உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    راجیہ سبھا میں جوینائل جسٹس بل پیش، نربھیا کے ماں باپ بھی موجود

    نئی دہلی ۔مرکزی حکومت نے آج جوینائل جسٹس بل راجیہ سبھا میں پیش کر دیا۔

    نئی دہلی ۔مرکزی حکومت نے آج جوینائل جسٹس بل راجیہ سبھا میں پیش کر دیا۔

    نئی دہلی ۔مرکزی حکومت نے آج جوینائل جسٹس بل راجیہ سبھا میں پیش کر دیا۔

    • IBN Khabar
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی ۔مرکزی حکومت نے آج جوینائل جسٹس بل راجیہ سبھا میں پیش کر دیا۔ اسے راجیہ سبھا میں پیش کرتے ہوئے خواتین کی فلاح و بہبود کی وزیر مینکا گاندھی نے اپنی بات رکھی۔ مینکا نے کہا کہ آج ملک میں جوینائل کرائم بہت تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ اس پر مضبوط قانون وقت کی ضرورت ہے۔ آج 18 سال سے کم عمر کے بچے سنگین جرم کر رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں اصلاح ہوم میں ڈال دو۔ اس طرح کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ پورا ملک اس بل میں تبدیلی چاہتا ہے۔ بحث کے دوران نربھیا کے ماں باپ بھی ایوان میں موجود ہیں۔

      تقریر کے دوران مینکا گاندھی نے ریپ متاثرہ کا نام لیا، ایک رکن نے ٹوکا تو انہوں نے کہا کہ شاید مجھے نام نہیں لینا چاہئے۔ مینکا نے کہا کہ متاثرہ کے ماں باپ نے اسے پڑھانے کے لئے اپنی زمین تک بیچ دی۔ اخبار آپ کو بتائیں گے کہ کس طرح بچوں کا جرم بڑھتا جا رہا ہے۔

      کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد نے بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ملک اس وقت عمر پر الگ الگ رائے رکھتا ہے کہ یہ 16 یا 18۔ اس کی موافقت اور مخالفت میں بہت باتیں کہی گئی ہیں۔ اگر گزشتہ دنوں نربھیا کا گنہگار رہا نہیں ہوتا تو آج اس پر پارلیمنٹ میں بحث نہیں ہوتی۔

      میں نربھیا کے والدین کو مبارک باد دیتا ہوں۔ وہ آج صرف نربھیا کے لئے نہیں بلکہ دوسری لڑکیوں کے لئے بھی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ دوبارہ اس طرح کا واقعہ نہ ہو۔ سینکڑوں اس طرح کے واقعات ہوتے ہیں جو ہمارے سامنے نہیں آ پاتے۔ میری کچھ تجاویز ہیں۔ ان کے لئے جیل میں الگ انتظام ہونا چاہیے۔ اگر سنگین مجرموں کے ساتھ انہیں رکھیں گے تو بہت بڑے مجرم بن کر نکلیں گے۔ تب ہمیں لگے گا کہ ہم کرائم کو روکنے جا رہے تھے، یہ تو اور مجرم بن کر نکلے۔ جوینائل جسٹس بورڈ میں لوگوں کو شامل کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان نابالغ مجرموں کی جیل میں پڑھائی کا انتظام ہونا چاہئے۔

      خاندان کو ملا تھا بھروسہ

      جوینائل جسٹس بل کو پاس کرانے کے مقصد سے پیر کو نربھیا کی ماں نے کانگریس کے رہنما غلام نبی آزاد سے ملاقات کی تھی۔ آزاد نے راجیہ سبھا سے بل پاس کرانے کا بھروسہ دیا ہے۔ جوینائل جسٹس بل میں کہا گیا ہے کہ ریپ، قتل اور ایسڈ اٹیک جیسے خطرناک جرائم میں ملوث بچوں کو بالغ مانا جائے۔ سنگین جرم کرنے والے بچوں پر کیس عام عدالتوں میں اور بالغوں کے لئے قانون کے مطابق ہی چلے گا۔

      پارلیمانی امور کے وزیر مملکت مختار عباس نقوی نے کہا کہ ہم نے مانسون سیشن میں 12 بار، سرمائی سیشن میں 5 بار اس بل کو راجیہ سبھا میں رکھا تھا۔ امید ہے کہ آج یہ بل راجیہ سبھا میں پاس ہو جائے گا۔ تمام جماعتوں سے بات چیت ہو گئی ہے۔ وہیں نربھیا کی ماں نے کہا کہ مجھے نقوی جی نے بھروسہ دیا ہے کہ یہ بل پاس ہو جائے گا۔ اگر یہ بل 6 ماہ پہلے پاس ہو جاتا تو میری بیٹی کا قاتل آزاد نہیں ہوتا۔

      مجوزہ بل کے مطابق کشور انصاف بورڈ یہ فیصلہ کرے گا کہ عصمت دری جیسے جرائم میں ملوث 16 سال سے زیادہ عمر کے نوجوانوں کو اصلاح گھرمیں رکھا جائے یا ان پر عام عدالت میں مقدمہ چلایا جائے۔ پرانے قانون کے مطابق نابالغ کو زیادہ سے زیادہ تین سال تک کے لئے اصلاح گھر میں رکھا جا سکتا ہے۔ یہ بل لوک سبھا میں اس سال مئی میں ہی پاس کر دیا گیا تھا لیکن راجیہ سبھا میں حکمراں بی جے پی کے اقلیت میں ہونے کی وجہ سے طویل عرصے سے اٹکا ہوا پڑا رہا۔
      First published: