உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ملک میں پھر پیاز کے بحران کے آثار ، دو سال میں سب سے زیادہ مہنگی ہوئی پیاز

    بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کے لئے پیاز ایک بار پھر مصیبت بن کر سامنے آ رہا ہے ۔

    بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کے لئے پیاز ایک بار پھر مصیبت بن کر سامنے آ رہا ہے ۔

    بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کے لئے پیاز ایک بار پھر مصیبت بن کر سامنے آ رہا ہے ۔

    • Share this:

      نئی دہلی : بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کے لئے پیاز ایک بار پھر مصیبت بن کر سامنے آ رہا ہے ۔ آج اس کی قیمت آسمان پر پہنچ گئی ۔ ناسک کی لاسل گاوں منڈی میں پیاز کی قیمتیں دو سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں ۔ آج پیاز کی قیمت 4900 روپے فی کوئنٹل تک پہنچ گئی ۔  ناسک کی لاسل گاوں منڈی ملک بھر میں پیاز کی سب سے بڑی منڈی ہے ۔ یہاں سے ہی ملک بھر میں پیاز کے دام طے ہوتے ہیں ۔ آج صرف ایک دن میں پیاز کی قیمت میں 400 روپے فی کوئنٹل کو اچھال آیا ہے ۔


      حکومت کے تمام دعووں کے باوجود پیاز کے دام آسمان چھو رہے ہیں ۔ جہاں پیاز کھانے والوں کی پلیٹ سے پیاز غائب ہو رہا ہے  وہیں  خریداروں کا کہنا ہے کہ پیاز کی فراہمی کم ہونے کی وجہ سے دیمانڈ بڑھ رہی ہے ۔ دہلی کی بات کریں تو اوکھلا منڈی میں پیاز کی تھوک میں 50 سے 60 روپے کلو تک فروخت ہو رہا ہے ۔ اس کی وجہ سے خوردہ مارکیٹ میں بھی پیاز کی قیمت میں تیزی آگئی ہے اور دہلی کے بازاروں میں پیاز 60 سے 70 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے اور امکان ہے کہ ریٹیل مارکیٹ میں پیاز کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے ۔


      شمالی ہندوستان کے زیادہ تر حصوں میں لاسل گاوں سے ہی پیاز آتا ہے ۔ اس کے علاوہ کرناٹک میں بھی پیاز کی اچھی پیداوار ہوتی ہے ، لیکن مہاراشٹر کی طرح کرناٹک میں بھی کمزور مانسون کی وجہ سے پیاز کی پیداوار متاثر ہوئی ہے ۔ ان دونوں ریاستوں کے علاوہ گجرات، اتر پردیش، تمل ناڈو، آندھرا پردیش اور مغربی بنگال میں بھی پیاز کی پیداوار ہوتی ہے ۔ دو ہفتے قبل تک پیاز 20 روپے کلو فروخت ہو رہا تھا  کہ اچانک اس  کے دام 60-70 فی کلو تک پہنچ گئے ۔

      First published: