உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    رگھو رام راجن کے بعد کون بنے گا آر بی آئی گورنر؟ یہ 7 نام ہیں ریس میں

    نئی دہلی۔ ریزرو بینک آف انڈیا کے گورنر رگھو رام راجن نے دوسری بار عہدہ نہیں سنبھالنے کا اعلان کر سب کو چونکا دیا۔

    نئی دہلی۔ ریزرو بینک آف انڈیا کے گورنر رگھو رام راجن نے دوسری بار عہدہ نہیں سنبھالنے کا اعلان کر سب کو چونکا دیا۔

    نئی دہلی۔ ریزرو بینک آف انڈیا کے گورنر رگھو رام راجن نے دوسری بار عہدہ نہیں سنبھالنے کا اعلان کر سب کو چونکا دیا۔

    • Share this:
      نئی دہلی۔ ریزرو بینک آف انڈیا کے گورنر رگھو رام راجن نے دوسری بار عہدہ نہیں سنبھالنے کا اعلان کر سب کو چونکا دیا۔ اب چرچا اس بات کی ہے کہ اگلا گورنر کون بنے گا۔ بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی کے حملوں اور مسلسل جاری قیاس آرائیوں کے درمیان راجن نے دوسری مدت کے لیے انکار کر تمام قیاس آرائیوں کو ختم کر دیا۔

      ان کے اس اعلان کے ساتھ ہی یہ بحث بھی شروع ہو گئی ہے کہ دوسرا آر بی آئی گورنر کون بنے گا۔ ذرائع کے مطابق آر بی آئی گورنر کی دوڑ میں 7 نام شامل ہیں۔ جن ناموں پر بحث چل رہی ہے ان میں وجے کیلکر، راکیش موہن، اشوک لاہڑی، ارجت پٹیل، ارون دھتی بھٹاچاریہ، سبیر گوكرن اور اشوک چاولہ ہیں۔

      ان میں ارون دھتی بھٹاچاریہ، ارجت پٹیل اور اروند سبرامنیم کے نام اہم ہیں۔ ذرائع کی مانیں تو انہی تین ناموں کی سب سے زیادہ چرچا ہے۔ ارجت پٹیل آر بی آئی کی ڈپٹی گورنر ہیں جبکہ ارون دھتی ایس بی آئی سربراہ ہیں اور اروند اہم اقتصادی مشیر ہیں۔

      بتا دیں کہ راجن کی مدت ستمبر میں ختم ہو رہی ہے۔ ہفتہ کو آر بی آئی گورنر کے طور پر انہوں نے دوسرے ٹرم سے انکار کر دیا تھا۔ راجن نے بتایا کہ وہ 4 ستمبر کو گورنر کے طور پر اپنی مدت مکمل کرنے کے بعد واپس لوٹ جائیں گے۔ بتا دیں کہ راجن یونیورسٹی آف شکاگو میں پروفیسر رہے ہیں۔

      رگھو رام راجن نے مہینوں سے چل رہی قیاس آرائیوں پر روک لگاتے ہوئے اپنے ساتھیوں سے سرکاری طور پر کہہ دیا ہے کہ وہ دوسری مدت کے خواہاں نہیں ہیں اور ستمبر میں اپنی میعاد پوری ہونے پر تعلیمی دنیا میں واپس لوٹ جائیں گے۔ راجن کے اس وضاحت کے فورا بعد مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے ان کے کردار کی تعریف کی اور کہا کہ ان کے جانشین کے نام کا جلد ہی اعلان کیا جائے گا۔ ستمبر 2013 سے مرکزی بینک کے 23 ویں گورنر کے طور پر اپنے دور کی عکاسی کرتے ہوئے راجن نے کہا ہے کہ انہوں نے اضافہ کے بجائے پہلے اصلاحات پر زور دیا۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ کافی کچھ کیا گیا، لیکن اب بھی بہت سے کام ادھورے رہ گئے ہیں۔
      First published: