உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کسانوں کا ایک سال کا آندولن،حکومت کے خرچ ہوگئے7کروڑ روپے،جانیے کیسے

    دلی پولیس نے اگست 2020 سے اب تک دلی کی سرحدوں میں کسانوں کے دھرنے کے مقامات پر سیکورٹی دینے کے لئے کتنی رقم خرچ کی ہے۔

    دلی پولیس نے اگست 2020 سے اب تک دلی کی سرحدوں میں کسانوں کے دھرنے کے مقامات پر سیکورٹی دینے کے لئے کتنی رقم خرچ کی ہے۔

    قومی دارالحکومت کی سرحدوں پر آندولن میں جان گنوانے والے کسانوں کی تعداد، اور مرکزی حکومت نے اُن کے لئے کوئی معاوضے کا اعلان کیا ہے؟ اگر نہیں، تو اس کے پیچھے کیا وجہ ہے؟

    • Share this:
      نئی دہلی: قومی دارالحکومت کے مختلف مقامات پر سیکورٹی دینے کے لئے دلی پویس (Delhi Police) نے مجموعی طور پر 7.38 کروڑ روپے خرچ کیے ہیں۔ مرکزی مملکتی وزیر داخلہ (MoS) نتیانند رائے نے پارلیمنٹ کو اس بات کی اطلاع دی ہے۔ بتادیں کہ دلی کی الگ الگ سرحدوں پر کسانوں کے احتجاجی مظاہرے (Farmer Protest) پچھلے ایک سال سے بھی زیادہ وقت سے جاری ہے۔ رکن پارلیمنٹ ایم محمد عبداللہ کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مملکتی وزیرداخلہ نتیانند رائے نے بتایا کہ دلی پولیس نے اگست 2020 سے اب تک دلی کی سرحدوں میں کسانوں کے دھرنے کے مقامات پر سیکورٹی دینے کے لئے کتنی رقم خرچ کی ہے۔

      یہ پوچھے جانے پر کہ قومی دارالحکومت کی سرحدوں پر آندولن میں جان گنوانے والے کسانوں کی تعداد، اور مرکزی حکومت نے اُن کے لئے کوئی معاوضے کا اعلان کیا ہے؟ اگر نہیں، تو اس کے پیچھے کیا وجہ ہے؟ اس پر انہوں نے کہا کہ ’’پولیس اور عوامی صورتحال ہندوستان کے آئین کی ساتویں شیڈیول کے مطابق ریاست کے موضوع ہیں۔ اس تعلق سے ج انکاری متعلقہ ریاستی حکومتوں کی جانب سے دی جاتی ہے۔‘‘

      ریاستیں دیکھتے ہیں معاوضوں سے جڑے معاملے
      مرکزی وزیر نے کہا کہ متعلقہ ریاستی حکومتیں - اس معاملے میں دلی اور جن ریاستوں کی سرحدیں اس کے ساتھ لگتی ہیں جیسے اُترپردیش اور ہریانہ، جہاں آندولن سرگرم ہے، کسانوں کی موت کے بارے میں جانکاری رکھتے ہیں اور اس طرح کے معاوضے سے متعلقہ ایشوز کو دیکھتے ہیں۔ اُن کی جانب سے تمام ایشوز حل کیے جاتے ہیں۔

      بتادیں کہ کسان آندولن، خاص طور سے دلی کے غازی پور، ٹیکری اور سنگھو بارڈر پر سرگرم ہے۔ پارلیمنٹ میں مرکز اور اپوزیشن کے درمیان حال ہی میں بڑے پیمانے پر ہنگامہ ہوا تھا جب مرکز نے کہا تھا کہ اُن کے پاس آندولن کے دوران جان گنوانے والے کسانوں کی تعداد کا کوئی ڈیٹا نہیں ہے۔ کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے کہا تھا کہ اُن کی پارٹی کے پاس آندولن کے دوران مارے گئے 700 لوگوں کی لسٹ ہے۔


      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: