ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

وزارت تعلیم کی ویب سائٹ سے قومی تعلیمی پالیسی کا اردو ترجمہ ندارد 

وزارت تعلیم کی ویب سائٹ پر17 علاقائی زبانوں میں ترجمہ فراہم کیا گیا ہے ، جس کو ہم سراہتے ہیں ، جن میں ہندی اور انگریزی زبانیں بھی شامل ہیں ۔ جبکہ اس ویب سائٹ پر قومی تعلیمی پالیسی 2020 کا اردو ترجمہ نہیں ہے ۔

  • Share this:
وزارت تعلیم کی ویب سائٹ سے قومی تعلیمی پالیسی کا اردو ترجمہ ندارد 
وزارت تعلیم کی ویب سائٹ سے قومی تعلیمی پالیسی کا اردو ترجمہ ندارد 

نئی دہلی : جماعت اسلامی ہند کے مرکزی تعلیمی بورڈ کے چیئرمین نصرت علی نے حکومت ہند کے وزیر تعلیم رمیش پوکھریال کو ایک مکتوب روانہ کیا ہے ، جس میں مطالبہ کیا ہے کہ مرکز کی وزارت تعلیم کی ویب سائٹ پر جہاں 17 علاقائی زبانوں کے قومی تعلیمی پالیسی سے متعلق تراجم ہیں ، وہیں اردو ترجمہ نہیں دیا گیا ۔ انھوں نے اپنے مکتوب میں اردو ترجمہ جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔


مکتوب میں کہا گیا ہے کہ وزارت تعلیم کی ویب سائٹ پر17 علاقائی زبانوں میں ترجمہ فراہم کیا گیا ہے ، جس کو ہم سراہتے ہیں ، جن میں ہندی اور انگریزی زبانیں بھی شامل ہیں ۔ جبکہ اس ویب سائٹ پر  قومی تعلیمی پالیسی 2020  کا اردو ترجمہ نہیں ہے ۔ اُردو زبان ایک معروف ہندوستانی زبان ہے ۔ یہ زبان کئی ریاستوں کی سرکاری زبان ہے اور کئی ایک ریاستوں کی عوامی زبان ہے ۔ ہندوستان کی بولی جانے والی زبانوں میں اُردو زبان چھٹویں مقام پر ہے ۔  نصرت علی نے توقع کا اظہار کیا کہ متعلقہ تعلیمی وزارت قومی تعلیمی پالیسی 2020 کا اردو ترجمہ بھی ویب سائٹ پر فراہم کرے گی ۔


غور طلب ہے کہ مرکزی حکومت ایک طویل عرصہ کے بعد نئی تعلیمی پالیسی لے کر آئی ہے ، لیکن اس نئی تعلیمی پالیسی کو لے کر ہندوستان میں بسنے والے اقلیتی  سماج اور پسماندہ طبقات سے جڑے دانشوروں  نے تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔ ایک جانب اقلیتوں کی جانب سے تعلیمی پالیسی کو بھگوا کرن کی جانب پیش قدمی جیسے الزامات کا سامنا ہے تو وہیں پسماندہ طبقات کی جانب سے نئی تعلیمی پالیسی کو لے کر کہا جا رہا ہے ۔


اس تعلیم سے  پرائیویٹائزیشن کو فروغ ملے گا اور پسماندہ طبقات جو پہلے سے ہی تعلیم سے سے دور ہیں اور تعلیم کے میدان میں کافی پیچھے ہیں ، وہ مزید پیچھے ہو جائیں گے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Apr 20, 2021 10:01 PM IST