ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

جمعیۃ علما ہند نے غیر مسلم طلبہ کو دی اسکالرشپ ، مولانا ارشد مدنی نے کہی یہ بڑی بات

جمعیۃعلما ہند کے صدر مولانا سید ارشدمدنی نے کہا کہ جمعیۃ علما ہند کی پوری تاریخ شاہد ہے کہ اس نے ہمیشہ ذات پات رنگ ونسل، برادری اور مذہب ومسلک سے اوپر اٹھ کر کام کیا ہے اس لئے اگر اس بار اسکالرشپ کے لئے غیرمسلم طلبا کا بھی انتخاب ہوا ہے تو اس میں حیرت جیسی کوئی بات نہیں ہونی چاہئے۔

  • Share this:
جمعیۃ علما ہند نے غیر مسلم طلبہ کو دی اسکالرشپ ، مولانا ارشد مدنی نے کہی یہ بڑی بات
جمیعت علما ہند نے غیر مسلم طلبہ کو دی اسکالرشپ ، مولانا ارشد مدنی نے کہی یہ بڑی بات

تعلیمی سال 2020-21 کے لئے مجموعی طورپر میرٹ پر کھرا اترنے والے 656 طلبہ کو جمعیۃعلماء ہند کی جانب سے اعلیٰ اورپیشہ وارانہ تعلیم کے لئے اسکالرشپ جاری کرنے کا عمل مکمل ہوچکا ہے ۔ اہم بات یہ ہے کہ اس بار اسکالرشپ حاصل کرنے والوں میں غیر مسلم طلبہ بھی شامل ہیں ۔ واضح ہوکہ مالی طورپر کمزور اور ضرورت مند مگر ذہین اور محنتی طلبہ کو جمعیۃ علما ہند کی طرف سے اسکالرشپ دینے کا آغاز 2012 سے ہوا، اس کیلئے مولانا ارشد مدنی پبلک ٹرسٹ کی جانب سے باضابطہ طورپر ایک تعلیمی امدادی فنڈ قائم کیا گیا اور ماہرین تعلیم کی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ، جو میرٹ کی بنیادپر طلبہ کے انتخاب کا فریضہ انجام دیتی ہے ۔


اس سال اہم پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ ضرورت مند طلبہ کی تعداد کو دیکھتے ہوئے جمعیۃ علما ہند کے صدرمولانا ارشدمدنی نے جہاں امدادی رقم پچاس لاکھ سے بڑھاکر ایک کروڑروپے کرنے کا اعلان کیا ، وہیں اسکالرشپ کے لئے درخواست گزاروں میں ایک بڑی تعداد غیر مسلم طلبہ کی تھی ۔ تعلیمی وظائف کے لئے  شرائط وضوابط کی بنیادپر ہی طلبہ کا انتخاب ہوا اور اس میرٹ پر جو غیر مسلم طلبہ کھرے اترے ، انہیں بھی اسکالرشپ دینے کیلئے منتخب کرلیا گیا ۔ وظائف کی رقم میں جس طرح اضافہ ہوا ، اس کے نتیجہ میں گزشتہ سالوں کے مقابلے اس سال کہیں زیادہ تعداد میں اہل طلبہ کو اسکالرشپ مہیاکرانا ممکن ہوسکا ۔


قابل ذکر ہے کہ جمعیۃ علماء ہند جن کورسیز کے لئے اسکالرشپ دیتی ہے ، ان میں میڈیکل، انجینئرنگ، بی ٹیک، ایم ٹیک پالی ٹیکنک، گریجویشن میں بی ایس سی، بی کام، بی اے، بی بی اے، بی سی اے ماس کمیونیکیشن، ایم اے میں ایم کام، ایم ایس سی، ایم سی اے ڈپلومہ آئی ٹی آئی وغیرہ شامل ہیں۔


جمعیۃعلما ہند کے صدرمولانا سید ارشدمدنی نے اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ جمعیۃعلماء ہند کی پوری تاریخ شاہد ہے کہ اس نے ہمیشہ ذات پات رنگ ونسل، برادری اور مذہب ومسلک سے اوپر اٹھ کر کام کیا ہے اس لئے اگر اس بار اسکالرشپ کے لئے غیرمسلم طلبا کا بھی انتخاب ہوا ہے تو اس میں حیرت جیسی کوئی بات نہیں ہونی چاہئے ، بلکہ ہمارے  لئے یہ انتہائی مسرت کی بات ہے کہ ہماری اس ادنی سی کوشش سے بہت سے غیر مسلم ضرورت مندطلبہ کو اپنا مستقبل سنوارنے میں مدد ملے گی، ایسا کرکے جمعیۃعلماء ہند نے برادران وطن تک یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ حالات خواہ جیسے بھی ہوں ہم اپنے بزرگوں کی روایت اور اصولوں سے انحراف نہیں کرتے ہمارے بزرگوں نے ہر دورمیں بلالحاظ مذہب وملت کام کیا ہے انسانیت کی خدمت اور فلاح ہی ان کا بنیادی مشن رہا ہے۔

مولانا مدنی نے مزید کہا کہ آج کے دورمیں تعلیم بہت مہنگی ہوگئی ہے اور حکومت کے تمام تر دعووں کے باوجود اس کی فلاحی اور تعلیمی اسکمیں ضروت مندلوگوں تک نہیں پہنچ رہی ہیں ۔ اسی بات کو نظرمیں رکھتے ہوئے ہم نے تعلیمی وظائف کا سلسلہ شروع کیا اور اس نکتہ پر اپنی توجہ مرکوز رکھی کہ اعلیٰ اور پیشہ ورانہ تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کو ہی اولیت دی جائے گی ۔ تاکہ اعلیٰ وپیشہ ورانہ تعلیم کی تکمیل کے بعد وہ کسی کے محتاج نہ رہیں ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Mar 18, 2021 11:30 PM IST