உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    یوم آزادی پر دہلی میں کسان ریلی نہیں ہوگی، سرحدوں پر حفاظت کے سخت انتظامات

    یوم آزادی کے پیش نظر دہلی میں گاڑی کی چیکنگ کرتے ہوئے پولیس اہلکار ۔ تصویر : اے این آئی ٹویٹر ۔

    یوم آزادی کے پیش نظر دہلی میں گاڑی کی چیکنگ کرتے ہوئے پولیس اہلکار ۔ تصویر : اے این آئی ٹویٹر ۔

    پولیس ذرائع نے بتایا کہ کسان لیڈروں نے خواہ دہلی میں پروگرام نہیں کرنے اور دھرنے کے مقامات پر ہی پرامن طریقہ سے پرچم لہراکر آزادی کے جشن میں شامل ہونے کی بات کہی ہے ، لیکن گزشتہ تجربہ اس کے برعکس ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرحدوں پر 26جنوری کے مقابلہ میں زیادہ احتیاط برتی جارہی ہے تاکہ گزشتہ بار کی طرح افسوسناک واقعہ کو انجام دینے کا کسی کو موقع نہ ملے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی : یوم آزادی پر قومی دارالحکومت میں کسان تحریک سے متعلق کوئی بھی پروگرام نہیں کرنے کے کسان لیڈروں کے اعلان کے باوجود دہلی کی سرحد پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔ پولیس ذرائع نے ہفتہ کو یو این آئی کو بتایا کہ کسان لیڈروں نے اتوار کو خواہ دہلی میں پروگرام نہیں کرنے اور دھرنے کے مقامات پر ہی پرامن طریقہ سے پرچم لہراکر آزادی کے جشن میں شامل ہونے کی بات کہی ہے ، لیکن گزشتہ تجربہ اس کے برعکس ہے۔ یہی وجہ ہے کہ راجدھانی میں سرحدوں پر 26جنوری کے مقابلہ میں زیادہ احتیاط برتی جارہی ہے تاکہ گزشتہ بار کی طرح افسوسناک واقعہ کو انجام دینے کا کسی کو موقع نہ ملے۔

      انہو ں نے بتایا کہ دہلی پولیس کے جوانوں کے علاوہ مرکزی نیم فوجی دستوں کی فاضل تعیناتی کے ساتھ ہی دیگر الیکٹرونک آلات سے سیکورٹی نگرانی کا انتظام کیا گیا ہے۔ احتیاطاً ایسے غیرمعمولی سیکورٹی انتظامات کئے گئے کہ یوم آزادی کی تقریب کے دوران کسی بھی سطح پر خلل پڑنے کی گنجائش نہیں ہے۔

      انہوں نے بتایا کہ یہ صحیح ہے کہ گزشتہ دنوں ’سمانانتر کسان سنسد‘ کے دوران کئی کسان لیڈروں نے یوم آزادی پر پروگرام کی جگہ جنتر منتر پر قومی پرچم لہرانے کا اعلان کیا تھا ، لیکن پارلیمنٹ کے اجلاس کے مقررہ مدت سے قبل ختم ہونے کے بعد انہوں نے بھی اپنا ’اجلاس‘ ختم کردیا اور پورا علاقہ خالی کردیا۔ اس کے بعد کسی تنظیم کی طرف سے کوئی پروگرام کرنے کی اجازت نہیں لی گئی ہے۔

      ادھر کسان شکتی یونین کے صدر پشپندر چودھری نے کہا کہ دہلی کی سرحدوں پر مہینوں سے دھرنا دے رہے کسانوں کا پندرہ اگست کو دہلی کی سرحد میں داخل ہونے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ وہ دھرنے کی جگہ پر قومی پرچم لہرا کر قومی تہوار میں شامل ہوں گے۔ اس کے بعد جگہ جگہ ریلیاں نکال کر اپنی آواز سرکار تک پہنچانے کا سلسلہ جاری رہے گا۔

      انہوں نے بتایا کہ دہلی کی سرحدوں سے باہر ریلی، ٹریکٹر ریلی، موٹر سائکل ریلی اور دیگر پروگراموں کے ذریعہ کسان اپنی آواز بلند کریں گے۔ تمام پروگرام پرامن طریقہ سے اختتام پذیر ہوں گے۔ شرارتی عناصر کو موقع نہیں ملے اس کے لئے زیادہ سے زیادہ احتیاط برتی جارہی ہے۔

      خیال رہے کہ اس برس یوم جمہوریہ پر کسانوں کی ٹریکٹر ریلی بے قابو ہوگئی تھی۔ پولیس اور مظاہرین کے مابین پرتشدد واقعات میں کئی کسان اور پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ ایک نوجوان کسان کی موت ہوگئی تھی۔ بڑی تعداد میں کسان لال قلعہ پہنچ گئے تھے۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: