ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

نربھیا کیس: گھر میں تالا لگا کر کہاں چلا گیا پون جلاد کا کنبہ

جمعہ کی رات پولیس کی گاڑی پون کو اس کے گھر چھوڑ گئی۔ پڑوسیوں سے بات کیے بغیر ہی پون گھر میں بند ہو گیا۔ اس کے بعد صبح ہوتے ہی ایک بار پھر تالا ڈال کر وہ کہیں اور چلا گیا۔

  • Share this:
نربھیا کیس: گھر میں تالا لگا کر کہاں چلا گیا پون جلاد کا کنبہ
نربھیا کیس: گھر میں تالا لگا کر کہاں چلا گیا پون جلاد کا کنبہ

نئی دہلی۔ نربھیا (Nirbhaya) کے مجرموں کو پھانسی دینے سے ایک دن قبل پون جلاد (Pawan Jallad) کے گھر تالا لٹک گیا تھا۔ پون دہلی کی تہاڑ جیل (Tihar Jail) آ گیا تھا تو اس کا کنبہ پڑوسیوں کو کچھ بتائے بغیر کہیں اور چلا گیا۔ دو دن تک گھر کے دروازے پر تالا لٹکا رہا۔ جمعہ کی رات پولیس کی گاڑی پون کو اس کے گھر چھوڑ گئی۔ پڑوسیوں سے بات کیے بغیر ہی پون گھر میں بند ہو گیا۔ اس کے بعد صبح ہوتے ہی ایک بار پھر تالا ڈال کر وہ کہیں اور چلا گیا۔ پون جلاد نے پہلے ہی یہ سب کرنے کی تیاری کرلی تھی۔ وہ ایسا کرنے کے پیچھے بھی ایک بڑی وجہ بتاتا ہے۔


جیل سے ملا حکم، نہیں کرنی ہے کسی سے بات


میرٹھ میں پون جلاد کا گھر لوہیا نگر ، کانشی رام دلت ہاؤسنگ اسکیم میں ہے۔ پون جمعہ کی صبح تہاڑ جیل میں نربھیا گینگ ریپ کے گنہگاروں کو پھانسی دینے کے بعد رات گئے گھر واپس آیا۔ پون کے پڑوسی دیوانشو کا کہنا ہے کہ پولیس کی گاڑی انہیں لے کر آئی تھی۔ وہ رات کے قریب گیارہ بجے گھر آئے تھے۔ اس کے ساتھ  وہ یہ کہہ کر بھی گئے تھے کہ تین چار دن تک کسی سے کوئی بات نہ کریں۔ اپنے گھر کے اندر ہی رہیں۔ دو دن پہلے ان کا کنبہ بھی یہاں سے چلا گیا تھا۔ آج صبح ان کا بیٹا آیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی وہ چلے گئے۔ ان کے کنبے کا پرانا مکان بھگوت پورہ بھومیا کے پل کے قریب ہے۔ دیوانشو کہتے ہیں کہ جب وہ پہلے بھی تہاڑ جیل جاتے تھے تو انہیں بتایا جاتا تھا کہ پھانسی ہونے کے کچھ دن بعد تک آپ کو کسی سے ملنا جلنا نہیں ہے۔ دیوانشو اسی کالونی کے باہر سائبر کیفے چلاتے ہیں۔


تہاڑ جیل جانے سے پہلے پون جلاد نے نیوز 18 سے بات چیت میں بتایا تھا کہ پھانسی کی تیاری رات کے ایک بجے سے شروع ہوتی ہے۔ پھانسی دینے کے ایک ڈیڑھ گھنٹہ پہلے ہی مجرموں سے نگاہیں ملنی شروع ہو جاتی ہیں۔ میں نے آج تک ایسا کسی کو نہیں دیکھا جو پھانسی کے وقت نارمل رہتا ہو۔ اس کے بعد ان کے چہروں پر کالا کپڑا ڈالنا ، پیروں کو رسی سے باندھنا ، گلے میں پھندا ڈالنا یہ سب کام  ہوتے ہیں۔ آخر میں لیور کھینچ کر انہیں پھانسی پر لٹکا دیا جاتا ہے۔

وہ بتاتے ہیں ’ 5 گھنٹے کا یہ کام دماغ پر اتنا حاوی ہو چکا ہوتا ہے کہ پھانسی دینے کے کئی کئی دن بعد بھی ایک ایک چیز آنکھوں کے سامنے گھومتی ہے۔ گنہگاروں کی آنکھوں سے میری آنکھوں کا ملنا اور کیا بتاوں کیسے کیسے منظر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سچ پوچھو تو اس کے بعد کسی سے بات کرنے کا دل نہیں کرتا ہے۔ اور پھر یہاں تو چار لوگ ہیں‘۔
First published: Mar 21, 2020 01:46 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading