ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

میرٹھ ۔ عرس کے جلسے میں بھی سی اے اے اور این آر سی کی مخالفت

مقررین نے سی اے اے اور این آر سی کے خلاف سخت احتجاج درج کراتے ہوئے ملک گیر پیمانے پر جاری احتجاجی مظاہروں کی ہر طرح سے حمایت کا بھی اعلان کیا۔

  • Share this:
میرٹھ ۔ عرس کے جلسے میں بھی سی اے اے اور این آر سی کی مخالفت
عرس کے جلسے سے سی اے اے اور این آر سی کی مخالفت

میرٹھ ۔ سی اے اے اور این آر سی کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جہاں سڑکوں پر جاری ہے وہیں اب مذہبی اور سماجی تقریبات کے پلیٹ فارم بھی شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی مخالف مہم کا حصّہ بن رہے ہیں۔ آج میرٹھ میں بھی عرس جیلانی کے موقع پر مدرسہ اسلامیہ اندر کوٹ میں ایک جلسے کا انعقاد کیا گیا۔


جلسے سے خطاب کرتے ہوئے جہاں عالم دین شاہ غلام جیلانی کی سماجی اور مذہبی خدمات کا ذکر کیا گیا وہیں موجودہ پس منظر میں سی اے اے اور این آر سی جیسے اہم موضوعات پر بھی  اظہار خیال کیا گیا۔ مقررین نے سی اے اے اور این آر سی کے خلاف  سخت  احتجاج درج کراتے ہوئے ملک گیر پیمانے پر جاری احتجاجی مظاہروں کی ہر طرح سے حمایت کا بھی اعلان کیا۔ علماء کرام نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ عوام کی آواز کو لمبے وقت تک دبایا نہیں جا سکتا ہے۔


سی اے اے کے خلاف احتجاج: فائل فوٹو


خیال رہے کہ گزشتہ سال 12دسمبر کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے سی اے اے کے پاس ہوجانے اور پھر صدر جمہوریہ کے اس پر دستخط کے بعد سے ملک کے مختلف حصوں میں اس متنازع قانون کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ شہریت ترمیمی قانون 2019 تین پڑوسی ممالک پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے غیر قانونی طور پر  ہندوستان آنے والی چھ مذہبی اقلیتی برادریوں (ہندو، بدھ، جین، سکھ، پارسی اور مسیحی) کو شہریت دینے کی بات کرتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس میں مسلمانوں کو نہیں شامل کیا گیا ہے جو کہ جانبداری اور مذہب کی بنیاد پر بھید بھاؤ کا مظہر ہے۔
First published: Jan 25, 2020 05:38 PM IST