ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

لکھنئو میں غیر مسلموں نے اٹھائی اقلیتوں کے تحفظ کی آواز

معروف سماجی کارکن نوین تیواری کہتے ہیں کہ آج جو مذہبی منافرت اور فرقہ پرستی بڑھ رہی ہے اس کے لئے اکثریت کے لوگ پوری طرح سے ذمہ دار ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ اقلیت کے لوگ سو فیصد بے گناہ ہیں۔

  • Share this:
لکھنئو میں غیر مسلموں نے اٹھائی اقلیتوں کے تحفظ کی آواز
لکھنئو میں غیر مسلموں نے اٹھائی اقلیتوں کے تحفظ کی آواز

لکھنئو۔ ملک کو بچانے کے لئے سبھی مذاہب کے لوگوں کو مل کر ان فرقہ پرست عناصر کے خلاف متحد ہونا پڑے گا جو ملک کو آگ اور خون سے بچا کر نئی نسل کو خوبصورت ہندوستان دینا چاہتے ہیں۔ دانشور وسماجی کارکن مانتے ہیں کہ آج ہندووں کو چاہئے کہ وہ بڑی تعداد میں باہر آئیں اور اقلیتوں کو ساتھ لے کر نفرت پھیلانے والوں کا مقابلہ کریں۔ 1947 میں جس وقت ملک کا بٹوارا ہوا تھا تو اُس بٹوارے کے لئے ہندو اور مسلمان دونوں ذمہ دار تھے جس کے نتیجے میں ایک ملک تقسیم ہوا اور ہندوستان وپاکستان کی شکل میں دو ملک بن گئے لیکن موجوہ صورت حال اور آج کا منظر نامہ بالکل مختلف ہے۔


معروف سماجی کارکن نوین تیواری کہتے ہیں کہ آج جو مذہبی منافرت اور فرقہ پرستی بڑھ رہی ہے اس کے لئے اکثریت کے لوگ پوری طرح سے ذمہ دار ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ اقلیت کے لوگ سو فیصد بے گناہ ہیں۔ لہٰذا اس منظر نامے کو سمجھتے ہوئے ملک کے امن پسند سیکولر مزاج اور قومی ایکتا اور ملک کے جمہور ودستور میں یقین رکھنے والے ہندو طبقے کے لوگوں کو بڑی تعداد میں آگے آکر اس نفرت کے تدارک کی تدبیریں کرنی ہوں گی۔ لکھنئو کے کئی مقامات پر اس موضوع کو لے کر لوگوں نے تبادلہء خیال کرنے کے بعد اس ضمن میں باقاعدہ پیش رفت کرنے کے لئے سماج کے ذمہ دار اور اہم لوگوں سے رابطے کئے ہیں۔


پریس کلب میں منعقدہ میٹنگ میں شریک معروف سماجی کارکن سردار دیوندر سنگھ نے کہا کہ دہلی میں ظلم وتشدد کا جو ننگا ناچ ہوا ہے اس کے لئے موجودہ سیاسی نظام پوری طرح سے ذمہ دار ہے۔ لوگ ایک دوسرے سے لڑنا نہیں چاہتے ہیں۔ مل جُل کر رہنا چاہتے ہیں۔ ترقی اور تعلیم کے نام پر ووٹ کرکے فرقہ پرست عناصر کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں تو شکست خوردہ سیاست کو یہ برداشت نہیں۔ دہلی کے موجودہ فساد کو سازش اور سوچی سمجھی حکمت عملی قرار دیتے ہوئے سردار دیوندر سنگھ نے یہ بھی کہا کہ جب سنہ 1984 میں فسادات ہوئے تھے تو بڑے پیمانے پر سکھوں کا جانی اور مالی نقصان ہوا تھا اور اب یہی مسلمانوں کے ساتھ بھی ہوا ہے۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ عوام اس وقت بھی سکھوں کے خلاف نہیں تھے اور اس وقت بھی عوام مسلمانوں کے خلاف نہیں ہیں۔


دہلی تشدد کی تصویر: فائل فوٹو: نیوز18


معروف سماجی کارکن اور لکھنئو یونیورسٹی کی سابق وائس چانسلر روپ ریکھا ورما کہتی ہیں کہ لوگوں کو تعلیم اور ترقی کی ضرورت ہے۔حکومت کو چاہئے کہ وہ لوگوں کو لڑانے اور دوسرے مسائل میں الجھانے کے بجائے ان کے بنیادی مسائل حل کرے۔ عام لوگ لڑنا نہیں چاہتے وہ سکون چاہتے ہیں۔ وہ بچوں کے لئے تعلیم اور زندگی کی دوسری بنیادی ضروریات و سہولیات کے متمنی ہیں۔

سماجی کارکنان اور دانشوران یہ بھی کہتے ہیں کہ دہلی کے فسادات میں جہاں انسانوں کا خون بہایا گیا۔ آگ وخون سے سماج کو بکھیرنے اور توڑنے کی کوشش کی گئی وہیں بہت سی ایسی مثالیں بھی سامنے آئیں جب ہندو بھائیوں نے مسلم کنبوں کی حفاظت کی اور مسلمانوں نے ہندو بھائیوں کے خاندانوں اور دوکانوں اور عبادت گاہوں کا نقصان نہیں ہونے دیا۔یہ ایکتا ہی ہندوستان کی اصل تصویر ہے۔ اس تصویر کو مزید خوبصورت بنانے اور اس کو محبت کے رنگوں سے سجانے کی ضرورت ہے۔
First published: Mar 11, 2020 01:32 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading