ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

نئے سال کا تحفہ: آئندہ پانچ سال میں 102 لاکھ کروڑ کے انفرا اسٹرکچر منصوبے پورے کرے گی حکومت: نرملا سیتارمن

وزیرخزانہ نےکہا کہ این آئی پی کے 25لاکھ کروڑ توانائی کے شعبہ 20 لاکھ کروڑروپئے سڑک اور 14لاکھ کروڑ روپے ریلوے پراجیکٹ کےلئے ہوں گے۔ این آئی پی میں پرائیویٹ سیکٹر کی حصہ داری 22 فیصد سے 25 فیصد تک ہوگی۔

  • UNI
  • Last Updated: Dec 31, 2019 06:29 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
نئے سال کا تحفہ: آئندہ پانچ سال میں 102 لاکھ کروڑ کے انفرا اسٹرکچر منصوبے پورے کرے گی حکومت: نرملا سیتارمن
وزیرخزانہ نرملا سیتا رمن پریس کانفرنس کے دوران۔

نئی دہلی: مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے سست پڑتی معیشت کو رفتاردینے اوربازار میں لیکویڈیٹی بڑھانےکےلئےاگلے پانچ سال کے دوران بنیادی سیکٹرمیں 102لاکھ کروڑ روپےسے زیادہ کی سرمایہ کاری کرنےکا اعلان کرتےہوئے منگل کوکہا کہ اس سے سال 2025تک گھریلومعیشت کو پانچ ہزارارب ڈالرکا بنانےمیں مدد ملےگی۔ نرملا سیتارمن نے یہاں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ قومی بنیادی سیکٹر منصوبے کے تحت 10,250,704 روپئےکا خرچ ہوگا اوراس میں پرائیویٹ سیکٹراورریاستی حکومتیں بھی متفق ہوں گی۔ اس سےمعیشت کورفتاردینے میں مدد ملےگی اورہندوستانی معیشت کوسال 2025 تک پانچ ہزار ارب ڈالرکا بنانےکا ہدف حاصل ہوگا۔


انہوں نےکہا کہ بنیادی سیکٹرکی ترقی کےلئے قومی بنیاد ڈھانچہ پائپ لائن (این آئی پی) تال میل نظام کا قیام عمل میں آئےگا اوراس میں مرکزی حکومت کےعلاوہ ریاست اورپرائیویٹ سیکٹرکے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔ اس نظام کےتحت منصوبہ، اطلاعات کا لین دین، نگرانی اوراین آئی پی کونافذ کرنےکا خاکہ طے ہوگا۔ مرکزی وزیرخزانہ نےکہا کہ وزیر اعظم نریندرمودی نے یوم آزادی کے اپنے خطاب میں بنیادی ڈھانچےکے سیکٹر میں 100 لاکھ کروڑ روپئےکی سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا، جس کےمطابق ایک دستےکی تشکیل کی گئی تھی۔ اس دستےکی سفارشات پراین آئی پی فنڈ بنےگا۔


مرکزی وزیر خزانہ نے کہا کہ بنیادی سیکٹر سے متعلق کام میں چار مہینے کے وقت میں 102 لاکھ کروڑ روپئے کے منصوبوں کا انتخاب کیاگیاہے۔اس کے لئے 70فریقوں سے صلاح مشورہ کیا گیا ہے۔ انہوں نےکہا کہ حکومت سرمایہ کاری بڑھانےکےلئے مسلسل کوشش کررہی ہےاوراس کےایک سال 2020 کی دوسری چھ ماہی میں ملک میں عالمی سرمایہ کاری کانفرنس کا انعقاد ہوگا۔ سیتارمن نےکہا کہ این آئی پی کے 25لاکھ کروڑ توانائی کے شعبہ ،20لاکھ کروڑ روپے سڑک اور 14لاکھ کروڑ روپے ریلوے پراجیکٹ کےلئے ہوں گے۔ این آئی پی میں پرائیویٹ سیکٹر کی حصہ داری 22فیصد سے 25فیصد تک ہوگی۔ اس کے علاوہ 16لاکھ کروڑ روپے ٹرانسپورٹ سروس،16لاکھ کروڑ روپے آبپاشی، 2.5 لاکھ کروڑروپئے بندرگاہ اورہوائی اڈہ، 3.2 لاکھ کروڑروپئےڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے، دیہی ترقی، زراعت اورفوڈ پراسیسنگ صنعت کےلئے رکھےگئے ہیں۔

نرملا سیتارمن نےکہا کہ حکومت نے بنیادی سیکٹرمیں 51لاکھ کروڑ روپئے خرچ کئے ہیں۔ یہ ملک کی مجموعی گھریلو پیداوار(جی ڈی پی) کا پانچ سے 6  فیصد حصہ ہے۔ این آئی پی کے102 لاکھ کروڑکےفنڈ کو21 وزارتوں کےدرمیان الاٹ کیا جائےگا۔ انہوں نےکہا کہ ملک میں بنیادی سیکٹرکی ترقی کرنا حکومت کی ترجیح ہے۔ وزیرخزانہ نےکہا کہ بنیادی ڈھانچہ سیکٹرکی ترقی پراجیکٹوں میں مرکزاورریاستی حکومت برابرکی سرمایہ کاری کریں گےاورپرائیویٹ سیکٹرکی حصہ داری 22فیصد ہوگی۔ انہوں نےکہا کہ سال 2025 تک معیشت میں پرائیویٹ سیکٹرکی حصہ داری بڑھانےکا ہدف رکھا گیا ہے۔
First published: Dec 31, 2019 05:57 PM IST