உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Hajj: حج کمیٹوں کی تشکیل میں تاخیر، حج فنڈ کا بیجا استعمال، سپریم کورٹ نے مرکزاورریاستوں سے مانگا جواب

    کرونا وبا کے دور میں حج سے متعلق انتظامات فعال طریقے سے نہیں چلے ہیں،  حالات یہ ہیں کہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے مرکزی حج کمیٹی کی تشکیل نہیں ہو سکی ہے اسی طرح اترپردیش میں حج کمیٹی اور کئی دوسری ریاستوں میں حج کمیٹیوں کی تشکیل اور اس سے متعلق سرگرمیوں میں رخنہ پڑا ہوا ہے ۔

    کرونا وبا کے دور میں حج سے متعلق انتظامات فعال طریقے سے نہیں چلے ہیں، حالات یہ ہیں کہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے مرکزی حج کمیٹی کی تشکیل نہیں ہو سکی ہے اسی طرح اترپردیش میں حج کمیٹی اور کئی دوسری ریاستوں میں حج کمیٹیوں کی تشکیل اور اس سے متعلق سرگرمیوں میں رخنہ پڑا ہوا ہے ۔

    کرونا وبا کے دور میں حج سے متعلق انتظامات فعال طریقے سے نہیں چلے ہیں، حالات یہ ہیں کہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے مرکزی حج کمیٹی کی تشکیل نہیں ہو سکی ہے اسی طرح اترپردیش میں حج کمیٹی اور کئی دوسری ریاستوں میں حج کمیٹیوں کی تشکیل اور اس سے متعلق سرگرمیوں میں رخنہ پڑا ہوا ہے ۔

    • Share this:
    نئی دہلی: حج کمیٹی آف انڈیا کے سابق رکن اور آل انڈیا حج سیوا سمیتی کے سابق قومی صدر حافظ نوشاد احمد اعظمی نے سپریم کورٹ میں آئین ہند کے آرٹیکل 32کے تحت مفاد عامہ کی عرضی دائر کرکے حج ایکٹ، 2002 کے سیکشن 3 اور4کے تحت قومی سطح پر حج کمیٹی کی تقرری، حج ایکٹ کے سیکشن 17 اور 18 کے بموجب ریاستی حج کمیٹیوں کی تشکیل اور حج فنڈ کے منصفانہ استعمال کے سلسلے میں ٹھوس احکامات جاری کرنے کی درخواست کی ہے۔ عرضی گزار کے مطابق آرٹیکل 32 کے تحت مفاد عامہ کی یہ عرضی تمام باشندوں بالخصوص مسلم طبقہ کے مفاد میں اور بہ آسانی فریضہ حج ادا کرنے کے حق میں داخل کی گئی ہے۔ (عرضی گزار جناب حافظ نوشاد احمد اعظمی نے کہا کہ انہوں نے ایک سال سے اس سلسلے میں متعلقہ اتھارٹی سے کئی بار رسمی کارروائی کی اپیل کی ہے اور ان کے سامنے اپنے مطالبات پیش کرچکے ہيں لیکن اب تک ان پر کوئی تسلی بخش کاروائی نہیں ہوئی. بالآخر حج 2022 کا اعلان ہونے کے پیش نظر عازمین کو مشکلات سے بچانے کے واسطے فوری اقدامات کے لیے انہوں نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔)
    سپریم کورٹ میں سینئر ایڈوکیٹ طلحہ عبد الرحمن کے بدست 25 اکتوبر 2021 کو دائر کی جانے والی مفاد عامہ کی عرضی میں انہوں نے مرکزی وزارت اقلیتی امور، وزارت خارجہ اور حج کمیٹی آف انڈیا کے علاوہ 21 ریاستی وعلاقائی حج کیمٹیوں کے ذمہ داروں کو فریق بنایا ہے۔ رٹ پٹیشن میں انہوں نے متعلقہ فریقوں کو اس سلسلے میں بھی پختہ ہدایات جاری کرنے کا التماس کیا ہے کہ وہ حج ایکٹ کے التزامات کی سختی سے پیروی کریں، بالخصوص حج ایکٹ کی شق 4 کے تحت جمع ہونے والے سینٹرل اور اسٹیٹ حج فنڈ کا مناسب اور جائز استعمال کیا جائے۔


    پٹیشن کے مطابق مفاد عامہ کی یہ عرضی اس لئے داخل کی گئی ہے کیونکہ آئین ہند کے آرٹیکل 14,19,25,26اور 21 کے تحت حاصل عرضی گزار اور عوام کے حقوق کی خلاف ورزی کی جارہی ہے اور مدعی علیہان اب تک مرکزی اور ریاستی سطح پر حج کمیٹیوں کی تشکیل کرنے میں ناکام رہے ہیں جس کے نتیجے میں ایسی صورتحال درپیش ہے جس میں عازمین خود کو یتیم محسوس کر رہے ہیں جن کے مفادات کا کوئی بھی پرسان حال نہیں ہے۔ یہ کمیٹیاں باضابطہ قانونی سرگرمیاں انجام دینے والی کمیٹیاں ہیں اور ان کی عدم تقرری نہ صرف ان کی قانونی حیثیت کی خلاف ورزی ہے بلکہ ملک کے عوام کے لیے حج کی ادائیگی ممکن بنانے کے حکومت کے آئینی مقصد کی بھی پامالی ہے۔ اس سے ممکنہ طورپر ہونے والے نقصان کی نوعیت یہ ہے کہ حج 2022اور اس کے بعد ہونے والے حج کے تعلق سے ملک کے شہری اپنی ضرورتوں اور مطالبات پر کما حقہ توجہ دیئے جانے سے محروم ہوسکتے ہيں۔ یہ ذکر کرنا مناسب ہوگا کہ اقلیتی امور کے مرکزی وزیر نے کہا ہے کہ حج 2022کا اعلان نومبر 2021کے پہلے ہفتے میں کیا جاسکتا ہے۔ جس کے پیش نظر حج 2022کے لیے اس معاملے میں مؤقر عدالت عظمی کی طرف سے فوری مداخلت بہت اہم ہے۔


    عرضی گزار نے اس پٹیشن میں ایک ضمنی عرضی شامل کرتے ہوئے عدالت عظمی سے متعلقہ فریقوں (مدعی علیہان) کو اس ضمن میں پختہ ہدایات دینے کی بھی اپیل کی ہے کہ وہ حج ایکٹ 2002کے التزامات کی سختی سے پابندی کریں، بالخصوص حج ایکٹ کی شق 4 کے بموجب جمع ہونے والے مرکزی اور ریاستی حج فنڈ کے مناسب اور درست استعمال کا خیال رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ جنوری 2021 میں منظر عام آنے والی متعدد رپورٹوں میں یہ الزام لگایا گيا ہے کہ مرکزی حکومت نے وزارت اقلیتی امور کے ذریعہ سینٹرل حج فنڈ کے بیجا استعمال کی اجازت دی ہے۔ عازمین حج کے فائدے اور ان کی بہبود میں استعمال کی خاطر قائم ہونے والے فنڈ کو غیر قانونی طور پر مدعی علیہ نمبر 3(حج کمیٹی آف انڈیا) کے ذریعہ ممبئی میں ایک پلاٹ خریدنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے جس میں مبینہ طورپر نئے حج ہاؤس کی تعمیر ہونے والی ہے۔یہ پلاٹ نوی ممبئی کے کھارگھر میں ہے جو نئے ایئرپورٹ سے نزدیک واقع ہے اور اس میں نئے حج ہاؤس اور حج کمیٹی کے نئے دفتر کی تعمیر ہوگی۔ جبکہ ممبئی میں حج کمیٹی آف انڈیا کے صدر دفاتر ہونے کے ناطے 1927 سے ہی 19 منزلہ حج ہاؤس موجود ہے جو ممبئی کے سب سے اہم علاقے یعنی چھترپتی شیواجی مہاراج ریلوے اسٹیشن کے نزدیک ہے۔
    متعلقہ فریقوں نے اس پلاٹ کی خریداری میں تقریبا 14 کروڑ روپے خرچ کیے ہيں اور اب اس کی تعمیر میں اس سے بھی زيادہ روپے خرچ کرنے والے ہیں۔ یہ تمام اخراجات سینٹرل حج فنڈ سے کیے گئے ہيں، جو کہ حج ایکٹ 2002کے بموجب دیگر ذرائع کے علاوہ عازمین حج سے حاصل ہونے والے پیسے، متوفی عازمین کے اثاثوں کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم اور ان کے چھوڑے ہوئے پیسے سے بنا ہے۔ متعلقہ فریقوں کے ذریعہ اس قدر مبارک فنڈ کا بیجا استعمال کرنا بہت مذموم عمل ہے اور اس کا ارتکاب کرنے والے سزا پانے کے مستحق ہیں۔
    اس سلسلے میں عرضی گزار نے عدالت عظمی سے کھارگھر، نوی ممبئی، مہاراشٹر میں حج کمیٹی کی کیمپ آفس کی تعمیر پر عبوری حکم امتناع (انٹرم اسٹے آرڈر) جاری کرنے کی اپیل کی ہے اور اس پٹیشن کے زیر التواء رہنے کے دوران متعلقہ فریقوں کو حج ایکٹ کے بموجب ریاستی اور مرکزی حج کمیٹی کی تقرری پر غور کرنے کے لیے عبوری حکم جاری کرنے کی درخواست کی ہے۔

    پٹیشن میں یہ بھی کہاگیاہے کہ حج کمیٹی آف انڈیا جون 2016 میں جو بنائی گئی اس میں حج ایکٹ کی صریح خلاف ورزی کی گئی اور تین علماے کرام کی نمائندگی جولازم ہے ایک شیعہ دو سنی وہ نمائندگی ختم کردی گئی اور ان کی جگہ غیر قانونی طریقہ سے بی جے پی میں دلچسپی رکھنے والے افراد کو رکھاگیا جوعلماکیٹیگری میں نہیں آتے۔ سپریم کورٹ نے آج سماعت کرتے ہوئے مرکزی حکومت کےوزارت خارجہ اور وزارت حج اقلیتی فلاح وبہبود اورحج کمیٹی آف انڈیا اور 21صوبائی حج کمیٹیوں کو چھ ہفتے میں نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب مانگاہے حافظ نوشاداحمداعظمی کی طرف سےسینئروکیل جناب سنجے آر ایگڑے اور طلحہ عبدالرحمٰن نےبحث کرتے ہوئے کہاکہ کھارکھر میں جوحج کمیٹی جوتعمیر کرارہی ہے اس پر ایسٹے لیاجائے جس پرعدالت عظمی نے کہاکہ ان کا جواب آنے دیجیئے۔سپریم کورٹ کے اس حکم نامے پر حافظ نوشاداحمداعظمی نےاپنارد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ ہم عدالت عظمی کا شکریہ اداکرتے ہیں کہ انھوں نے ہماری مفاد عامہ کی ریٹ پر سنجیدگی سے غور کرکےیہ حکم نامہ جاری کیا۔حافظ نوشاداحمد نے اپنے وکیل جناب سنجےآرایگڑے اور طلحہ عبدالرحمٰن کابھی شکریہ ادا کیاکہ ان لوگوں نے کڑی محنت کرکے ایک سوستر صفحات پرمشتمل یہ ریٹ تیار کی اور عدالت کے سامنے بہت سلیقے سے ملک کے عازمین حج کے مسائل کو رکھا۔انھوں نے کہاکہ ہمیں عدالت عظمی سے بھروسہ اور یقین کامل ہے کہ ملک کے عازمین حج کو انصاف ملے گا۔

    قومی، بین الااقوامی، جموں و کشمیر کی تازہ ترین خبروں کے علاوہ  تعلیم و روزگار اور بزنس  کی خبروں کے لیے  نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: