உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    نیرا راڈیا کی گفتگو میں کوئی جرم نہیں پایا گیا، سی بی آئی نے کی وضاحت

    سپریم کورٹ (فائل فوٹو)

    سپریم کورٹ (فائل فوٹو)

    Niira Radia: عدالت عظمیٰ نے کہا کہ رادیہ کی بات چیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ پرائیویٹ اداروں کی جانب سے سرکاری افسران کے ساتھ مل کر غیرمعمولی مقاصد کے لیے بددیانتی پر مبنی کام کیے جانے کا خدشہ ہے۔ جس کے ذریعہ وہ بڑے پیمانے پر منافع کمانے کا منصوبہ رکھتے تھے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi | Mumbai | Jammalamadugu | Hyderabad | Lucknow
    • Share this:
      سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (CBI) نے بدھ کے روز سپریم کورٹ (Supreme Court) کو بتایا کہ کارپوریٹ لابیسٹ نیرا راڈیا (Niira Radia) کی کچھ سیاست دانوں، تاجروں، میڈیا والوں اور دیگر لوگوں کے ساتھ کی گئی بات چیت کی تحقیقات کے بعد کوئی جرم نہیں پایا گیا ہے۔ جانچ ایجنسی کی عرضیوں کا نوٹس لیتے ہوئے سپریم کورٹ نے اس معاملے پر اسٹیٹس رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت دی۔

      سی بی آئی کی طرف سے پیش ہونے والے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایشوریہ بھاٹی نے جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی سربراہی میں تین ججوں کی بنچ کو بھی بتایا کہ صنعت کار رتن ٹاٹا (Ratan Tata) کی طرف سے دائر درخواست کو رد کیا جا سکتا ہے جس میں راڈیا ٹیپس کے سامنے آنے کے پیش نظر حق رازداری کے تحفظ کی درخواست کی گئی۔ جو کہ سپریم کورٹ کے حق رازداری کے فیصلے کی روشنی میں کیا گیا ہے۔

      بھٹی نے کہا کہ مجھے آپ کو بتانا ضروری ہے کہ سی بی آئی کو آپ کے لارڈ شپ نے ان تمام بات چیت کی تحقیقات کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس کے لیے چودہ ابتدائی انکوائریاں درج کی گئیں اور رپورٹ سیل بند غلاف میں آپ کے سامنے رکھی گئی۔ ان میں کوئی جرم نہیں پایا گیا۔ اس کے علاوہ اب فون ٹیپنگ کے رہنما خطوط موجود ہیں۔

      درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ سپریم کورٹ نے کہا کہ این جی او سینٹر فار پبلک انٹرسٹ لٹیگیشن (سی پی آئی ایل) کی طرف سے ایک اور عرضی دائر کی گئی ہے، جس میں یہ مطالبہ کیا گیا کہ وسیع تر عوامی مفاد میں ان نقلوں کو عام کیا جائے۔ ایڈوکیٹ پرشانت بھوشن، سی پی آئی ایل کی طرف سے پیش ہوئے انھوں نے کہا کہ راڈیا دو اہم ترین کمپنیوں کے لیے کارپوریٹ لابیسٹ تھی اور عوامی مفاد کو متاثر کرنے کی کوششیں کی گئی تھیں، جس کا انکشاف ہوا۔ سپریم کورٹ نے 2013 میں کارپوریٹ لابیسٹ نیرا راڈیا کی ٹیپ کی گئی بات چیت کے تجزیہ سے پیدا ہونے والے چھ مسائل کی سی بی آئی انکوائری کی ہدایت دی تھی۔

      لاء آفیسر نے کہا کہ رازداری کے فیصلے کے بعد اس معاملے میں کچھ باقی نہیں ہے۔ بنچ میں جسٹس ہیما کوہلی اور پی ایس نرسمہا بھی شامل ہیں، انھوں نے کہا کہ وہ دسہرہ کی تعطیل کے بعد اس معاملے کی سماعت کرے گی کیونکہ اگلے ہفتے ایک آئینی بنچ ہے۔ بنچ نے کہا کہ اس دوران سی بی آئی ایک تازہ ترین اسٹیٹس رپورٹ درج کر سکتی ہے۔ اس معاملے کو اگلی سماعت 12 اکتوبر کو ملتوی کر دیا۔ شروع میں ٹاٹا کی طرف سے پیش ہونے والے وکیل نے التوا کا مطالبہ کیا۔

      سپریم کورٹ ٹاٹا کی درخواست پر سماعت کر رہی تھی جس میں ٹیپ کے لیک ہونے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ جس میں یہ الزام لگایا گیا کہ یہ ان کے زندگی کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہے، جس میں آئین کے دفعہ 21 کے تحت رازداری کا حق بھی شامل ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:


      عدالت عظمیٰ نے کہا کہ رادیہ کی بات چیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ پرائیویٹ اداروں کی جانب سے سرکاری افسران کے ساتھ مل کر غیرمعمولی مقاصد کے لیے بددیانتی پر مبنی کام کیے جانے کا خدشہ ہے۔ جس کے ذریعہ وہ بڑے پیمانے پر منافع کمانے کا منصوبہ رکھتے تھے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: