உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    روہنگیا کے لئے ملک کی سلامتی کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا: حکومت

    وزیرمملکت برائے داخلہ كرن رجیجو: فائل فوٹو۔

    وزیرمملکت برائے داخلہ كرن رجیجو: فائل فوٹو۔

    رجیجو نے بتایا کہ ملک میں باہر سے بھاگ کر آئے لوگوں کے بارے میں کوئی ٹھیک ٹھاک اعدادوشمار نہیں ہیں، لیکن سب سے زیادہ روہنگیا پناہ گزین جموں و کشمیر میں ہیں۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی۔ حکومت نے آج واضح کیا کہ ہماری روایت پناہ گزینوں کو پناہ دینے کی رہی ہے، لیکن روہنگیا یا کسی دوسرے پناہ گزین کے لئے ملک کی سلامتی کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ وزیرمملکت برائے داخلہ كرن رجیجو نے آج لوک سبھا میں ایک ضمنی سوال کے جواب میں کہا’’ہم پناہ گزینوں سے متعلق اقوام متحدہ کے معاہدہ کا حصہ نہیں ہیں، اس کے باوجود ہندوستان پناہ گزینوں کے تئیں ہمیشہ سے وسیع القلب رہا ہے۔ بھگائے گئے لوگوں کو پناہ دینا ہماری روایت رہی ہے، لیکن سب سے پہلے ہمیں اپنے شہریوں کی سیکورٹی کو یقینی بنانی پڑے گی‘‘۔


      انہوں نے کہا کہ میانمار کی حکومت سے بات چیت کی جا رہی ہے اور جب وہ اپنے شہریوں کو واپس لے جائیں گے تو ہندوستان اس میں ہر طرح کی مدد دے گا۔ رجیجو نے بتایا کہ ملک میں باہر سے بھاگ کر آئے لوگوں کے بارے میں کوئی ٹھیک ٹھاک اعدادوشمار نہیں ہیں، لیکن سب سے زیادہ روہنگیا پناہ گزین جموں و کشمیر میں ہیں۔ اس کے بعد تلنگانہ کے حیدرآباد میں۔ دہلی، میوات اور جے پور میں بھی ان کی موجودگی ہے۔ وہ کئی دوسری ریاستوں میں بھی پھیل گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس بھی معلومات ہے کہ روہنگیا سمیت کچھ پناہ گزین غیر قانونی سرگرمیوں میں بھی ملوث ہیں۔ حکومت ایسے اقدامات کر رہی ہے کہ وہ ملک کی سلامتی کے لئے خطرہ نہ بنیں۔انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومتوں کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ روہنگیا کی شناخت کریں اور انہیں خصوصی کیمپوں میں رکھیں۔


       رجیجو نے کہا کہ ہندوستان میں متعدد ممالک سے پناہ گزین آتے ہیں۔ ان کے بارے میں ملک کی اپنی پالیسی ہے جس کی بنیاد پر کچھ پناہ گزینوں کو وہ جائز مانتی ہے اور کچھ کو غیر قانونی۔ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ روہنگیا پناہ گزینوں کے بارے میں حکومت نے اس سال فروری میں ایک ایڈوائزری جاری کی تھی جس میں ریاستی حکومتوں کو ان کے بایومیٹرک اعدادوشمار جمع کرنے اور ان کی سرگرمیوں کی نگرانی کرنے کی صلاح دی گئی ہے۔

      First published: