உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بڑی خبر: کانگریس لیڈر صدف جعفر و سابق آئی پی ایس آفیسر دارا پوری جیل سے رہا

    کانگریس لیڈر صدف جعفر و سابق آئی پی ایس دارا پوری جیل سے رہا

    کانگریس لیڈر صدف جعفر و سابق آئی پی ایس دارا پوری جیل سے رہا

    گذشتہ سنیچر کو لکھنؤ کی ایک عدالت نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے 50۔50 ہزار روپئے نجی مچلکے پر انہیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
    لکھنؤ۔ شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت میں ہوئے احتجاج کے درمیان گرفتار سابق آئی پی ایس افسر و سماجی کارکن ایس آر دارا پوری و کانگریس لیڈر صدف جعفر کو منگل کو لکھنؤ ڈسٹرکٹ جیل سے رہا کردیا گیا۔ گذشتہ سنیچر کو لکھنؤ کی ایک عدالت نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے 50۔50 ہزار روپئے نجی مچلکے پر ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ اہل خانہ کے بقول سنیچر کو ہی ضمانت کی عرضی منظور ہونے کے بعد اتوار کی چھٹی اور پیر کو عدالتی کاروائی کی تکمیل میں گذر گیا جس کی وجہ سے ان کی رہائی میں تاخیر ہوئی اور انکی رہائی آج ممکن ہو پائی۔


    ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج ایس ایس پانڈے نے معاملے کی سماعت کرتے ہوئے جمعہ کو اس پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا اور سنیچر کو اپنا فیصلہ سناتے ہوئے جیل میں قید ان افراد کو راحت دے دی تھی۔ گذشتہ 19 دسمبر کو ریاستی راجدھانی لکھنؤ میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ہونے والے احتجاج میں اچانک تشدد پھوٹ پڑا تھا جس میں شرپسند عناصر نے پتھر بازی کے ساتھ ساتھ متعدد گاڑیوں کو آگ لگا دی تھی۔
    مظاہرین اور سیکورٹی اہلکار کے ساتھ جھڑپ کی پاداش میں پولیس نے 200 افراد کو گرفتار کیا تھا جن میں کانگریس کارکن صدف جعفر بھی شامل تھیں۔ صدف جعفر کو احتجاج کے دوران پریورتن چوک سے پولیس نے اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ فیس بک لائیو ویڈیو بنا رہی تھیں جس میں وہ تشدد پر آمادہ افراد کے خلاف کچھ کاروائی نہ کرنے پر پولیس کی تنقید کرتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔ صدف جعفر کی رہائی کے لئے معروف شخصیات بشمول سورا بھاسکر، میرا نائر اور مہیش بھٹ نے شوسل میڈیا پر ان کی گرفتاری کے خلا ف اپنی آواز بلند کی تھی۔ اس سے قبل 23 دسمبر کو یہ کہتے ہوئے جعفر کی ضمانت کی عرضی خارج کردی گئی تھی کہ جن دفعات کے تحت صدف پر مقدمہ درج کیا گیا ہے وہ کافی سنگین ہیں اور انہیں ضمانت نہیں دی جا سکتی۔
    First published: