ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

مزدور تنظیموں کی ملک گیر ہڑتال سے 25 ہزار کروڑ کا نقصان ، معمولات زندگی بھی درہم برہم

ملک کی اہم مزدور تنظیموں کی آج ملک گیر ہڑتال سے بینکنگ، کوئلہ ، سیمنٹ ، بجلی کی سپلائی، تیل اور گیس ، ٹرانسپورٹ، اسٹوریج اور بندرگا ہ وغیرہ شعبوں میں کام کاج متاثر ہونے سے تقریباََ25 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا خدشہ ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Sep 02, 2015 07:23 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
مزدور تنظیموں کی ملک گیر ہڑتال سے 25 ہزار کروڑ کا نقصان ، معمولات زندگی بھی درہم برہم
ملک کی اہم مزدور تنظیموں کی آج ملک گیر ہڑتال سے بینکنگ، کوئلہ ، سیمنٹ ، بجلی کی سپلائی، تیل اور گیس ، ٹرانسپورٹ، اسٹوریج اور بندرگا ہ وغیرہ شعبوں میں کام کاج متاثر ہونے سے تقریباََ25 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا خدشہ ہے۔

نئی دہلی : ملک کی اہم مزدور تنظیموں کی آج ملک گیر ہڑتال سے بینکنگ، کوئلہ ، سیمنٹ ، بجلی کی سپلائی، تیل اور گیس ، ٹرانسپورٹ، اسٹوریج اور بندرگا ہ وغیرہ شعبوں میں کام کاج متاثر ہونے سے تقریباََ25 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا خدشہ ہے۔ صنعتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ مزدور یونینوں کی ایک دن کی ہڑتال سے کروڑوں روپے کا نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔ اس سے تمام ضروری خدمات متاثر ہونے کی خبریں مل رہی ہیں۔


صنعتی سیکٹر میں پیداوار بند ہے اور بندرگاہوں پر مال کالداو نہیں ہوپارہا ہے، حالانکہ ریلوے کو ہڑتال سے باہر رکھا گیا ہے۔ انجینئرنگ ایکسپورٹ پروموشن کاونسل کا کہنا ہے کہ ہڑتال سے پورے ایکسپورٹ سیکٹر کو ایک ارب ڈالر کا نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔ انجینئرنگ مصنوعات کا دس کروڑ ڈالر نقصان ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔


نریندر مودی حکومت پر مزدور مخالف پالیسیاں اپنانے کا الزام لگاتے ہوئے دس اہم مزدور تنظیموں انٹک، ایٹک، ایچ ایم ایس، سیٹو، آئی یو ٹی یو سی ، ٹی یو سی سی ، سیوا،آے آئی سی سی یو، یو ٹی یو سی اور ایل پی ایف ملک گیر سطح ہڑتال پر ہیں ۔ ان مزدور تنظیموں سے تقریباََ سولہ کروڑ مزدور وابستہ ہیں۔ حالانکہ بی جے پی سے وابستہ تنظیم بھارتیہ مزدور سنگھ اس میں شامل نہیں ہے۔


دریں اثنا تمام ریاستوں سے ہڑتال کے سبب معمولات زندگی متاثر ہونے کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔ حالانکہ ہڑتال کا اثر مختلف ریاستوں میں الگ الگ رہا ۔ ہڑتال سے انشورنس، انکم ٹیکس محکمہ، بینکنگ ، کوئلہ، سیمنٹ، بجلی کی سپلائی، تیل اور گیس ٹرانسپورٹ، بندرگاہ وغیرہ شعبوں میں کام کاج متاثر ہوا ۔ اسٹیٹ بینک آف انڈیا اور انڈین اوورسیز بینک کے ملازمین ہڑتال میں شامل نہیں ہوئے۔ ریزرو بینک کا کام کاج بھی ہڑتال کی وجہ سے متاثر ہوا۔


ٹریڈ یونینوں کے وفاق سیٹو نے ایک بیان جاری کرکے کہا کہ ہڑتال پوری طرح سے کامیاب اور غیر معمولی رہا۔ سیٹو کے جنرل سکریٹری تپن سین نے بتایا کہ مغربی بنگال، آسام، جموں و کشمیر میں مزدوروں پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا او رگرفتاریاں کی گئیں۔ مدھیہ پردیش، کیرل ، تریپورا، اوڈیشہ، آندھراپردیش، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور کرناٹک میں معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے۔کیرل اور کرناٹک اور پنجاب میں سرکاری بسیں نہیں چلیں۔


دہلی کے صنعتی علاقوں میں بھی ہڑتال کا اثر دکھائی دیا۔ ہڑتال سے متاثرہ علاقوں میں دھرنے اور مظاہرے کئے گئے۔ کئی مقامات پر راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور ریلوے سروس کو بھی روکنے کی کوشش کی گئی جس کی وجہ سے پولیس کو لاٹھی چارج کرنا پڑا ۔ ہڑتال میں کسان، کھیت مزدور اور قبائلی تنظیموں نے بھی حصہ لیا۔


خیال رہے کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ملک کی معیشت کی ترقی کی شرح امید سے کم رہنے سے حکومت فکر مند ہے ۔ ایسے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو اقتصادی اصلاحات کی رفتار تیز کرنی ہوگی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ روزگار پیدا کئے جاسکیں۔


حکومت نے اسے مدنظر رکھتے ہوئے موجودہ 44لیبر قوانین میں تخفیف کرکے اسے کم کردیا ہے ۔ اس کے علاوہ وہ نئی لیبر پالیسی بنانے کی تیاری بھی کررہی ہے تاکہ کمپنیوں کو کاروبار کرنے میں سہولت ہو۔صنعتی گھرانوں کا کہنا ہے کہ ملک کے40مرکزی لیبر قوانین اور ریاستوں کے تقریباََ ڈیڑھ سو لیبر قوانین پرائیوٹ سرمایہ کاری کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔


عالمی بینک نے بھی تسلیم کیا ہے کہ ہندوستان میں لیبر قوانین کافی پیچیدہ ہیں ۔ حکومت کے لئے ا س میں سدھار کرنا کافی مشکل ثابت ہورہا ہے ۔دوسری طرف مزدور تنظیموں کی طرف سے مخالف سے یہ راستہ مزید دشوار ہورہا ہے۔

First published: Sep 02, 2015 07:23 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading