ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

نربھیامعاملہ:آدھی رات میں سماعت کےبعددرخواست مسترد،4مجرمین کوکچھ ہی گھنٹوں بعدہوگی پھانسی

دہلی ہائی کورٹ نے نربھیا عصمت ریزی معاملہ میں ایک مجرم کی جانب سے داخل کردہ عرضی کو آج تقریبا ًآدھی رات میں خارج کردیا۔

  • UNI
  • Last Updated: Mar 20, 2020 01:15 AM IST
  • Share this:
نربھیامعاملہ:آدھی رات میں سماعت کےبعددرخواست مسترد،4مجرمین کوکچھ ہی گھنٹوں بعدہوگی پھانسی
نربھیا معاملہ: آدھی رات میں سماعت کے بعددرخواست مسترد، 4 مجرمین کو کچھ ہی گھنٹوں بعد ہوگی پھانسی

دہلی ہائی کورٹ نے نربھیا عصمت ریزی معاملہ میں ایک مجرم کی جانب سے داخل کردہ عرضی کو آج تقریبا ًآدھی رات میں خارج کردیا۔واضح رہے کہ ملک کو دہلا دینے والے نربھیا آبروریزی وقتل سانحہ کے گناہ گار پون کا ایک اور پینترا جمعرات کو اس وقت ناکام ہو گیا، جب سپریم کورٹ نے اس کے نابالغ ہونے کے دعوے کو ٹھکرا دیا۔عدالت عظمیٰ نے چیمبر میں سرکولیشن کے ذریعہ یہ کہتے ہوئے پون کی كيوریٹو پٹيشن خارج کر دی اور کہا کہ اس میں کوئی نئی بنیاد نظر نہیں آ رہا ہے۔ لہذا موت کی سزا پر روک کی عرضی خارج کی جاتی ہے۔پون نے منگل کو سپریم کورٹ میں ایک اور كيوریٹو پٹيشن دائر کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ واردات کے وقت وہ نابالغ تھا اس لئے اس کی پھانسی کی سزا خارج کی جائے۔


یہ عرضی پون نے سپریم کورٹ میں اس کی نظر ثانی درخواست خارج ہونے کے سپریم کورٹ کے فیصلہ کے خلاف دائر کی۔ اس کا كيوریٹو پٹیشن خارج ہونا طے تھا كيونکہ پون کے نابالغ ہونے کی دلیل کو سپریم کورٹ پہلے ہی خارج کر چکا ہے، یہ پٹیشن ججوں نے اپنے چیمبر میں سنی تھی جس میں کسی فریق کا وکیل جرح کے لئے موجود نہیں ہوتا ہے، جج اپنے پرانے فیصلہ کے تناظر میں یہ دیکھتے ہیں کہ مجرم کوئی بہت اہم قانونی پہلو تو نہیں لے آیا ہے جو کہ عدالت میں پہلے ججوں کے سامنے نہ رکھا گیا ہو، اس معاملہ میں تمام مجرم اپنی دلیلوں کو کئی کئی بار کورٹ میں رکھ چکے ہیں جنہیں سپریم کورٹ خارج کر چکا ہے۔ٹرائل کورٹ نے چاروں مجرموں کو پھانسی پر لٹکانے کے لئے 20 مارچ کی صبح کو موت کا وارنٹ جاری کیا ہوا ہے۔


اس سے پہلے سپریم کورٹ نے ملک کو دہلا دینے والے نربھیا اجتماعی عصمت دری اور قتل معاملے کےقصوروار مکیش کی نئی عرضی بھی جمعرات کو مسترد کر دی ۔ جسٹس آر بھانو متی، جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس اے ایس بوپنا کی بینچ نے عرضی یہ کہتے ہوئے مسترد کر دی کہ قصوروار نے سارے قانونی متبادلوں کو استعمال کر لیا ہے ۔بینچ نے کہا’’ ہمیں اس مفاد عامہ کی عرضی کے تحت معاملے پر ازسرنو غور کرنے کی کوئی بنیاد نہیں ہے ‘‘ ۔ اس سے قبل مکیش کے وکیل ایم ایل شرما نے دلائل پیش کی کہ وہ یہاں پھانسی میں تاخیر کے لئے نہیں آئے ۔ قصور وار قانونی نظام کے مطابق اپنی تقدیر کو تسلیم کرنے کو تیار ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ ان دستاویزات پر غور کرانا چاہتے ہیں جو انہیں دستیاب نہیں کرائے گئے ۔ کئی دستاویزات پولیس نے چھپائے تھے ۔عدالت نے کہا کہ دستاویزات ٹرائل کا موضوع ہے ۔ ایک بار ٹرائل کا عمل ختم ہو جانے کے بعد، ان سب کوآگے نہیں لایا جا سکتا ۔ مسٹر شرما نے کہا کہ مکیش سنگھ کی گرفتاری اور ریمانڈ سے متعلق کاغذات دو ریاستی حکومتوں کے درمیان ہیں ۔ سترہ دسمبر کے اوائل میں وہ كرولي راجستھان میں تھا ۔ عدالت نے کہا کہ اس پر غور کیا گیا ہے ۔ وکیل نے واقعہ کے وقت قصوروار مکیش کی کال ڈٹیل، میڈیکل رپورٹ اور دیگر دستاویزات منگوا كر ان کی جانچ کسی آزاد ایجنسی سے کرانے کی فریاد لیکن عدالت نے اس کی دلائل کو بھی خارج کر دیا ۔ ابھی کورٹ نے اکشے سنگھ ٹھاکر کی عرضی پر سماعت شروع کر دی ۔


یادرہے کہ اس پہلےعدالت عظمیٰ نے چیمبر میں سرکولیشن کے ذریعہ یہ کہتے ہوئے پون کی كيوریٹو پٹيشن خارج کر دی اور کہا کہ اس میں کوئی نئی بنیاد نظر نہیں آ رہا ہے۔ لہذا موت کی سزا پر روک کی عرضی خارج کی جاتی ہے۔پون نے منگل کو سپریم کورٹ میں ایک اور كيوریٹو پٹيشن دائر کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ واردات کے وقت وہ نابالغ تھا اس لئے اس کی پھانسی کی سزا خارج کی جائے۔

یہ عرضی پون نے سپریم کورٹ میں اس کی نظر ثانی درخواست خارج ہونے کے سپریم کورٹ کے فیصلہ کے خلاف دائر کی۔ اس کا كيوریٹو پٹیشن خارج ہونا طے تھا كيونکہ پون کے نابالغ ہونے کی دلیل کو سپریم کورٹ پہلے ہی خارج کر چکا ہے، یہ پٹیشن ججوں نے اپنے چیمبر میں سنی تھی جس میں کسی فریق کا وکیل جرح کے لئے موجود نہیں ہوتا ہے، جج اپنے پرانے فیصلہ کے تناظر میں یہ دیکھتے ہیں کہ مجرم کوئی بہت اہم قانونی پہلو تو نہیں لے آیا ہے جو کہ عدالت میں پہلے ججوں کے سامنے نہ رکھا گیا ہو، اس معاملہ میں تمام مجرم اپنی دلیلوں کو کئی کئی بار کورٹ میں رکھ چکے ہیں جنہیں سپریم کورٹ خارج کر چکا ہے۔ٹرائل کورٹ نے چاروں مجرموں کو پھانسی پر لٹکانے کے لئے 20 مارچ کی صبح کو موت کا وارنٹ جاری کیا ہوا ہے۔
First published: Mar 20, 2020 01:05 AM IST