உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اب ریاست اور مرکز کے زیر اتنظام خطے بنانے سکیں گے اپنی OBC فہرست، لوک سبھا نے بل کو دی منظوری

    اب ریاست اور مرکز کے زیر اتنظام خطے بنانے سکیں گے اپنیOBCفہرست،لوک سبھا نے بل کو دی منظوری ۔ پی ٹی آئی ۔ فائل فوٹو ۔

    اب ریاست اور مرکز کے زیر اتنظام خطے بنانے سکیں گے اپنیOBCفہرست،لوک سبھا نے بل کو دی منظوری ۔ پی ٹی آئی ۔ فائل فوٹو ۔

    OBC Constitution 127th Amendment Bill: لوک سبھا نے منگل کو ریاستوں کو دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کی فہرست بنانے کا اختیار دینے سے متعلق 105 واں آئینی ترمیمی بل 385 ووٹوں سے منظور کیا۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی : لوک سبھا نے آج ریاستوں کو دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کی فہرست بنانے کا اختیار دینے سے متعلق 105 واں آئینی ترمیمی بل 385 ووٹوں سے منظور کیا۔ لوک سبھا میں تقریبا ساڑھے پانچ گھنٹے تک جاری رہنے والی بحث پر سماجی انصاف و تفویض اختیارات کے وزیر ڈاکٹر ویریندر کمار کے جواب دینے کے بعد ایوان نے اس ترمیمی بل کو تقریبا دو گھنٹے کی کارروائی میں صفر ووٹ کے مقابلے 385 ووٹوں سے منظور کیا۔ اس بل کو منظورکرنے سے پہلے اس کا نام بدل کر آئین (105 ویں ترمیم) بل کر دیا گیا۔

      بحث کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر ویریندر کمار نے کہا کہ اس بل کی منظوری کے بعد ریاستوں کو ریاستی حکومت کی فہرست کے مطابق او بی سی کمیونٹی کے لوگوں کو تعلیم، نوکریاں اور فلاحی اسکیمیں فراہم کرنے کی راہ ہموار ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ او بی سی کمیونٹی کے مفادات کے تحفظ کے لئے حکومت کی پالیسی اور نیت دونوں واضح ہیں۔ سال 2018 میں 102 ویں ترمیم کے وقت، سب نے اس کی حمایت کی تھی۔ اس بل کے ذریعے ریاستوں کے جو اختیارات ختم ہوگئے تھے ان کو بحال کیا گيا ہے۔

      ڈاکٹر ویریندر کمار نے کہا کہ حکومت نے ریزرویشن کے حوالے سے سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دائر کی تھی، جس پر عدالت عظمی نے واضح کیا تھا کہ 102 ویں آئینی ترمیم سے آئین کے بنیادی ڈھانچے اور وفاقی نظام پر کوئی اثر نہيں پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے یکم جولائی کو سپریم کورٹ کے ذریعہ نظرثانی کی درخواست خارج کرنے کے بعد نیا بل لانے کا فیصلہ کیا۔ مہاراشٹر کے علاوہ دیگر ریاستوں کو بھی اس بل کی منظوری سے فائدہ ہوگا۔

      ریزرویشن کی حد 50 فیصد سے بڑھانے کے مطالبے پر سماجی انصاف و تفویض اختیارات کے وزیر نے کہا کہ حکومت ممبروں کے جذبات کو پوری طرح سمجھتی ہے کہ 50 فیصد کی حد 30 سال پہلے لگائی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اسے تبدیل کرنے کی تجویز کا گہرائی سے مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے۔

      وزیر موصوف کے جواب کے بعد اسپیکر اوم برلا نے الیکٹرانک طریقہ کار کی بجائے بیلٹ پیپر کے ذریعے ووٹنگ کروائی۔ آئینی ترمیمی بل کی شرط کے مطابق، ایوان کے ارکان کی کل تعداد کے نصف سے زیادہ اور ووٹنگ میں حصہ لینے والے ارکان کی کل تعداد کا دو تہائی سے زیادہ ووٹ حاصل ہونے پر ہی اسے منظور سمجھا جاتا ہے۔ تقریبا آٹھ بجے لوک سبھا کے اسپیکر نے آئین کے 105 ویں ترمیمی بل کی منظوری کا اعلان کیا۔

      اس کے بعد اپوزیشن ارکان دوبارہ نعرے لگاتے ہوئے ایوان کے وسط میں آ گئے۔ پریزائیڈنگ اسپیکر راجندر اگروال نے ہومیوپیتھی کمیشن (ترمیمی) بل 2021 اور پھر نیشنل کمیشن فار انڈین سسٹم آف میڈیسن (ترمیمی) بل 2021 بغیر بحث کے منظور کیا اور ایوان کو بدھ تک ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: