உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    نرس نے کرائی 5000 ڈلیوری، اپنے ہی بچے کوجنم دیتے وقت ہو گئی موت: جانیں پورا معاملہ

    اسپتال (Government Hospital) کے لوگوں کا کہنا ہے کہ جیوتی ایک ہونہار اور نیک طبیعت کی نرس تھی وہ اپنے کام سے یہاں آنے والی خواتین کا دل جیت لیتی تھی۔ یہاں ڈلیوری کے لیے آنے والی ہر ایک خاتون جیوتی نرس کے کام کی زبردست تعریف کرتی ہے۔

    اسپتال (Government Hospital) کے لوگوں کا کہنا ہے کہ جیوتی ایک ہونہار اور نیک طبیعت کی نرس تھی وہ اپنے کام سے یہاں آنے والی خواتین کا دل جیت لیتی تھی۔ یہاں ڈلیوری کے لیے آنے والی ہر ایک خاتون جیوتی نرس کے کام کی زبردست تعریف کرتی ہے۔

    اسپتال (Government Hospital) کے لوگوں کا کہنا ہے کہ جیوتی ایک ہونہار اور نیک طبیعت کی نرس تھی وہ اپنے کام سے یہاں آنے والی خواتین کا دل جیت لیتی تھی۔ یہاں ڈلیوری کے لیے آنے والی ہر ایک خاتون جیوتی نرس کے کام کی زبردست تعریف کرتی ہے۔

    • Share this:
      ہنگولی: ہنگولی کے ایک سرکاری اسپتال میں کام کرنے والی نرس بچے (Nurse Died) کو جنم دیتے وقت دم توڑ گئی۔ حیران کن بات یہ ہے کہ مرنے والی نرس نے اپنی ملازمت کے دوران تقریباً 5000 خواتین کی ڈلیوری کروائی تھی۔ وہ گزشتہ پانچ سال سے اسپتال میں کام کر رہی تھی۔ حالانکہ اس نے جس بچے کو جنم دیا وہ مکمل طور پر صحت مند ہے۔ نرس کی موت کی خبر پھیلتے ہی اسپتال میں کہرام مچ گیا۔ متوفی کی شناخت 38 سالہ جیوتی گاولی کے طور پر کی گئی ہے۔

      اسپتال (Government Hospital) کے لوگوں کا کہنا ہے کہ جیوتی ایک ہونہار اور نیک طبیعت کی نرس تھی وہ اپنے کام سے یہاں آنے والی خواتین کا دل جیت لیتی تھی۔ یہاں ڈلیوری کے لیے آنے والی ہر ایک خاتون جیوتی نرس کے کام کی زبردست تعریف کرتی ہے۔ جیوتی کو اپنے بچے کی پیدائش کے لیے 2 نومبر کو اسی سرکاری اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ جیوتی نے آپریشن کے ذریعے ایک بچے کو جنم دیا۔ بچہ صحت مند ہے لیکن آپریشن کے بعد جیوتی کی طبیعت اچانک بگڑ گئی اور وہ دم توڑ گئی۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ ڈلیوری کے بعد جیوتی کا خون بہنا بند نہیں ہوا جس کے بعد اسے ناندیڑ اسپتال لے جایا گیا لیکن اسے بچایا نہیں جاسکا۔

      سانس لینے میں دقت ہو رہی تھی۔۔۔
      معلومات کے مطابق ناندیڑ کے اسپتال میں علاج کے دوران ان کی حالت بہتر نہیں ہوئی اور کچھ دیر بعد جیوتی کو سانس لینے میں تکلیف ہونے لگی۔ اس کے بعد ڈاکٹروں نے اسے اورنگ آباد اسپتال منتقل کرنے کا منصوبہ بنایا جب تک ڈاکٹروں نے اسے شفٹ کیا، جیوتی اس دنیا کو چھوڑ چکی تھی۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ایک وقت ایسا لگ رہا تھا کہ جیوتی ٹھیک ہو جائیں گی لیکن اتوار کو اچانک ان کی حالت خراب ہو گئی اور وہ چل بسیں، بچے کو جیوتی کے گھر والوں کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

      معلومات کے مطابق جیوتی ہنگولی کے سرکاری اسپتال میں نوزائیدہ شعبہ میں کام کرتی تھی۔ اس سے پہلے وہ گورے گاؤں میں تعینات تھیں۔ ذرائع سے موصول ہونے والی معلومات کے مطابق صرف ہنگولی میں ہی پانچ سال کے دوران اس نے تقریباً 5000 خواتین کو اپنے بچے کی پیدائش میں مدد کی تھی۔ جیوتی ان نرسوں میں سے ایک تھیں جو آپریشن تھیئٹر میں نارمل ڈلیوری کے ساتھ ساتھ سیزرین ڈیلیوری میں خواتین کی مدد کرتی تھیں۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: