உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    نربھیا کی ماں نے کہا : بیٹی کے وہ آخری الفاظ مجھے بھلائے نہیں بھولتے

     ایک لڑکی جو ڈاکٹر بن کر لوگوں کی خدمت کرنا چاہتی تھی، وہ خود لوگوں کی مدد کے لیے ترستی رہی اور سڑک پر چیختی رہی ، لیکن کسی نے اس کی آواز نہیں سنی۔

    ایک لڑکی جو ڈاکٹر بن کر لوگوں کی خدمت کرنا چاہتی تھی، وہ خود لوگوں کی مدد کے لیے ترستی رہی اور سڑک پر چیختی رہی ، لیکن کسی نے اس کی آواز نہیں سنی۔

    ایک لڑکی جو ڈاکٹر بن کر لوگوں کی خدمت کرنا چاہتی تھی، وہ خود لوگوں کی مدد کے لیے ترستی رہی اور سڑک پر چیختی رہی ، لیکن کسی نے اس کی آواز نہیں سنی۔

    • Pradesh18
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی: 16 دسمبر 2012، وہ تاریخ جس نے دارالحکومت دہلی کو شرمسار کر دیا۔ 16 دسمبر کی وہ کالی رات ، جس دن چلتی بس میں ایک لڑکی پر ایسے ظلم ڈھائے گئے ، جس کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا۔ ایک لڑکی جو ڈاکٹر بن کر لوگوں کی خدمت کرنا چاہتی تھی، وہ خود لوگوں کی مدد کے لیے ترستی رہی اور سڑک پر چیختی رہی ، لیکن کسی نے اس کی آواز نہیں سنی۔ موت سے جنگ ہار کر نربھیا تو اس دنیا کو چھوڑ کر چلی گئی، لیکن آج بھی اس کے ماں باپ اپنی بیٹی کو انصاف دلانے کے لئے قانونی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ہماری ساتھی ویب سائٹ نیوز 18 انڈیا نے نربھیا کی ماں آشا دیوی سے خاص گفتگو کی۔
      سوال: آج 4 سال ہو گئے ہیں، کیا آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی بیٹی کو انصاف ملا؟
      جواب: جب تک میری بیٹی کے گنہگاروں کو پھانسی نہیں ہو جاتی، تب تک ہمیں انصاف نہیں ملے گا۔ جو کچھ بھی ہوا ہے ، وہ صرف کاغذوں پر ہوا ہے۔ اگر انصاف ملا ہوتا تو وہ لوگ اب کیا زندہ رہتے؟ پتہ نہیں کب تک ہمیں یہ جنگ لڑنی پڑے گی؟ سپریم کورٹ میں لگاتار سماعت ہو رہی ہے۔ ہم ہر سماعت پر جاتے ہیں۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔
      سوال: کیا آپ کی زندگی نارمل ہو پائی ہے؟
      جواب: نہیں، ہماری زندگی تھم سی گئی ہے، پتہ نہیں اس زندگی میں ہم لوگ نارمل ہو پائیں گے یا نہیں۔ 4 سال سے جو ہم جدوجہد کر رہے ہیں ، وہ اب بھی جاری ہے۔
      سوال: جب نربھیا سانحہ ہوا تھا تو پورے ملک کے لوگ سڑک پر اتر آئے تھے کیا آج بھی اتنی مدد اور حمایت ملتی ہے؟
      جواب: ویسے لوگ آج بھی ہماری مدد کرتے ہیں، کچھ ادارے اور تنظیمیں ہیں ، جو ہم لوگوں سے رابطہ کرتی رہتی ہیں۔ لوگوں کے پاس اتنا وقت تو نہیں ہے کہ وہ روزانہ آکر ہمارے پاس بیٹھیں، نربھیا ہماری بیٹی تھی، دوسروں کو لئے تو وہ ایک واقعہ تھا، ہاں کچھ واقعہ ہوتا ہے تو مجھے بلایا جاتا ہے، جب کوئی واقعہ ہوتا ہے تو کچھ دن کے لئے بھیڑ اکٹھا ہو جاتی ہے، لیکن جدوجہد تو اسے کرنا پڑتا ہے ، جس کے ساتھ واقعہ پیش آیا ہوتا ہے۔
      سوال: اس واقعہ کے بعد خواتین تشدد سے وابستہ قانون کافی سخت بنائے گئے، لیکن واقعات نہیں ركے؟
      جواب: جس طرح سے آج بھی لڑکیوں کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے، اس کو دیکھ کر تو نہیں لگتا ہے کہ کوئی فرق پڑا ہے۔ قانون میں جس تبدیلی کی ضرورت ہے ، وہ آج بھی نظر نہیں آتی ۔ صرف قانون بنانے سے کچھ نہیں ہوتا ، اس کا سختی سے نفاذ بھی ہونا چاہئے۔
      سوال: آپ کی بیٹی نے آخری وقت میں آپ سے کیا کہا تھا ، جس کو آپ بھول نہیں پاتی ہیں؟
      جواب: میری بیٹی کی حالت آخری وقت میں انتہائی خراب تھی، وہ زیادہ بول تو نہیں پا رہی تھی، لیکن اس کا ایک لفظ آج بھی میرے کانوں میں گونجتا ہے، اس نے نہ جانے کیا سوچ کر کہا تھا 'ساری ممی ، میں نے آپ کو بہت تکلیف دی۔ میری بیٹی بہت الگ دل کی لڑکی تھی، وہ لوگوں کو خوش رکھنا جانتی تھی، میری بیٹی فائٹر تھی، اسے کراٹے بھی آتا تھا، لیکن اتنے لوگوں کے درمیان میں وہ خود کو بچا نہیں پائی، میری بیٹی کسی بھی چیز سے ڈرتی نہیں تھی۔
      First published: