ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

پی ڈی پی اوربی جے پی نے بدترین حکمرانی کی، ہم کسی تھرڈ فرنٹ یا فورتھ فرنٹ سے نہیں ڈرتے: عمرعبداللہ

نیشنل کانفرنس کے نائب صدروسابق وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ نے کہا کہ ان کی جماعت ریاست میں کسی تھرڈ فرنٹ یا فورتھ فرنٹ کے قیام سے نہیں ڈرتی ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Jul 16, 2018 07:43 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
پی ڈی پی اوربی جے پی نے بدترین حکمرانی کی، ہم کسی تھرڈ فرنٹ یا فورتھ فرنٹ سے نہیں ڈرتے: عمرعبداللہ
جموں وکشمیر کے سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ: فائل فوٹو

سری نگر: نیشنل کانفرنس کے نائب صدروسابق وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ نے کہا کہ ان کی جماعت ریاست میں کسی تھرڈ فرنٹ یا فورتھ فرنٹ کے قیام سے نہیں ڈرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری طاقت دہلی، نارتھ بلاک یا ساؤتھ بلاک سے نہیں آتی بلکہ ہماری طاقت جموں وکشمیر کےعوام سے آتی ہے۔


نیشنل کانفرنس کے نائب صدرعمرعبداللہ نے ان باتوں کا اظہار پیر کے روز یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر نوائے صبح کمپلیکس پر صوبائی سطح کے ایک غیر معمولی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا ’جولوگ کسی غلط فہمی کا شکار ہیں کہ ہم تھرڈ فرنٹ، فورتھ فرنٹ یا کسی اورفرنٹ سے ڈرتے نہیں، اُنہیں اس غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہئے۔ 


انہوں نے کہا کہ شیر کشمیر نے بڑے بڑے فرنٹوں کا مقابلہ کیا، فاروق عبداللہ نے بھی کم فرنٹ نہیں دیکھے اورہم سے بھی چھوٹےموٹے فرنٹوں کا پالہ پڑا ہے، لائیں جتنے فرنٹ لانا ہے، اترئے میدان میں، ہم بھی دیکھتے ہیں کون کتنا پانی میں ہے؟‘۔ اجلاس میں پارٹی جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفےٰ کمال اور صوبائی صدرناصراسلم وانی کےعلاوہ صوبائی کمیٹی کے تمام ممبران نے شرکت کی۔

عمرعبداللہ نے کہا ’یہ کہنا کہ جموں وکشمیر کی سیاست پر شیخ خاندان یا کسی اور مخصوص خاندان کا حق ہے،غلط ہے۔ ہر کسی کو اپنی جماعت قائم کرنے اور عوام کے پاس جانے کا حق ہے، تاہم لوگوں کو ایسی کسی کوشش سے اجتناب کرنا چاہئے جس سے کشمیریوں کی آواز تقسیم اور بے وزن ہوجائے‘۔

عمر عبداللہ نے کہا کہ ہم کب کہتے ہیں کہ ہم فرشتے ہیں، ہم سے غلطی نہیں ہوئی، لیکن ہم نے اپنے غلطیاں چھپانے کی کوشش نہیں کی، ہم نے اپنی غلطیاں کسی اور کے سرنہیں تھوپیں، ہم نے تسلیم کہا کہ ہماری غلطی سے 2010کے حالات برپا ہوئے،لیکن ہم نے ان غلطیوں سے سیکھا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ ایسے حالات دوبارہ نہ پنپنے،  2010کے بعد ہم نے یقینی بنایا کہ 2011میں ایک بھی شہری ہلاکت نہیں ہوئی، ریکارڈ توڑ سیاح واردِ کشمیر ہوئے، پنچایت الیکشن ہوئے، کاروبار عروج پکڑنے لگا اور تعمیر و ترقی کا دور دورہ تھا ۔
محبوبہ مفتی کو ہدف تنقید بناتے ہوئےعمرعبداللہ نے کہا کہ جو کل تک حکومت کررہے ہیں، اُن کی آنکھیں آج تک نہیں کھلی، وہ آج بھی اپنی غلطیاں نہیں مانتی۔ گذشتہ دنوں محبوبہ مفتی نے ایک انٹرویو میں نئی دلی سے لیکر نیشنل کانفرنس تک الزامات عائد کئے، لیکن اپنی ایک بھی غلطی تسلیم نہیں کی۔
انہوں نے کہا ’محبوبہ جی نیشنل کانفرنس پر جھوٹے الزامات عائد کرنا بند کیجئے، ہم نے جو کیا سو کیا، ہم نے اس کا خمیازہ 2014میں بھگتا، آپ اپنی بتائے، آپ نے بی جے پی کے ساتھ ساڑھے 3سالہ حکمرانی میں کیا کیا؟ اُس کا حساب تو دیجئے؟آپ نے لوگوں کی بہتری کےلئے اپنی کرسی کا استعمال کہاں کیا؟ امن کی مضبوطی، حریت کے ساتھ بات چیت، پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات، تبدیلی، بے روزگاری کا خاتمہ اور خصوصی پوزیشن پر جوں کی توں پوزیشن کے وعدوں کا کیا ہوا؟ جہلم اور فلڈ چینلوں کی ڈریجنگ کے پروگراموں کا کیا ہوا؟ 2014میں تو 7روز تک دن رات لگاتار بارشیں ہوئیں،آج تو2دن کی بارشوں سے سیلابی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے ۔
امن کا حال ہمارے سامنے ہے، کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب کہیں نہ کہیں خون خرابہ نہیں ہوتا‘۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ محبوبہ مفتی اور پی ڈی پی آج بھی ڈرامہ بازی سے باز نہیں آرہے ہیں، یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں کشمیرکے مفادات کا دفاع کرنے کےلئے حکومت سے ہاتھ دھونے پڑے۔ اس سے بڑا مذاق میں نے حالیہ دور میں نہیں سُنا۔ یہاں آپریشن آل آؤٹ ہوا، کرانے والے یہ لوگ تھے، لوگ لگاتار مارے گئے۔


 
First published: Jul 16, 2018 07:42 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading