ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

تو اس لئے نہیں مل پاتا ریلوے کا تتکال ٹکٹ، 30 سیکنڈ میں ہو جاتا ہے کھیل

نئی دہلی۔ دسہرہ اور دیوالی آنے والی ہے۔ اس وقت ریلوے میں کنفرم ٹکٹ ملنا ناممکن ہی ہے۔

  • IBN7
  • Last Updated: Oct 16, 2015 10:02 AM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
تو اس لئے نہیں مل پاتا ریلوے کا تتکال ٹکٹ، 30 سیکنڈ میں ہو جاتا ہے کھیل
نئی دہلی۔ دسہرہ اور دیوالی آنے والی ہے۔ اس وقت ریلوے میں کنفرم ٹکٹ ملنا ناممکن ہی ہے۔

نئی دہلی۔ دسہرہ اور دیوالی آنے والی ہے۔ اس وقت ریلوے میں کنفرم ٹکٹ ملنا ناممکن ہی ہے۔ آئی آر سی ٹی سی کی ویب سائٹ پر آپ نے بھی فوری طور پر ریلوے ٹکٹ بک کرانے کی تمام کوششیں کی ہوں گی، لیکن آپ میں سے زیادہ تر لوگوں کی کوشش ناکام ثابت ہوتی ہوگی۔ دراصل ایک ایسا سافٹ ویئر ہے جو آپ کے ٹکٹ بک کرنے سے پہلے ہی سارے ٹکٹ 'ہڑپ' کر لیتا ہے۔ ملک بھر میں 4000 سے زیادہ ایجنٹ ہیں جو اس سافٹ ویئر کی مدد سے 30 سیکنڈ میں ہی سارے ٹکٹ بک کر لیتے ہیں۔ یہ کھیل گزشتہ چار سال سے چل رہا ہے۔


ریلوے کے تتکال ریزرویشن سے منسلک ایک بہت بڑا انکشاف آئی بی این سیون نے کیا ہے۔ صرف 30 سیکنڈ میں ریلوے کی تتکال ٹکٹ بکنگ میں بہت بڑا کھیل ہوتا ہے۔ اس کے لئے آئی بی این سیون نے جانچ پڑتال کی۔ دہلی کے نظام الدین ریلوے اسٹیشن پر ایک ریلوے کے ٹریول ایجنٹ پی ایل تیواری نے تھوڑی دیر کی بات چیت کے بعد اس پورے سیاہ کھیل کی کہانی بتائی۔ اس ایجنٹ نے بتایا کہ یہ پورا کھیل ایک سافٹ ویئر کے ذریعے ہو رہا ہے۔ ایجنٹ نے بتایا کہ وہ سافٹ ویئر انہیں کوئی انجان شخص دیتا ہے، جس کے بدلے ہر ماہ موٹی رقم وصول کی جاتی ہے۔ سافٹ ویئر دینے والا کون ہے، یہ ایجنٹ بھی نہیں جانتے۔ یہ ایجنٹ اس شخص کے ہاتھوں کی محض ایک کٹھ پتلی ہیں۔ ایسے چھوٹے موٹے ٹریول ایجنٹ صرف ایک مہرہ ہیں۔


اس سافٹ ویئر کا نام ہے نیو چائنا۔ اس سافٹ ویئر کے بعد ایجنٹ کو آئی آر سی ٹی سی کی ویب سائٹ پر جانے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ تتکال بکنگ شروع ہونے کے چند سیکنڈ پہلے وہ ایجنٹ صرف ایک کلک کرتا ہے اور آپ کے حصے کا ٹکٹ کسی اور کے نام ہو جاتا ہے۔ اس میں پانچ کالم دکھائی دیتے ہیں۔ آئی ڈی، بینک، ٹکٹ، ٹول اور آٹو۔ اس سافٹ ویئر میں تتکال ٹکٹ بکنگ میں بھرے جانے والے وہ سارے آپشن موجود ہیں۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے ویب سائٹ میں ہوتے ہیں۔ یعنی نام، عمر، جنس، ٹرین نمبر اور کلاس۔


آپ کے ٹکٹ سے وابستہ تمام معلومات اسی سافٹ ویئر میں موجود فارم میں بھری جاتی ہیں۔ اس سافٹ ویئر کے لئے آئی آر سی ٹی سی کی لاگ ان کی آئی ڈی بھی درج کرنا ہوگی۔ یہ تمام معلومات اس سافٹ ویئر میں پہلے ہی محفوظ کی جاتی ہیں۔ یہاں تک کہ آئی آر سی ٹی سی کو ٹکٹ کے رقم کی ادائیگی کے لئے بینک تفصیلات بھی اسی فارم میں سیو یعنی محفوظ کی جاتی ہیں۔ تتکال ٹکٹ کی بکنگ کا وقت شروع ہونے سے ٹھیک دو منٹ پہلے اس سافٹ ویئر پر بکنگ کا آپشن آن کر دیا جاتا ہے۔ اس آپشن کو آن کرنے کے بعد صارف کو ایک سی اے پی سی ایچ اے بھرنا ہوتا ہے۔ جیسے ہی تتکال بکنگ کا وقت شروع ہوتا ہے، مسافر اور بینک کی تمام معلومات سے لیس یہ سافٹ ویئر صرف 30 سیکنڈ کے اندر اندر ہی سارے ٹکٹ 100 فیصد ضمانت کے ساتھ بک کروا دیتا ہے۔

یعنی جب تک آپ آئی آر سی ٹی سی کی ویب سائٹ پر اپنی تفصیلات بھرتے ہیں، جب تک آپ رقم کی ادائیگی کے عمل کو شروع کرتے ہیں، تب تک یہ سافٹ ویئر آپ کی آنکھوں کے سامنے سے اپنا ٹکٹ چوری کر لیتا ہے اور آئی آر سی ٹی سی  کی سائٹ پر آپ کو ویٹنگ کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ حالانکہ اس سافٹ ویئر کو بنانے والے بے ایمانی کا یہ کھیل بھی پوری ایمانداری سے کرتے ہیں۔ ٹکٹ کا پیسہ ریلوے کے اکاؤنٹ میں ہی جاتا ہے۔ مطلب سرکاری خزانے کو کوئی چونا نہیں لگتا۔ سوال صرف اتنا ہے کہ یہ سافٹ ویئر آئی آر سی ٹی سی کی ویب سائٹ پر جڑ کروقت کی کچھ ایسی دھاندلی کرتا ہے کہ عوام خالی ہاتھ رہ جاتے ہیں۔

اس سافٹ ویئر کو بنانے والے آج تک سامنے نہیں آئے۔ وہ لوگ صرف آن لائن ڈیلنگ کرتے ہیں۔ رہی بات سافٹ ویئر خریدنے کی، تو یہ سافٹ ویئر کسی ایجنٹ کو فروخت نہیں کیا جاتا، بلکہ انہیں کرایہ پر دیا جاتا ہے۔ دو پی این آر والے سافٹ ویئر کا ایک ماہ کا کرایہ ہے 3000 روپے۔ ایسے ہی دس پی این آر والے سافٹ ویئر کا کرایہ ہے 10 ہزار روپے مہینہ۔ دو پی این آر والے سافٹ ویئر سے ایک بار میں 8 ٹکٹیں بک ہوسکتی ہیں، جبکہ 10 پی این آر والے سافٹ ویئر سے ایک بار میں 40 ٹکٹیں بک ہو سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ٹریول ایجنٹ 500 سے 1000 روپے کی زیادہ رقم پر آپ کو کنفرم ٹکٹ کا بھروسہ دلاتے ہیں۔ کیونکہ ٹریول ایجنٹ کو اپنے منافع کا ایک بڑا حصہ اس سافٹ ویئر کے کرایہ کے طور پر بھی دینا ہوتا ہے۔

آئی بی این سیون کے آکاش سونی کی رپورٹ
First published: Oct 16, 2015 10:02 AM IST