உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشاف ، این آئی اے افسر تنزیل احمد کو ماری گئی 24 گولیاں

    بجنور: اتر پردیش کے بجنور ضلع میں اتوار کی صبح 4 بجے نامعلوم حملہ آوروں نے این آئی اے کے ایک افسر کا گولی مار کر قتل کردیا ۔

    بجنور: اتر پردیش کے بجنور ضلع میں اتوار کی صبح 4 بجے نامعلوم حملہ آوروں نے این آئی اے کے ایک افسر کا گولی مار کر قتل کردیا ۔

    بجنور: اتر پردیش کے بجنور ضلع میں اتوار کی صبح 4 بجے نامعلوم حملہ آوروں نے این آئی اے کے ایک افسر کا گولی مار کر قتل کردیا ۔

    • Pradesh18
    • Last Updated :
    • Share this:
      بجنور: پٹھان کوٹ ایر بیس پر دہشت گردانہ حملہ کی تفتیش کرنے والی ٹیم میں شامل قومی تفتیشی ایجنسی کے ڈی ایس پی تنزیل احمد کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کئی سنسنی خیز انکشافات ہوئے ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق تنزیل کو 24 گولیاں ماری گئی تھیں ، جن میں سے 9 گولیاں تنزیل کے جسم کو پار کرگئی تھی جبکہ کئی گولیاں چھوکر گزر گئی تھیں۔

      خیال رہے کہ گزشتہ دیر رات نامعلوم حملہ آوروں نے گولی سے چھلنی کرکے موت کی نیند سلادیا ، جب کہ ان کی اہلیہ اس حملے میں شدید طور پر زخمی ہوگئیں۔ بتایا جاتا ہے کہ تنزیل احمد کو 24 گولیا ماری گئی ہیں جبکہ ان کی اہلیہ کو بھی پانچ گولیا لگی ہیں۔ اہلیہ فرزانہ کو نوئیڈا کے فورٹیس اسپتال میں داخل کیا گیا ہے ۔ تنزیل احمد کی نماز جنازہ آج شام جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ادا کی جائے گی۔
      دریں اثنا تنزیل احمد کے قتل کی تفتیش شروع ہوگئی ہے ۔یوپی پولیس ، ایس ٹی ایف اور اے ٹی ایس اس کیس کی جانچ میں مصروف ہوگئی ہیں۔ این آئی اے کے آئی جی سنجیو کمار کے مطابق تنزیل کا قتل منصوبہ بند طریقے سے کیا گیا ۔ تفتیشی ٹیم اس میں ملوث افراد کو پکڑنے کیلئے سرگرم ہوگئی ہیں۔ ادھر اترپردیش کے ڈی جی پی جاوید احمد نے تنزیل احمد کے قتل کی تفصیلات طلب کی ہیں ۔ مراد آباد رینج کے ڈی آئی جی کے مطابق حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار تھے۔ تنزیل کے قتل میں ممکنہ طور پر حملہ آوروں کے ذریعہ خود کار اسلحہ کا استعمال کیا گیا ہے۔
      خیال رہے کہ دہلی میں واقع این آئی اے آفس میں تعینات 49 سالہ تنزیل احمد ایک شادی کی تقریب میں شرکت کے بعد کل دیر رات اپنی بیوی فرزانہ اور دو بچوں کے ساتھ کار سے اپنی رہائش گاہ پر جارہے تھے کہ دو مجرموں نے ان پر حملہ کردیا۔ یہ واقعہ سیوہارا تھانہ کے تحت سہس پورگاوں میں ان کی رہائش گاہ کے قریب پیش آیا۔

      nia1 copy
      بتایا جاتا ہے کہ تنزیل احمد کو 24 گولیاں لگی ہیں جب کہ ان کی اہلیہ کو بھی چار گولیاں لگی ہیں ۔ آٹھ اور دس سال عمر کے دونوں بچے بہر حال زخمی نہیں ہوئے ہیں۔ مجرموں نے تنزیل احمد کو ہلاک کرنے کے لئے مبینہ طور پر ممنوعہ نو ایم ایم پستول کا استعمال کیا ۔
      تنزیل احمد کو زخمی حالت میں مرادآباد میں ایک اسپتال لے جایا گیا ، جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دیا جب کہ ان کی بیوی فرزانہ نوئیڈ کے فورٹیس اسپتال میں زندگی و موت سے جنگ لڑ رہی ہیں۔ فورٹیس اسپتال نے بیان جاری کرکے کہا کہ فرزانہ کو انتہائی سنگین حالت میں اسپتال میں لایا گیا ہے ۔ ڈاکٹر ان کا علاج کررہے ہیں۔
      خیال رہے کہ تنزیل احمد کی تقرری بی ایس ایف میں ہوئی تھی وہ بعد میں ڈیپوٹیشن پر این آئی اے میں چلے گئے تھے۔ انہیں حال ہی میں ترقی دے کر ڈی ایس پی بنایا گیا تھا اور این آئی اے میں مستقل پوسٹنگ دی گئی تھی۔وہ پٹھان کوٹ دہشت گردانہ حملے کی تفتش کرنے والی ٹیم کے رکن تھے۔
      First published: