ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

بلدیاتی و پنچایتی انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ مجبوراً کرنا پڑا: عمر عبداللہ

عمر عبداللہ نے کہا کہ کشمیر میں حالات بہتر ہونے کے بجائے دن بہ دن بدتر ہوتے جارہے ہیں، بگڑتی ہوئی صورتحال کو دیکھ کر ڈر لگتا ہے اور دفعہ 35اے کے خلاف سازشوں نے غیر یقینیت کو مزید بڑھا دیا ہے‘۔

  • UNI
  • Last Updated: Sep 22, 2018 05:52 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
بلدیاتی و پنچایتی انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ مجبوراً کرنا پڑا: عمر عبداللہ
نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ: فائل فوٹو۔

 نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا کہ ہمیں بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ مجبوراً کرنا پڑا۔ بقول عمر عبداللہ ’مرکز کو اپنی بات سنانے کا اور کوئی راستہ باقی نہیں رہ گیا تھا‘۔ ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے اپنے دورہ لداخ کے دوران نوبرہ میں پنامک اور سومر میں پارٹی عہدیداروں کے الگ الگ اجلاسوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔


انہوں نے کہا کہ ’دفعہ 35 اے کے ساتھ سب کچھ جڑا ہو ا ہے، ہم نے پنچایت اور بلدیاتی انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ ہمارے پاس اب مرکز کو اپنی بات سنانے کا اور کوئی طریقہ باقی نہیں رہ گیا تھا۔ ہم نے مرکز کو سمجھانے کا ہر ایک طریقہ اختیار کیا لیکن نئی دلی نے سب کچھ ان دیکھا اور ان سنا کردیا۔ انتخابات سے دور رہنے کا فیصلہ ہمارے لئے آسان نہیں تھا، ہمیں مجبوراً ایسا کرنا پڑا۔ کیونکہ ہم ریاست کو درپیش خطرات کو بخوبی پہچانتے ہیں اور ان خطروں (دفعہ 35 اے) کے بارے میں ہم نے لوگوں میں جانکاری مہم چلائی۔ آپ کو بھی سمجھایا اور ہم اُمید کرتے ہیں آپ بھی یہ مہم آگے لے جائیں گے اور اس خطرے سے ریاست کو بچانے میں اپنا رول نبھائیں گے‘۔


انہوں نے کہا ’الیکشن کب ہوں گے اور کن حالات میں ہوں گے ابھی اس کے بارے میں کچھ کہنامشکل ہے۔ کشمیر میں حالات بہتر ہونے کے بجائے دن بہ دن بدتر ہوتے جارہے ہیں، بگڑتی ہوئی صورتحال کو دیکھ کر ڈر لگتا ہے اور دفعہ 35اے کے خلاف سازشوں نے غیر یقینیت کو مزید بڑھا دیا ہے‘۔


عمر عبداللہ نے کہا کہ ہماری ہمیشہ سے یہی کوشش رہی ہے کہ دور دراز اور خوبصورت علاقہ ترقی کرے اور یہاں کے لوگوں کی زندگی خوشحال بنے۔ انہوں نے کہا ’جب نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ سابق مرکزی حکومت میں وزیر تھے اُن کے ساتھ میں نے یہاں کے کئی دورے کئے اور یہ کوششیں کی کہ کسی طرح یہاں سولر کا استعمال ہو، کسی طرح سے یہاں چھوٹے چھوٹے ہائیڈل پروجیکٹس لگیں، کچھ شروع ہوئے لیکن کچھ بدقسمتی سے پائے تکمیل تک نہیں پہنچ پائے ہیں اور میں یہی جاننا چاہتا ہوں کہ آپ کے ساتھ بلند بانگ دعوے کرنے والوں نے ساڑھے 4سال میں یہاں کیا کیا؟ مجھے نہیں لگتا یہاں کوئی بہتری آئی ہے۔ سڑک ، پانی ، بجلی کا حال وہی ہے جو 2015میں تھا۔ ہم نے لوگوں کی آسانی کیلئے نئے انتظامی یونٹ قائم کئے لیکن ہمارے بعد کی سرکار نے آج تک ان کو فعال بنانے کیلئے کام نہیں کیا‘۔


First published: Sep 22, 2018 05:52 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading