உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کانگریس کی قیادت میں اپوزیشن پارٹیوں کی ٹیکس میں ترمیم کے سلسلے میں صدر سے ملاقات

    نئی دہلی۔ کانگریس کی قیادت میں 16 اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے ٹیکس ترمیمی بل لوک سبھا میں ہنگامہ کے درمیان بغیر بحث کے منظور کرائے جانے پر آج صدر پرنب مکھرجی سے ملاقات کر اپنی شکایت درج کرائی۔

    نئی دہلی۔ کانگریس کی قیادت میں 16 اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے ٹیکس ترمیمی بل لوک سبھا میں ہنگامہ کے درمیان بغیر بحث کے منظور کرائے جانے پر آج صدر پرنب مکھرجی سے ملاقات کر اپنی شکایت درج کرائی۔

    نئی دہلی۔ کانگریس کی قیادت میں 16 اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے ٹیکس ترمیمی بل لوک سبھا میں ہنگامہ کے درمیان بغیر بحث کے منظور کرائے جانے پر آج صدر پرنب مکھرجی سے ملاقات کر اپنی شکایت درج کرائی۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی۔ کانگریس کی قیادت میں 16 اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے ٹیکس ترمیمی بل لوک سبھا میں ہنگامہ کے درمیان بغیر بحث کے منظور کرائے جانے پر آج صدر پرنب مکھرجی سے ملاقات کر اپنی شکایت درج کرائی۔ صدر سے ملنے کے بعد کانگریس نائب صدر راہل گاندھی نے نامہ نگاروں سے کہا کہ صدر سے حکومت کی من مانی کی شکایت کی گئی۔ اپوزیشن کی آواز کو دبا کر بل منظور کیا گیا اور حکومت کے رویے سے لوگوں میں خوف کا ماحول ہے۔ لوک سبھا میں کانگریس کے لیڈر ملک ارجن كھرگے نے بتایا کہ صدر کو اس سلسلے میں ایک میمو رنڈم بھی سونپا گیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے صدر سے پارلیمنٹ میں حکومت کے کام کرنے کے طور طریقوں کی شکایت کی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پارلیمنٹ میں کم اور باہر زیادہ بولتے ہیں۔ حکومت نے ٹیکس ترمیمی بل منظور کرانے میں قوانین 81 اور 82 کی خلاف ورزی کی ہے۔


      کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے رہنما محمد سلیم نے کہا کہ پارلیمانی جمہوریت میں بل منظور کرانے کی واضح طریقہ موجود ہے۔ ان پارٹیوں نے راشٹرپتی بھون میں مسٹر مکھرجی سے ملاقات کرکے اس بات کی شکایت کی کہ اس بل کو بغیر بحث کے لوک سبھا میں منظور کرایا گیا اور اسے ’منی بل‘ کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ صدر سے ملنے والے اپوزیشن رہنماؤں میں مسٹر گاندھی اور مسٹر كھرگے کے علاوہ ترنمول کانگریس، ڈی ایم، سماجوادی پارٹی، بہوجن سماج پارٹی اور جھارکھنڈ مکتی مورچہ اور بایاں بازو کے رہنما شامل تھے۔
      منگل کو لوک سبھا میں جب وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے اس بل کو منظور کرانے کی کوشش کی تھی تو اپوزیشن جماعتوں نے اس کی سخت مخالفت کی تھی لیکن اسے شور -شرابے کے درمیان ہی منظور کر دیا گیا۔


      اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کئی بار عام بل کو بھی ’منی بل‘ کے طور پر لوک سبھا میں پیش کر رہی ہے تاکہ اگر وہ بل راجیہ سبھا سے نامنظور بھی ہو جائے تو اسے خود بخود منظورشدہ مان لیا جائے گا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ٹیکسیشن بل سے کالے دھن کا 50 فیصد سفید کیا جا سکتا ہے اس لئے اس بل پر بحث ہونی ضروری ہے لیکن حکومت نے ان کی اس دلیل کو نظر انداز کرتے ہوئے اس بل کو بغیر بحث کے منظور کرا لیا۔


      First published: