உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Mortality Rate: ہندوستان میں ہر 36 میں سے ایک شیرخوار خطرہ میں! پہلی سالگرہ سے پہلے ہی موت سے دوچار

    وہ کسی ایک خطہ یا ملک کے اعداد و شمار ہوتے ہیں

    وہ کسی ایک خطہ یا ملک کے اعداد و شمار ہوتے ہیں

    بچوں کی اموات کی شرح (IMR) کسی ملک یا خطے کے مجموعی صحت کو جاننے میں مددگار ہوتا ہے۔ یہ عالمی سطح پر بھی ایک اہم ذریعہ ہے، جس سے کسی بھی ملک میں صحت کی صورت حال کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

    • Share this:
      گزشتہ چند دہائیوں میں بچوں کی شرح اموات میں کمی کے باوجود سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان میں اب بھی ہر 36 میں سے ایک بچہ اپنی زندگی کے پہلے سال کے اندر ہی مر جاتا ہے۔

      بچوں کی اموات کی شرح (IMR) کسی ملک یا خطے کے مجموعی صحت کو جاننے میں مددگار ہوتا ہے۔ یہ عالمی سطح پر بھی ایک اہم ذریعہ ہے، جس سے کسی بھی ملک میں صحت کی صورت حال کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اس کی تعریف یوں کی گئی ہے کہ ایک مقررہ مدت میں ہر ایک ہزار بچوں کی پیدائش میں بچوں کی اموات (ایک سال سے کم عرضہ میں) کے طور پر کی جاتی ہے۔ وہ کسی ایک خطہ یا ملک کے اعداد و شمار ہوتے ہیں۔

      رجسٹرار جنرل آف انڈیا کے جاری کردہ نئے اعداد و شمار کے مطابق آئی ایم آر کی موجودہ سطح (سال 2022 میں 28 بچوں کی اموات فی ہزار زندہ پیدائش) 1971 کے مقابلے میں ایک چوتھائی سے بھی کم ہے (فی ہزار زندہ پیدائشوں میں 129 بچوں کی اموات۔ )۔ پچھلے 10 سال میں آئی ایم آر میں تقریباً 36 بچوں کی کمی دیکھی گئی ہے اور کل ہند سطح پر آئی ایم آر پچھلی دہائی میں 44 بچوں سے گھٹ کر 28 بچوں پر آ گیا ہے۔

      دیہی علاقوں میں اسی طرح کی کمی 48 فیصد سے 31 فیصد ہے اور شہری علاقوں کے لیے یہ 29 سے 19 تک ہے، اس طرح بالترتیب تقریباً 35 فیصد اور 34 فیصد دہائی کی کمی ظاہر ہوتی ہے۔ تاہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پچھلی دہائیوں میں بچوں کی اموات کی شرح میں کمی کے باوجود ہر 36 میں سے ایک شیرخوار قومی سطح پر اپنی زندگی کے پہلے سال کے اندر مر جاتا ہے، وہ چاہے دیہی علاقہ کا ہو یا شہری علاقہ کا ہوا۔

      سال 2020 میں زیادہ سے زیادہ بچوں کی اموات کی شرح مدھیہ پردیش (43) اور میزورم کے لیے کم سے کم (3) رپورٹ کی گئی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ کل ہند سطح پر شرح پیدائش گزشتہ پانچ دہائیوں میں 1971 میں 36.9 سے کم ہو کر 2020 میں 19.5 ہو گئی ہے۔

      مزید پڑھیں: گیان واپی کو لے کر RSS سربراہ موہن بھاگوت کے بیان پر جماعت اسلامی نے کہی یہ بڑی بات

      ان سال میں دیہی اور شہری فرق بھی کم ہو گیا ہے۔ تاہم گزشتہ پانچ دہائیوں میں شہری علاقوں کے مقابلے دیہی علاقوں میں شرح پیدائش میں اضافہ جاری ہے۔ پچھلی دہائی میں شرح پیدائش میں تقریباً 11 فیصد کمی آئی ہے، جو 2011 میں 21.8 سے 2020 میں 19.5 تک پہنچ گئی ہے۔ دیہی علاقوں میں اسی طرح کی کمی 23.3 سے 21.1 (تقریباً 9 فیصد کی کمی) ہے اور شہری علاقوں میں یہ 17 سے 16 تک ہے۔

      مزید پڑھیں: Minorities Commission:سپریم کورٹ میں اقلیتی کمیشن کی دفعہ کی قانونی حیثیت کو چیلنج، دیوکی نندن ٹھاکر نے داخل کی عرضی

      شرح پیدائش آبادی کی افزائش کا ایک خام پیمانہ ہے اور آبادی میں اضافے کا ایک اہم عامل ہے۔ یہ ایک مخصوص علاقے اور سال میں فی ہزار آبادی میں زندہ پیدائشوں کی تعداد دیتا ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: