ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

تین طلاق بل پرپیرکوایک بارپھر جمع ہوں گی اپوزیشن پارٹیاں، راجیہ سبھا میں بل منظورہونا آسان نہیں

طلاق ثلاثہ بل پرغوروخوض کے لئے اپوزیشن پارٹیاں 31 دسمبرکوپارلیمنٹ میں جمع ہونے والی ہیں اوروہ طلاق ثلاثہ بل کی مخالفت کریں گی۔

  • Share this:
تین طلاق بل پرپیرکوایک بارپھر جمع ہوں گی اپوزیشن پارٹیاں، راجیہ سبھا میں بل منظورہونا آسان نہیں
علامتی تصویر

ملک میں فی الحال سیاسی موضوع بنے تین طلاق پرجمعرات کو لوک سبھا میں منظورکردیا گیا ہے۔ اب حکومت کی اصل آزمائش راجیہ سبھا میں ہونے والی ہے۔ اے این آئی کی خبرکے مطابق 'اب اس بل پربحث کے لئے اپوزیشن پارٹیاں 31 دسمبریعنی پیرکوپارلیمنٹ میں جمع ہونے والی ہیں۔


واضح رہے کہ جمعرات کولوک سبھا میں تین طلاق بل پربہت طویل بحث ہوئی تھی۔ شام تقریباً 7 بجے یہ بل لوک سبھا میں ووٹنگ کے بعد پاس کردیا گیا۔ اس بحث پرکانگریس اوراے آئی ڈی ایم سمیت اپوزیشن جماعتوں کے لیڈروں نے واک آوٹ کردیا تھا، جس پرکافی سیاست ہوئی۔


مسلم معاشرے میں ایک بارمیں تین طلاق کوروکنے کے لئے لایا گیا مسلم خواتین (شادی کے حقوق کی حفاظت) بل جمعرات کولوک سبھا سے پاس ہوگیا، اس کے حق میں 245 اورخلاف میں 11 ووٹ پڑے۔ ووٹنگ کے دوران کانگریس، اے آئی اے ڈی ایم کے، ڈی ایم کے اور سماجوادی پارٹی کے ارکان ایوان سے واک آوٹ کرگئے۔


حالانکہ اس پورے معاملے پرآل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ اوردیگرمسلم تنظیموں نے اس بل کی مخالفت کرتے ہوئے اسے مذہبی آزادی میں مداخلت قراردیا ہے۔ مسلم تنظیموں کے رہنماوں اورمسلم سیاسی لیڈروں نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ طلاق ثلاثہ پرحکومت کے ذریعہ لائے گئے بل کو ہرگزقبول نہیں کریں گے۔ اس معاملے میں قرآن کا قانون ہی ہمیں قابل قبول ہے۔

واضح رہے کہ پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس سیشن بھی پانچ جنوری کو ختم ہورہا ہے۔ ایسے میں حکومت کے سامنے یہ بڑا چیلنج ہوگا کہ راجیہ سبھا سے اس بل کومنظورکرایا جائے۔ اگراس باربھی بل راجیہ سبھا میں منظورنہیں ہوسکا توحکومت کو آرڈیننس کا سہارا لینا پڑے گا۔ 2019 لوک سبھا الیکشن سے قبل حکومت چاہے گی کہ اس بل کو منظورکرلیا جائے اور تشہیرکے دوران اسے ایک حصولیابی کے طورپرعوام کے درمیان موضوع بحث بنایا جائے۔
First published: Dec 30, 2018 06:58 PM IST