ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

محبوبہ مفتی اورعمرعبداللہ کوسیکورٹی اسباب کے پیش نظراحتیاطاً حراست میں لیا گیا

حراست میں لینے کے بعد انہیں سری نگرکے ہری نواس گیسٹ ہاوس میں رکھا گیا ہے ۔ وہیں وادی میں 144 نافذ ہے۔

  • Share this:
محبوبہ مفتی اورعمرعبداللہ کوسیکورٹی اسباب کے پیش نظراحتیاطاً حراست میں لیا گیا
تاہم انگریزی اخبارانڈین ایکسپریس کے مطابق سرینگر کے مقامی انتظامیہ نے ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں کی تھی کہ عمراور محبوبہ کو بھی اسی قانون کے تحت نظر بند کیا گیا ہے۔ پی ایس اے کے تحت نظربندی کا آرڈر ضلع مجسٹریٹ کی جانب سے جاری ہوتا ہے۔حکام نے پہلے ہی سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ کو پی ایس اے کے تحت نظر بند کیا ہے۔ وہ گپکار روڑ پر اپنی رہائش گاہ میں نظر بند ہیں۔ گزشتہ ہفتے حکام نے انکی جماعت نیشنل کانفرنس کے رہنماؤں کو انکے ساتھ ملاقات کی اجازت دی تھی۔

جموں وکشمیرسے دفعہ 370 اور35 اے ہٹائے جانےکے بعد اتواررات سے اپنے اپنے گھروں میں نظربند صوبے کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی اورنیشنل کانفرنس کےلیڈرعمر عبداللہ کواحتیاطاً حراست میں لےلیا گیا ہے۔ حراست میں لینےکے بعد انہیں سری نگرکے ہری نواس گیسٹ ہاوس میں رکھا گیا ہے۔ وہیں وادی میں 144 نافذ ہے۔ دراصل محبوبہ مفتی اور عمرعبداللہ دفعہ 370 اور35 اے کوہٹانےکولےکرمسلسل بیان بازی کررہے تھے۔ ذرائع کی مانیں توانتظامیہ نے دونوں کی بیان بازی پرتشدد بھڑکنےکے خدشہ کے پیش نظرانہیں احتیاطاً حراست میں لیا ہے۔


محبوبہ مفتی اورعمرعبداللہ دفعہ 370 اور35 اے ہٹانے کولے کرمسلسل بیان بازی کررہے تھے۔ انتظامیہ نے دونوں کی بیان بازی پرتشدد بھڑکنےکے پیش نظرکے سبب انہیں حراست میں لےکرسری نگرکے ہری نواس گیسٹ ہاوس میں رکھا ہے۔


اس سے پہلےاتواررات کومحبوبہ مفتی اورعمرعبداللہ کوان کی رہائش گاہ پرنظراندازکردیا گیا تھا۔ ان کےعلاوہ وادی میں ابھی بھی کئی علیحدگی پسند لیڈراورسیاسی جماعتوں کےلیڈران  شامل ہیں۔ وادی میں پوری طرح سے موبائل، لینڈ لائن، براڈ برینڈ سمیت سبھی انٹرنیٹ خدمات ہفتہ رات سے ہی بند کردیئےگئے تھے۔ وہیں وادی میں سبھی افسران کوسیٹلائٹ فون کردیئے گئےہیں۔ تاکہ آپس میں بات چیت ہوتی رہے۔


مرکزکے زیرانتظام ریاستوں کومحتاط رہنے کوکہا

دفعہ 370 ختم کرنےکے فیصلے کےبعد پورے ملک میں سیکورٹی خدشات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ خدشہ ہےکہ شرپسند عناصرملک میں گڑبڑی پیدا کرسکتے ہیں۔ اس کے مد نظرمرکزنے ریاستوں اورمرکزکےزیرانتظام ریاستوں کےزیادہ محتاط رہنےکوکہا ہے۔ وزارت داخلہ نے پیرکوجاری حکم میں کہا کہ شرپسند عناصرکوملک کےکسی بھی حصے میں سیکورٹی، امن اورعوامی ہم آہنگی کےماحول کوخراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے۔

ہم آہنگی بنائے رکھنے کوسبھی ضروری قدم اٹھائیں

اس میں سبھی ریاستوں اورمرکزکے زیرانتظام ریاستوں کولا اینڈ آرڈرکے کسی بھی خلاف ورزی کوروکنے کےلئے سیکورٹی اہلکاروں کومحتاط رہنے کا حکم جاری کرنےکوکہا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے'یہ اپیل کی جاتی ہےکہ ملک کے سبھی حصوں میں امن وامان اورہم آہنگی برقراررکھنےکےلئے ضروری قدم اٹھائے جاسکتے ہیں۔ فرقہ وارانہ طورپرحساس علاقوں پرخصوصی توجہ دی جاسکتی ہے'۔
First published: Aug 05, 2019 10:08 PM IST