ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

Big Breaking: دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق چئیرمین ظفر الاسلام خان کے گھر پر این آئی اے کا چھاپہ

دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق چئیرمین ڈاکٹر ظفر الاسلام خان کے گھر پر مرکزی جانچ ایجنسی این آئی اے کی ٹیم نے چھاپہ مارا ہے۔ این آئی اے نے کل کارروائی سری نگر سے شروع کی تھی جو آج دہلی تک پہنچ گئی ہے۔

  • Share this:
Big Breaking: دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق چئیرمین ظفر الاسلام خان کے گھر پر این آئی اے کا چھاپہ
ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کی فائل فوٹو۔ فوٹو: فیس بک

نئی دہلی۔ دہلی اقلیتی کمیشن (Delhi minority commission) کے سابق چئیرمین ڈاکٹر ظفر الاسلام خان (Zafarul Islam Khan) کے گھر پر مرکزی جانچ ایجنسی این آئی اے کی ٹیم نے چھاپہ مارا ہے۔ این آئی اے نے کل کارروائی سری نگر (Srinagar) سے شروع کی تھی جو آج دہلی تک پہنچ گئی ہے۔ دہلی کے ان سبھی مقامات پر سرچ آپریشن کو انجام دیا جا رہا ہے جہاں ان کے این جی او اور ٹرسٹ سے واسطہ ہے۔ غیر سماجی کاموں کے لئے فنڈ جٹانے میں جن کا بھی نام آ رہا ہے، این آئی اے ایسی ہر جگہ چھاپہ ماری کر رہی ہے۔


دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے جمعرات (30 اپریل) کو دہلی اقلیتی کمیشن کے اس وقت کے چئیرمین ظفر الاسلام خان کے خلاف غداری کے تحت معاملہ درج کیا تھا۔ الزام ہے کہ ظفر الاسلام نے 28 اپریل کو اپنے سوشل میڈیا پوسٹ میں مبینہ طور پر اشتعال انگیز بیان دیا تھا۔ اسپیشل سیل کے جوائنٹ کمشنر نیرج ٹھاکر نے جانکاری دی تھی کہ تعزیرات ہند کی دفعہ 124 اے (غداری) اور 153 اے ( مذہب، ذات، زبان وغیرہ کی بنیاد پر دو گروپوں میں عدم اتفاقی کو فروغ دینا اور ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کے ارادے سے کام کرنے) کے تحت ظفر الاسلام کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ حالانکہ اس پر دہلی اقلیتی کمیشن کے چئیرمین نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ میں نے ایف آئی آر نہیں دیکھی ہے۔ جب میں اسے دیکھوں کا یا پھر اس کے بارے میں مجھے پتہ چلے گا، تبھی کچھ تبصرہ کروں گا۔


وسنت کنج کے رہنے والے ایک شخص کی شکایت پر پولیس نے یہ ایف آئی آر درج کی تھی۔ صفدر جنگ انکلیو کے اے سی پی کے ذریعہ یہ شکایت لودھی کالونی واقع انسداد دہشت گردی دستہ کے اسپیشل سیل آفس میں پہنچی تھی۔ شکایت میں مبینہ طور پر الزام لگایا گیا تھا کہ 28 اپریل کو دہلی اقلیتی کمیشن کے چئیرمین ظفر الاسلام خان نے ٹوئٹر اور فیس بک پر ایک سوشل میڈیا پوسٹ کیا ہے جو کہ اشتعال انگیز ہے اور اس کا مقصد ہم آہنگی کو بگاڑنا اور سماج میں بھید بھاو پیدا کرنا ہے۔


کیا تھا پورا معاملہ؟

ظفر الاسلام خان نے 28 اپریل کو سوشل میڈیا پر کہا تھا کہ ہندستان میں مسلمانوں کو دبایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر ہندستانی مسلمانوں نے ہندستان میں مذہب کے نام پر ہو رہی مبینہ زیادتی کے خلاف عرب اور مسلم ملکوں سے شکایت کر دی تو کٹر لوگوں کو زلزلے کا سامنا کرنا ہو گا۔

مانگ لی تھی معافی
حالانکہ، ظفر الاسلام خان نے 28 اپریل کو دئیے اپنے بیان کو لے کر معافی مانگ لی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ میرا ارادہ غلط نہیں تھا۔ ڈاکٹر ظفر الاسلام نے کہا تھا کہ 28 اپریل 2020 کو میرے ذریعہ جاری کئے گئے ٹویٹ میں شمال مشرقی ضلع میں تشدد کے سلسلے میں کویت کا ہندستانی مسلمانوں پر دھیان دینے کے لئے شکریہ ادا کیا گیا، کچھ لوگوں کو اس سے تکلیف ہوئی جو کبھی بھی میرا یہ مقصد نہیں تھا۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Oct 29, 2020 11:46 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading