ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

قومی انسانی حقوق کمیشن کا سیمی کے آٹھ ملزموں کے تصادم میں مارے جانے کے معاملہ میں رپورٹ طلب

نئی دہلی۔ قومی انسانی حقوق کمیشن نے مدھیہ پردیش میں سیمی کے آٹھ ملزموں کے تصادم میں مارے جانے کے معاملے میں آج ریاستی حکومت اور متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرکے چھ ہفتے میں رپورٹ دینے کو کہا ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Nov 01, 2016 09:02 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
قومی انسانی حقوق کمیشن کا سیمی کے آٹھ ملزموں کے تصادم میں مارے جانے کے معاملہ میں رپورٹ طلب
نئی دہلی۔ قومی انسانی حقوق کمیشن نے مدھیہ پردیش میں سیمی کے آٹھ ملزموں کے تصادم میں مارے جانے کے معاملے میں آج ریاستی حکومت اور متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرکے چھ ہفتے میں رپورٹ دینے کو کہا ہے۔

نئی دہلی۔ قومی انسانی حقوق کمیشن نے مدھیہ پردیش میں سیمی کے آٹھ ملزموں کے تصادم میں مارے جانے کے معاملے میں آج ریاستی حکومت اور متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرکے چھ ہفتے میں رپورٹ دینے کو کہا ہے۔ کمیشن نے تصادم کے واقعہ کا از خود نوٹس لیتے ہوئے ریاست کے چیف سکریٹری، پولیس کے ڈائریکٹر جنرل اور انسپکٹر جنرل (جیل) اور ریاستی حکومت کو نوٹس جاری کئے اور ان سے اس واقعہ کے بارے میں تفصیلی رپورٹ دینے کو کہا۔ اس نے ایک بیان میں کہا، ’’وہ پولیس، عدالتی حراست اور پولیس کارروائی میں ہونے والی اموات کے بارے میں ہمیشہ فکر مند رہا ہے اور اس نے خاص ہدایات جاری کی  ہیں جو تصادم کے معاملات میں تعمیل کے لئے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو بھیجی گئی ہیں۔


کمیشن نے کہا کہ اس نے پولیس رپورٹ دیکھی ہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ زیر التواء قیدی ایک سیکورٹی گارڈ کو قتل کرنے کے بعد بھوپال کی سنٹرل جیل سے بھاگے تھے۔ ان میں سے تین زیر التواء قیدی تین سال پہلے کھنڈوا جیل سے بھی بھاگے تھے اور اس سال اڑیسہ میں انہیں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا تھا۔ اس کے بعد ان پر قتل، جیل توڑنے اور بینک ڈکیتی سمیت مختلف جرائم کے الزام لگائے گئے۔


اس نے کہا کہ خبروں کے مطابق جیل سے بھاگے تمام قیدی جیل سے تقریبا 15 کلومیٹر دور ایک جنگلی علاقے میں فرار کے کچھ وقت بعد تصادم میں مارے گئے۔ رپورٹ کے مطابق سینئر حکام کا دعوی ہے کہ انہوں نے مفرور قیدیوں سے پہلے ہتھیار ڈالنے کو کہا تھا۔ اس معاملے میں پولیس انسپکٹر جنرل (جیل) اور جیل سپرنٹنڈنٹ سمیت جیل کے پانچ افسران کو معطل کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل (جیل) کا ٹرانسفر کر دیا گیا ہے۔

First published: Nov 01, 2016 09:01 PM IST