உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہائی کورٹ میں دہلی پولیس نے کہا :کنہیا کے خلاف کوئی ویڈیو ثبوت نہیں

    نئی دہلی : جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے کیمپس میں مبینہ طور پر ہندوستان مخالف نعرے بازی کی وجہ سے غداری کیس میں گرفتار جے این یو طلبہ یونین کے صدر کنہیا کمار کی ضمانت کی درخواست پر دہلی ہائی کورٹ نے فیصلہ 2 مارچ تک کے لئے ملتوی کردیا ہے۔ کورٹ 2 مارچ کو اپنا فیصلہ سنائے گا کہ کنہیا کو ضمانت دی جائے یا نہیں۔

    نئی دہلی : جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے کیمپس میں مبینہ طور پر ہندوستان مخالف نعرے بازی کی وجہ سے غداری کیس میں گرفتار جے این یو طلبہ یونین کے صدر کنہیا کمار کی ضمانت کی درخواست پر دہلی ہائی کورٹ نے فیصلہ 2 مارچ تک کے لئے ملتوی کردیا ہے۔ کورٹ 2 مارچ کو اپنا فیصلہ سنائے گا کہ کنہیا کو ضمانت دی جائے یا نہیں۔

    • Pradesh18
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی : جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے کیمپس میں مبینہ طور پر ہندوستان مخالف نعرے بازی کی وجہ سے غداری کیس میں گرفتار جے این یو طلبہ یونین کے صدر کنہیا کمار کی ضمانت کی درخواست پر دہلی ہائی کورٹ نے فیصلہ 2 مارچ تک کے لئے ملتوی کردیا ہے۔ کورٹ 2 مارچ کو اپنا فیصلہ سنائے گا کہ کنہیا کو ضمانت دی جائے یا نہیں۔


      اس سے قبل ہائی کورٹ نے دہلی پولیس سے پوچھا کہ کیا کوئی ایسا ویڈیو ہے جس میں کنہیا ملک مخالف کام کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، اس کے جواب میں دہلی پولیس نے کہا کہ ہمارے پاس کنہیا کے خلاف کوئی ویڈیو ثبوت نہیں ہے۔ ہم نے جن 161 لوگوں کے بیانات درج کئے ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے کنہیا کو گروپ کو لیڈ کرتے ہوئے دیکھا تھا۔


      خیال رہے کہ 24 فروری کو اس معاملے کی سماعت 29 فروری تک کے لئے ملتوی کردی گئی تھی ، کیونکہ دہلی پولیس نے عدالت سے کہا تھا کہ وہ پھر سے پوچھ گچھ کے لئے کنہیا کی حراست چاہتی ہے۔


      جانچ کے دوران کنہیا کا آمنا سامنا جے این یو کے دو دیگر گرفتار طلبہ عمر خالد اور انربان بھٹاچاریہ سے کروانے کے لئے ایک دن کی حراست میں لیا گیا تھا۔ عمر اور انربان نے 23 فروری کی رات پولیس کے سامنے خودسپردگی کی تھی۔

      First published: