ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

سابق فوجیوں نے میڈل لوٹانے شروع کئے،پاریکر نے کہا،سابق فوجیوں کا تمغہ واپس کرنا غیر مناسب

نئی دہلی ۔ حکومت کے ذریعہ نوٹیفائی ایک رینک ایک پنشن سے غیر مطئمن سابق فوجیوں نے آج سےبڑی تعداد میں اپنے میڈل لوٹانے شروع کئے۔

  • UNI
  • Last Updated: Nov 11, 2015 09:37 AM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
سابق فوجیوں نے میڈل لوٹانے شروع کئے،پاریکر نے کہا،سابق فوجیوں کا تمغہ واپس کرنا غیر مناسب
نئی دہلی ۔ حکومت کے ذریعہ نوٹیفائی ایک رینک ایک پنشن سے غیر مطئمن سابق فوجیوں نے آج سےبڑی تعداد میں اپنے میڈل لوٹانے شروع کئے۔

نئی دہلی ۔ حکومت کے ذریعہ نوٹیفائی ایک رینک ایک پنشن سے غیر مطئمن سابق فوجیوں نے بڑی تعداد میں اپنے میڈل لوٹانے شروع کئے۔ حکومت نے حال ہی میں ایک رینک ایک پنشن کے سلسلہ میں نوٹیفکیشن جاری کیا تھا لیکن سابق فوجیوں نے اسے نامکمل قرار دیتے ہوئے اسے ماننے سے انکار کردیا تھا۔ سابق فوجیوں کی مشترکہ تنظیم کی قیادت میں ایک رینک ایک پنشن کےمطالبہ پر زور دینےکےلئے 190 دنوں سے یہاں جنتر منتر پردھرنا دیا جارہا ہے۔ سابق فوجیوں نےکہا تھا کہ وہ منگل کی شام سے ملک بھر میں 14 مقامات پر میڈل لوٹانے کا پروگرام شروع کریں گے۔


دریں اثنا وزیر دفاع منوہر پاریکر نے سابق فوجیوں کے اس قوم کو نامناسب قرار دیتے ہوئے ان سے میڈل نہیں لوٹانےکی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے نوٹیفیکیشن جاری کرکے اپنا کام کردیا ہے۔ اگر کسی کو کوئی شکایت ہے تو ہ واس سلسلہ میں قائم کمیشن سےرجوع کرسکتا ہے۔


وزیر دفاع  نے  کہا کہ یہ غیر منصفانہ ہے اور فوجی کو زیب نہیں دیتا۔ دوسری طرف  اوآراوپي پر حکومت کے نوٹیفکیشن سے غیر مطمئن سابق فوجیوں کی تنظیم کی قیادت کرنے والے سبکدوش میجر جنرل ستبير سنگھ نے کہا تھا کہ ملک بھر میں 14 مقامات پر سابق فوجی منگل کی شام سے اپنے تمغے لوٹائيں گے۔ سابق فوجیوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے ان تمام مطالبات کو نہیں مانا ہے اور وہ اوآراوپي کی نوٹیفیکیشن سے مطمئن نہیں ہیں۔


مسٹر پاریکر نے واسکو دی ڈے گاما میں کوسٹ گارڈ فورس کے جہاز ’’سمرتھ‘‘ کے کمیشن کے بعد کہا کہ حکومت کا کام او آراوپي سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کرنا تھا جو ہو گیا ہے اب جو بھی مسئلہ ہے اس کا حل متعلقہ کمیشن کے پاس اپنی بات رکھنے سے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بھوک ہڑتال اور احتجاج سب کا جمہوری حق ہے لیکن تمغہ لوٹانے کی بات ان کی سمجھ سے باہر ہے اور لگتا ہے کہ وہ الجھن میں ہیں۔ وزیر دفاع نے کہا کہ اوآراوپي کو لاگو کرنا آسان کام نہیں تھا اور یہ ان کی بڑی کامیابی ہے۔ اس مطالبے پر گزشتہ 50 برسوں میں غور نہیں کیا گیا تھا اور اب اسے مان لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق فوجیوں کے زیادہ تر مطالبات مان لئے گئے ہیں اور اب اگر انہیں کوئی مسئلہ ہے تو اس سلسلے میں قائم کیے جانے والے کمیشن کے سامنے میں اس کو رکھا جانا چاہئے۔ اس کے لئے تمغہ لوٹانے کی ضرورت نہیں ہے۔


First published: Nov 11, 2015 09:37 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading