ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

جائسی نے پدماوت کے ذریعہ تصوف کو اس دنیا سے جوڑا: پروفیسرہریش تریویدی

شعبہ اردو،دہلی یونیورسٹی میں نظام سالانہ خطبات کے طویل سلسلہ کوبرقرار رکھنے کے لئے صدرشعبہ پروفیسر ابن کنول کی کوششوں کوسراہا۔

  • Share this:
جائسی نے پدماوت کے ذریعہ تصوف کو اس دنیا سے جوڑا: پروفیسرہریش تریویدی
شعبہ اردو، دہلی یونیورسٹی میں سالانہ نظام خطبات میں صدارتی خطاب پیش کرتے ہوئے پروفیسر ظہیرالحسن جعفری۔

نئی دہلی: شعبہ اردو،دہلی یونیورسٹی کے زیراہتمام نظام سالانہ خطبات بعنوان’ ملک محمد جائسی کی پدماوت اورتصوف‘ کا انعقاد کیا گیا۔ اس موضوع پر خصوصی خطبہ پروفیسر ہریش تریویدی، شعبہ انگریزی، دہلی یونیورسٹی نے پیش کیا۔ پروگرام کی صدارت پروفیسرظہیرالحسن جعفری، سابق صدر،شعبہ تاریخ، دہلی یونیورسٹی نے کی۔


پروفیسرابن کنول، صدرشعبہ اردو، دہلی یونیورسٹی نے استقبالیہ خطاب میں کہا کہ شعبہ اردو میں نظام سالانہ خطبات کا طویل سلسلہ ہے۔ 1966 میں اس شعبے کےبانی پروفیسر خواجہ احمد فاروقی کے دورصدارت میں اس کا آغازہوا۔ پہلی مرتبہ اس پروگرام میں خواجہ غلام السیدین نے خطاب کیا۔ 1966سے اب تک ملک کی نامور شخصیات نے یہ خطبات پیش کئے ہیں، آ ج کے مقررپروفیسرہریش تریویدی انگریزی ادب کاایک معروف نام ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ نظام سالانہ خطبات کی تاریخ میںیہ اہم نام شامل ہورہاہے۔


خصوصی خطاب میں پروفیسر ہریش تریویدی نے کہا کہ شعبہ اردو، دہلی یونیورسٹی مبارکباد کا مستحق ہے کہ اس نے 1966سے اب تک نظام سالانہ خطبات کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ پدماوت پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس کی تمام اسکرپٹ نستعلیق میں لکھی گئی۔ اس لئے پدماوت کو سب سے پہلے پڑھنے کا حق نستعلیق یعنی اردو والوں کا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اردو - ہندی میں یکسانیت بہت اہم ہے۔ اردو وہندی ادب ایک ہی ماحول میں ایک ہی ہواپانی سے تخلیق ہواہے۔


پروفیسر ظہیرالحسن جعفری، سابق صدرشعبہ تاریخ، دہلی یونیورسٹی نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ تیرہویں صدی میں شیخ ابن عربی نے فصوص الحکم اورفتوحات مکیہ لکھی اور اسی زمانے میں وہ کتابیں ہندوستان میں پڑھائی جارہی تھیں۔ انہی کتابوں میں سب سے پہلے فلسفہ وحدۃ الوجود آیا، یہ فلسفہ عربی میں تھا۔ مولانا روم نے اس فلسفہ کوفارسی مثنوی میں پیش کیا۔ پھرہندوستان میں پدماوت جیسی کتابوں نے اس فلسفے کو پیش کیا۔ پدماوت میں دراصل فلسفہ وحدۃ الوجود کو پیش کیا گیا ہے۔

پروگرام کی نظامت ڈاکٹرمحمد کاظم نے انجام دیئے اورشکریہ شعبہ کے استاذ ڈاکٹرابوبکرعباد نے ادا کیا۔ اس موقع پرشعبہ اردوکے اساتذہ ، مہمان مقرراورپروگرام کے صدرمحترم کے ہاتھوں ذاکرحسین دلی کالج کا سالانہ ادبی مجلہ "فکرنو" کے شبلی نمبرکا رسم اجرا عمل میں آیا۔ پروگرام میں دہلی یونیورسٹی کے شعبہ ہائے اردو، فارسی، عربی، ہندی اوراس سے ملحق کالجزکے اساتذہ  کےعلاوہ کثیرتعداد میں طلبہ موجودتھے۔
First published: Sep 24, 2018 11:04 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading