بھی ہمیں یقین ہے کہ حالات بدلیں گے عدل و انصاف کے راستے بحال ہوں گے لوگوں کو روزگار ملے گا اور ایک بار پھر ہندو مسلم ایکتا کے ذریعے ملک کی تقدیر بدلے گی بس ہم حکومت سے یہی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ منفی سیاست کرنے اور فرقہ پرستی کو فروغ دینے والے ارباب سیاست پر لگام کسے باقی حالات آج نہیں تو کل بہتر ہو ہی جائیں گے ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جس میں منفی اور غیر انسانی رویوں کو ہمیشہ شکست ہوئی ہے اور ہمیں امید ہے کہ ہماری ملک کی پامال ہورہی جمہوری دستوری آئینی اور صحافتی قدریں ایک بار پھر بحال ہوں گی اور ملک ترقی و خوشحالی کے راستوں پر گامزن ہوجائے گا۔

Published by: Sana Naeem
First published: Jan 08, 2021 08:22 AM IST