உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اپوزیشن نے کیجریوال کے دفتر پر چھاپے کی مذمت کی، اسے سیاسی انتقام سے تعبیر کیا

    نئی دہلی۔ اپوزیشن پارٹیوں نے دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کے دفتر پر آج سی بی آئی کے چھاپے کو غلط قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی اور اسے غیر بی جے پی حکومت کے حقوق پر مودی حکومت کی صریح مداخلت بتایا۔

    نئی دہلی۔ اپوزیشن پارٹیوں نے دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کے دفتر پر آج سی بی آئی کے چھاپے کو غلط قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی اور اسے غیر بی جے پی حکومت کے حقوق پر مودی حکومت کی صریح مداخلت بتایا۔

    نئی دہلی۔ اپوزیشن پارٹیوں نے دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کے دفتر پر آج سی بی آئی کے چھاپے کو غلط قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی اور اسے غیر بی جے پی حکومت کے حقوق پر مودی حکومت کی صریح مداخلت بتایا۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی۔ اپوزیشن پارٹیوں نے دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کے دفتر پر آج سی بی آئی کے چھاپے کو غلط قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی اور اسے غیر بی جے پی حکومت کے حقوق پر مودی حکومت کی صریح مداخلت بتایا۔ مارکسی کمیونسٹ پارٹی ، جنتا دل یو او رترنمول کانگریس نے مسٹر کیجریوال کے دفتر پر سی بی آئی کے چھاپے پر اپنے ردعمل میں یہ تبصرہ کیا ہے۔


      جنتا د ل یو کے صدر شردیادو نے آج یہاں پارلیمنٹ احاطے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح سے سی بی آئی نے مسٹر کیجریوال کے دفتر پر چھاپہ مارا ہے وہ غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی اپنے چیف سکریٹری کے ذریعہ ہی ریاست کا نظم چلاتا ہے اور ان کے دفتر پر اس طرح چھاپہ مارنا غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ کم سے کم وزیر اعلی کو تو اس کی اطلاع دی ہی جانی چاہئے تھی۔ جنتا دل یو کے رہنما نے مزید کہا کہ سی بی آئی کے ذریعہ دفتر کو سیل کرنا تو اور بھی غلط ہے۔


      ترنمول کانگریس کے ڈیرک او برائن نے کہا کہ دہلی کے وزیر اعلی کے دفتر پر آج تو کل بہار کے وزیر اعلی کے دفتر پر اور پرسوں کسی اور وزیر اعلی کے دفتر پر چھاپہ مارا جائے گا۔ یہ تو غیر اعلانیہ ایمرجنسی کی طرح ہے ۔ ایسا تو پہلے کبھی بھی نہیں ہوا تھا۔ حکومت کو اس معاملے میں اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہئے۔


      سی پی ایم نے اپنے بیان میں کہا کہ جس طرح مسٹر کیجریوال کے دفتر پر چھاپہ مارا گیا ، اس کے پیچھے سیاسی انتقام کی بو آتی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر سی بی آئی کو کیجریوال کے چیف سکریٹری پر چھاپہ مارنا ہی تھا تو پہلے وزیر اعلی کو اطلاع دی جانی چاہئے تھی لیکن انہوں نے کوئی اطلاع نہیں دی ۔ مودی حکومت کی یہ کارروائی غیر بی جے پی ریاستوں کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

      First published: