உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    نوٹ بند ی : کل جمع نوٹوں کا ایک تہائی بھی تقسیم نہیں کر سکی مودی حکومت ، 2000 کے مقابلہ میں 500 کے نوٹ بھی کافی کم

    نوٹ بند ی کے بعد حکومت کے پاس 13 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کے پرانے نوٹ آ چکے ہیں۔ سی این بی سی-آواز کو ملی خصوصی معلومات کے مطابق ان میں سے صرف 33 فیصد رقم ہی حکومت نے لوگوں کے درمیان تقسیم کی ہے

    نوٹ بند ی کے بعد حکومت کے پاس 13 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کے پرانے نوٹ آ چکے ہیں۔ سی این بی سی-آواز کو ملی خصوصی معلومات کے مطابق ان میں سے صرف 33 فیصد رقم ہی حکومت نے لوگوں کے درمیان تقسیم کی ہے

    نوٹ بند ی کے بعد حکومت کے پاس 13 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کے پرانے نوٹ آ چکے ہیں۔ سی این بی سی-آواز کو ملی خصوصی معلومات کے مطابق ان میں سے صرف 33 فیصد رقم ہی حکومت نے لوگوں کے درمیان تقسیم کی ہے

    • Pradesh18
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی : نوٹ بند ی کے بعد حکومت کے پاس 13 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کے پرانے نوٹ آ چکے ہیں۔ سی این بی سی-آواز کو ملی خصوصی معلومات کے مطابق ان میں سے صرف 33 فیصد رقم ہی حکومت نے لوگوں کے درمیان تقسیم کی ہے۔ بینک اور ڈاك خانوں میں کل4000 کروڑ روپے کے نوٹ بدلے گئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار 6 دسمبر یعنی کل شام تک کے ہیں۔
      ذرائع کے مطابق نوٹ بندي کے بعد بینک اور ڈاك خانوں میں کل 12.76 لاکھ کروڑ روپے جمع ہوئے ہیں۔ جمع رقم کے علاوہ بینک اور ڈاک خانوں میں کل 40.48 لاکھ کروڑ روپے بدلے گئے ہیں۔ نوٹ بندي کے بعد 13.17 لاکھ کروڑ روپے قیمت کے 500 اور 1000 کے پرانے نوٹ آ چکے ہیں۔ نوٹ بندی کے بعد اب تک حکومت نے جمع رقم کا صرف 32.72 فیصد رقم لوگوں کے درمیان تقسیم کیا ہے۔ نوٹ بندي کے بعد حکومت نے کل 4.31 لاکھ کروڑ روپے لوگوں کے درمیان تقسیم کئے ہیں۔
      ادھر ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ ریزرو بینک اور کرنسی چیسٹ ملا کر کل 117509 کروڑ روپے ہیں ، جبکہ ریزرو بینک کے پاس 43165 کروڑ روپے کی تقریبا رقم ہے۔ ریزرو بینک کے پاس 2000 کے نوٹ کے مقابلے 500 کے نوٹ صرف 9 فیصد ہیں۔ ریزرو بینک کے پاس 3250 کروڑ روپے کی قیمت کے 500 کے نوٹ ہیں ، جبکہ 36213 کروڑ روپے کی قیمت کے 2000 کے نوٹ ہیں۔
      کرنسی چیسٹ میں فی الحال 74344 کروڑ روپے ہیں۔ كرنسی چیسٹ میں 2000 کے نوٹ کے مقابلے 500 کے نوٹ صرف 15 فیصد ہیں۔ کرنسی چیسٹ میں 54470 کروڑ روپے کے 2000 کے نوٹ جبکہ 8345 کروڑ روپے کے 500 کے نوٹ ہیں۔
      ٹیکس ایکسپرٹ ٹی پی اوستوال کے مطابق حکومت دوسری مرتبہ سرجیکل اسٹرائیک کرکے بینکوں میں جمع ہوئے پیسوں کی جانچ شروع کر سکتی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ انکم ٹیکس اور گمنام پراپرٹی قانون کے تحت کارروائی کا امکان ہے۔
      First published: